مووی ۔ 2007 اور 1971

ہفتہ 19 مئی 2007 کو ایم کیو ایم نے ایک پریس کانفرنس میں “کڑوا سچ” کے نام سے ایک وڈیو دکھا کر ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے 12 مئی کو توڑ پھوڑ اور مار دھاڑ کی ۔ اس وڈیو نے مجھے 36 سال پیچھے دھکیل دیا جب مجیب الرحمٰن کے پیروکار ایک وڈیو دکھا کر کہتے تھے کہ یہ دیکھو بنگالی عورتوں اور مردوں کو پاکستان کے حامیوں نے کس طرح ذبح کیا ہے ۔ یہ الزام اُردو بولنے والوں پر لگایا گیا تھا ۔ اُس وقت میرے جیسوں نے بھی اس وڈیو کو مصدقہ ثبوت سمجھا ۔

مجھے مئی 1976 میں ملک سے باہر تعینات کر دیا گیا ۔ وہاں اتفاق سے ایک شریف النفس بنگالی آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر فضلِ رحیم سے دوستی ہو گئی جو جلد ہی بہت گہری ہو گئی ۔ مارچ 1977 کی ایک شام میں بیوی بچوں سمیت ان کے گھر بیٹھے گپ سپ کر رہے تھے کہ کسی طرح 1971 کا ذکر آ گیا ۔ میں نے کہا “بنگالی بھائیوں پر واقعی بہت ظلم ہوا ۔ میں نے وڈیو دیکھی تھی”۔ ڈاکٹر بولا “تو آپ جیسے لوگ بھی اس وڈیو پر یقین رکھتے ہیں ؟ آپ نے اتنا بھی نہ سوچا کہ جس کی جان پر بنی ہوتی ہے کیا وہ کیمرہ لے کر وڈیو بنانے لگ جائے گا اور وہاں سے جان بچا کر بھاگنے کی کوشش نہیں کرے گا ؟”۔ چند لمحے وقفہ رہا کیونکہ ڈاکٹر کو شائد وہ خونی نظارے یاد آ گئے تھے جو اس نے دیکھے تھے اور میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب میں کیا کہوں ۔ ڈاکٹر نے سکوت توڑا اور جذباتی انداز میں بولا “اجمل بھائی ۔ لاکھوں مسلمانوں کے قتل کے ذمہ دار تین لوگ تھے ۔ ان میں سے دو کیفرِ کردار کو پہنچ چکے اور تیسرا بھی انشاء اللہ جلد انجام کو پہنچے گا اور اس کا انجام باقی دو سے بھی بُرا ہو گا”۔ میں نے کہا “مجیب الرحمٰن ۔ اندرا گاندھی اور جنرل یحیٰ”۔ ڈاکٹر بولا “نہیں ۔ بھُٹو”۔

میں نے استفسار کیا “وہ وڈیو پھر کس نے بنائی تھی ؟” ڈاکٹر بولا “مکتی باہنی والے جن میں بھارتی کمانڈو بھی شامل تھے محبِ وطن پاکستانیوں کو پکڑ کر لاتے تھے اور ان میں سے کچھ کے سامنے باقی سب کو ذبح کرتے اور وڈیو بناتے ۔ اس سے وہ دوہرا فائدہ حاصل کرتے ایک تو جن محبِ وطن بنگالیوں کو یہ سب کچھ دکھا کر چھوڑ دیتے وہ باقی ساتھیوں کو بتاتے جس سے مجیب الرحمٰن کی مخالفت سے لوگ ڈرنے لگے اور دوسرے اسی وڈیو سے باہر کی دنیا میں پروپیگنڈہ کرتے ۔ ویسے بعض اوقات شیخ مجیب الرحمٰن کے آدمیوں نے مخصوص حالات میں اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کیلئے کچھ اپنے آدمیوں کو بھی ہلاک کیا”۔ ڈاکٹر فضلِ رحیم کا سروس کنٹریکٹ 30 جون 1977 کو ختم ہوا اور وہ لوگ ہمیں مل کر 3 جولائی کو اپنے وطن روانہ ہو گئے اور 5 جولائی کو تیسرے کا انجام بھی شروع ہو گیا ۔

عصرِ حاضر میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی مدد سے کیا کچھ نہیں ہو سکتا اور ایک ہفتہ میں بہت کچھ کیا جا سکتا ہے ۔ اگر کچھ سال پیشتر ایک ہائی سکول کا پاکستانی لڑکا ایک وڈیو تیار کر سکتا ہے جس میں جارج بش کے چہرے پر لمبی داڑھی ہے اور سر پر پگڑی اور وہ اُردو زبان میں اقرار کر رہا ہے “میں جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہوتا ہوں”۔ تو اور کیا نہیں ہو سکتا ۔ کمال تو یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے جو منظر دکھائے ہیں ان تک کوئی ٹی وی والا نہ پہنچ سکا ۔ گویا [بقول ایم کیو ایم] سب ٹی وی چینل جھوٹے ہوئے ؟ ویسے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ کوئی مجھے ایم کیو ایم کے کسی مرد یا عورت کے ساتھ بحث کر کے جیت کر دکھا دے ۔ جب انہوں نے ماننا ہی نہیں ہے تو آپ جو جی چاہے کر لیجئے ۔

ایم کیو ایم والوں نے کڑوا سچ کے نام سے وڈیو تو دکھا دی مگر مندرجہ ذیل انتہائی کڑوے سوالوں کا جواب کون دے گا ؟

1 ۔ ایم کیو ایم نے اسی دن ریلی کیوں نکالی جس دن چیف جسٹس صاحب نے کراچی جانا تھا جب کہ چیف جسٹس صاحب کے سلسلہ میں اعلان پہلے ہو چکا تھا ؟
2 ۔ سندھ حکومت کے مشیرِ داخلہ نے ایک ٹی وی چینل پر کیوں کہا تھا کہ جس دن بھی چیف جسٹس آئے گا ہم اس دن ریلی نکالیں گے ؟
3 ۔ چیف جسٹس صاحب کی آمد سے 36 گھینٹے قبل کراچی میں ان کے وکیل منیر اے ملک کا دفتر کیوں سیل کیا گیا ؟ پھر اسی شب ان کی رہائشگاہ پر گولیاں کس نے چلائیں ؟
4 ۔ کس نے عدالتِ عالیہ کے اس حکم کو روند ڈالا کہ چیف جسٹس صاحب کو اپنی مرضی کے روٹ پر ایئر پورٹ سے عدالتِ عالیہ آنے دیا جائے ؟
5 ۔ شاہراہ فیصل کی مکمل ناکہ بندی کس نے کی جو کہ 12 مئی کے طلوعِ آفتاب سے بہت پہلے ہی کر لی گئی تھی ؟
6 ۔ کس نے وکلاء کو عدالتِ عالیہ سندھ تک جانے نہ دیا اور کس نے عدالتِ عالیہ کی عمارت کا محاصرہ کیا ؟
7 ۔ کس نے عدالتِ عالیہ سندھ کے حکم کہ شاہراہ فیصل کو کھول دیا جائے کی دھجیاں اُڑائیں ؟
8 ۔ جب کراچی میں انسانوں کا خون بے دریغ بہایا جا رہا تھا تو کس کے حکم کی بجا آوری میں پولیس اور رینجرز خاموش تماشائی بنے رہے ؟
9 ۔ کون پونے چھ گھینٹے آج ٹی وی کی عمارت پر گولیاں برساتا رہا جبکہ پولیس والے قریب ہی موجود تھے اور ایم کیو ایم والے بھی اپنے جھنڈے اُٹھائے پھر رہے تھے ؟
10 ۔ کراچی میں امن امان قائم رکھنا اور خون خرابہ روکنا کس کی ذمہ داری تھی ؟ کیا سندھ کا نظم و نسق چیف جسٹس صاحب یا حزبِ اختلاف چلا رہی ہے جو ذمہ داری ان پر عائد کی جا رہی ہے ؟

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

15 thoughts on “مووی ۔ 2007 اور 1971

  1. Azhar Ul Haq

    uncle jee sir syed university k honhaar talba ka karnama hain yeh videos . . . aur woh pole khul chuka hai k kiss tarah mqm k jhandhay ko ANP ka jhandha banaya gaya . . aur dosri baat k yeh video aik haftay k baad manzar e aam par aee . . . jo khod iss ki editing ka kamal hai :)

  2. Azhar Ul Haq

    aur aik aur mazaydar baat jo iss video ki thi yaa app isay nadanista ghalti kah leen k MQM ki video main bloch colony k pul k oopar se banee gaee hai . . aur uss din sara time media yeh hi kahta raha k baloch colony k pul k oopar se firing ho rahi hai . . .

    waqa hi yeh karwa sach hai . . .

  3. اجمل

    سیّد طیّب حسین صاحب
    میرے روزنامچہ پر آنے کا شکریہ
    آپ کا روزنامچہ میں نے دیکھا ہے اور قابلِ قدر پایا ۔ انشاء اللہ جلد آپ کی ہر تحریر پر اپنا خیال ظاہر کرنے کی کوشش کروں گا

    آپ کے روزنامہ کا ربط میں نے اپنے روزنامچہ میں محفوظ کر لیا ہے ۔

  4. Shoiab Safdar

    اچھے سوال ہیں!! قریب ہر ایک ہی کی زبان پر اِن میں سے چند اور کچھ دیگر سوالات اور نقاط ہیں!! جن کا جواب “وہ“ نہیں دے پاتے!!!

  5. اجمل

    اظہرالحق صاحب
    سر سیّد احمد خان صاحب کی روح تڑپ گئی ہو گی کہ ان کے نام سے بنائے گئے ادارے کے طلباء نے ان کے دیئے گئے سبق کا اُلٹ کیا ۔ ایک تاریخی حقیقت آپ کو بتاؤں ۔ 1996 عیسوی میں ایم کیو ایم نے اپنے روائتی طریقہ دھونس دھاندلی پستول سے کام لیتے ہوئے سندھ کے ان شہروں میں جہاں جہاں یہ آباد ہیں کہیں ٹی سی ایس کے دفاتر سے کہیں راستہ میں ان کے رائڈر سے انجنیئرنگ کونسل کی ایگزیکٹِو کمیٹی کے الیکشن کے بیلٹ پیپرز چھین لئے ۔ اسی طرح شپ یارڈ اور سٹیل مل کے رسیِٹ کلرک سے بھی بیلٹ پیپرز چھین لئے اور ان میں اپنے اُمیدواروں کے ناموں کے آگے نشان لگا کر بھیج دیئے ۔ باقی پاکستان میں جتنے شیعہ اُمیدوار تھے اُن کو بھی ساتھ ملا لیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایم کیو ایم جن کے صرف چند نمائندے انجنیئرنگ کونسل میں ہوا کرتے تھے وہ اکثریت میں آ گئی ۔ سب سے پہلے انہوں نے سر سیّد یونیورسٹی کراچی کو ایکریڈٹائیٹ کیا حالانکہ وہ اس قابل بھی نہ تھی کہ اسے زیرِغور لایا جاتا ۔ اس کے بعد بد طنیت ٹھیکیداروں سے کھُلا مال کھا کر ان کو رجسٹر کیا۔ اپنے ذاتی کاموں کے لئے کراچی سے لاہور یا اسلام آباد یا پشاور یا کسی اور جگہ جاتے مگر ایئر ٹکٹ اور ٹی اے ڈی اے انجنیئرنگ کونسل سے لیتے ۔ ان کی دھاندلیوں کی اتنی دھوم مچی کہ چار پانچ سال بعد حکومت نے انجیئرگ کونسل توڑ کر وہاں سرکاری ملازم لگا دئیے ۔
    جب لیفٹیننٹ جنرل صبیح قمر الزمان جب 1992 سے 1995 عیسوی تک سٹیل مل کراچی کا چیئرمین تھا تو اُس نے سٹیل مل سے ایسے ڈھائی ہزار ورکرز نکالے جو تنخواہ سٹیل مل سے لیتے تھے مگر کبھی سٹیل مل میں کام نہیں کیا تھا ۔ یہ سب کے سب ایم کیو ایم کے تھے ۔

    بلوچ کالونی کے پُل والی بات زبردست ہے ۔ یہ آپ نوائے وقت کے عرفان صدیقی اور ڈان کے ایڈیٹر کو لکھ کر بھیجئے ۔
    ای میل ایڈریس یہ ہیں
    isiddiquipk@yahoo.com
    letters@dawn.com

  6. اجمل

    شعیب صفدر صاحب
    ساری دنیا جو چاہے سو کر لے ایم کیو ایم اور پرویز مشرف کبھی نہیں مانیں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا ٹیکہ صرف جھوٹ بولنے پر قائم ہے ۔

  7. Noumaan

    ایم کیو ایم کی مووی یقینا جھوٹی ہوگی۔ تاہم یہ بات کیسے کہی جاسکتی ہے کہ اے این پی، پیپلز پارٹی یا جماعت کے کارکنان نے گولیاں نہیں داغیں؟ مجھے افسوس ہوا بنگالی قتل عام کے بارے میں آپ کے دوست اور آپ کی رائے پڑھ کر تاہم حیرت نہیں ہوئی۔ ویسے کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنان کے قتل عام کے بارے میں آپ کے کیا خیالات ہیں؟

  8. اجمل

    نعمان صاحب
    میں نے کہیں نہیں لکھا کہ کسی دوسری جماعت کے آدمی نے گولی نہیں چلائی لیکن ایسے حالات پیدا کرنے اور مار دھاڑ کی ابتداء کرنے والوں کو حکومتِ سندھ کی پُشت پناہی حاصل تھی ۔ حکومت میں زور بھی ایم کیو ایم کا ہے اور گورنر بھی ایم کیو ایم کا ۔

    ظُلم اگر کافر پر ہو تو ظُلم ہی ہوتا ہے ۔ میں ظُلم کے خلاف آواز اُٹھانا انسانی فرض سمجھتا ہوں ۔ جھوٹ بھی ظُلم کی ایک قسم ہے ۔ رہا ایم کیو ایم کے کارکنان کا پرانا قتلِ عام جو شائد بینظیر کے دور میں ہوا تھا تو ان دنوں میں ایم کیو ایم کو اچھا سمجھتا تھا ۔

  9. Noumaan

    میرے خیال میں یه کهنا بھی درست نهیں که مار دھاڑ کی ابتدا کرنے میں ابتدا حکومت سندھ کی پشت پناهی پر هوءی۔ بھوسے میں چنگاری کوءی بھی ڈال سکتا هے۔ یقینا ایم کیو ایم کے لوگوں نے گولیاں چلاءیں اور ان سے لوگ هلاک بھی هوءے مگر میں نهیں سمجھتا که انهوں نے اس کی منصوبه بندی کی۔ مجھے یه زیاده قریب از قیاس معلوم هوتا هے که انهیں گولیاں چلنے کی توقع نهیں تھی۔

    ره گءی بات جھنڈوں کی تو کراچی کی سڑکوں پر هر جگه ایم کیو ایم کے جھنڈے لهراتے هیں اور باآسانی دستیاب هیں کوءی بھی سازشی انهیں اتار کر کهیں بھی لهرا سکتا هے۔

    شاید بینظیر کے دور میں هوا تھا سے کیا آپ کی مراد یه هے که هوسکتا هے ایسا کوءی واقعه هوا هی نه هو؟ مطلب ایم کیو ایم کے کارکنان کا قتل عام بھی شاید یهودیوں اور بنگالیوں کے قتل عام کی طرح ایک سازش هو؟؟؟ یا اس سے آپ کی مراد یه هے که آپ کو علم نهیں که یه بینظیر کے دور میں هوا تھا یا ضیاءالحق کے؟

  10. اجمل

    نعمان صاحب
    آپ اپنے دماغ میں بسے خیالات کو تھوڑی دیر کیلئے سُلا دیجئے پھر میری 14 ۔ 17 اور 23 مئی کی تحاریر پڑھیئے ۔ سب کچھ واضح ہے ۔
    شاہراہ فیصل کی ناکہ بندی 11 مئی کو شروع کردی گئی تھی اور ایم کیو ایم والوں نے اُسی دن وقتِ عشاء تک مورچے سنبھال لئے تھے ۔ اگر یہ منصوبہ بندی نہیں تو منصوبہ بندی کس بلا نام ہے ؟ اور کیا سندھ کی حکومت اور ان کے سارے دست و بازو ملک سے باہر گئے ہوئے تھے کہ ان کے علم میں یہ سب کچھ نہ آیا ؟

    آپ اُردودان ہیں اور اُردو کے رموز سے پوری طرح واقفیت نہیں ۔ میں نے شائد بینظیر کے ساتھ لگایا تھا ۔

    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح مکتی باہنی نے بنگالیوں کا قتل کر کے اس کا الزام اُلٹا بنگالیوں پر ہی لگایا تھا ۔ 12 مئی کو چھوٹے پیمانے پر ایم کیو ایم کے پروردہ قاتلوں نے کراچی کے لوگوں کا قتل کیا اور الزام ایم کیو ایم والے مرنے والوں پر لگانے کی کوشش میں ہیں ۔

  11. محب علوی

    بہت اہم مسئلہ ہے اجمل صاحب اور یقینا ایم کیو ایم نے بھی پراپیگنڈہ کا وہی زور رکھا ہے جو بھارتیوں نے بنگلہ دیش کے معاملے میں رکھا اور پاکستان کو حد سے زیادہ سفاک اور قاتل دکھایا تھا جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ ظلم و زیادتی ضرور ہوئی تھی مگر اس طرح نہیں جس طرح ظاہر کی گئی اور جیسے زہر اگلا گیا۔ ١٢ مئی کے واقعات پر میں نے بھی کوشش کی کہ لوگوں کی رائے لوں اور اس پر حقائق کو سامنے لاؤں اس سلسلے میں ایک ربط دے رہا ہوں ضرور جائیے گا اور دیکھیے گا اور اپنی آرا کا اظہار کیجیے گا۔
    http://www.urduweb.org/mehfil/viewtopic.php?t=7997

  12. اجمل

    میں نے آپ کی تحریر پڑھی ہے ۔ میں 12 مئی کو ایم کیو ایم کے لیڈروں کے بیانات سنتا رہا ۔ ان میں کوئی وزن نہ تھا ۔

  13. Pingback: What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » ہوش سے ۔ نہ کہ جوش سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)