بدلتے دل ۔ سانحہ کراچی

دل کو بدلنا آسان کام نہیں لیکن کوئی ایک چھوٹا یا بڑا حادثہ کبھی ایک دل کو اور کبھی بہت سے دلوں کو بدل کے رکھ دیتا ۔ سُنا ۔ پڑھا اور میری زندگی کا تجربہ بھی ہے کہ اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے اسلئے انسان کو ہر چیز یا عمل میں بہتر پہلو کو تلاش کرنا چاہیئے ۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے 9 مارچ سے شروع ہونے والے ہفتہ میں ایسی حماقتیں کیں جن سے سب پریشان ہوئے لیکن ان حماقتوں نے اُس تحریک کو جنم دے دیا جو حزبِ مخالف چلانے میں ناکام رہی تھی ۔ اللہ اس تحریک کو جلد کامیابی سے ہمکنار کرے اور ہمارے وطن میں عوام کا خیال رکھنے والی مضبوط جمہوریت قائم ہو جائے ۔ اور ڈکٹیٹر شپ سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خلاصی ہو جائے ۔

12 مئی کو جو کچھ کراچی میں ہوا وہ کراچی والوں سے بہتر کون جانتا ہے ؟ اس کا اچھا پہلو جو میرے علم میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے جانثار خاندانوں کی نئی نسل جس کو 10 مئی تک “قائد صرف ایک [الطاف حسین]” اور “جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے” کے علاوہ کچھ سوجھتا ہی نہ تھا اُس نوجوان نسل کے کئی ارکان کے دل 11 اور 12 مئی کے واقعات نے بدل کے رکھ دیئے ہیں ۔

ایک پڑھا لکھا نوجوان جو ایم کیو ایم کے علاقہ کا باسی ہے اور جس کا خاندان الطاف حسین کے جان نثاروں میں شامل ہے ۔ جس کے چچا نے 12 سال قبل الطاف حسین کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا تھا اور اس کو سلام آج بھی اس کے محلے میں ہر طرف لکھا ہوا ہے ۔ اُس نوجوان نے 11 مئی کو دیکھا کہ ایئرپورٹ کو جانے والے تمام راستوں پر ٹرالر ٹرک ۔ ٹینکر اور بسیں کھڑی کر کے ان کے ٹائروں میں سے ہوا نکال دی گئی ہے ۔ پھر شام کو اس نے دیکھا کہ خود کار ہتھیاروں سے لیس جوانوں نے مورچے سنبھال لئے ہیں اور کچھ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ 12 مئی کو ہسپتالوں میں چلے جائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی ایسا شخص طِبّی امداد نہ لینے پائے جو ایم کیو ایم کا نہ ہو ۔

دوسرے دن یعنی 12 مئی کو صبح 10 بجے اس نے ڈرگ روڈ اسٹیشن کے قریب دیکھا کہ اس کے ساتھی ریپیٹر اور کلاشِن کوف قسم کے خود کار ہتھیار خدمتِ خلق فاؤنڈیشن کی ایمبولینس میں بھر کر لے جا رہے ہیں ۔ اس نے دیکھا کہ شاہراہ فیصل سب کیلئے بند ہے مگر ایم کیو ایم کے جوان ہتھیار لئے آزادی سے گھوم رہے ہیں ۔پھر اس نے دیکھا کہ ایک جوان شخص گِڑگڑا کر التجائیں کر رہا ہے کہ مجھے جانے دو ۔ وہ اپنے بچے کی لاش ہسپتال سے گھر لے کر جا رہا تھا ۔ وہ کہہ رہا تھا خدا کیلئے مجھے جانے دو تا کہ میں اپنے اس معصوم بچے کے کفن دفن کا بندوبست کر سکوں ۔ ایک لمحہ آیا کہ ایم کیو ایم کے اس پڑھے لکھے نوجوان کے جسم نے ہلکی سی جھرجھری لی اور وہ وہاں سے چلا گیا ۔ 12 بجے کے قریب پہلی فارنگ ہوئی اور وہ خلافِ معمول گھر چلا گیا اور ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا ۔ کچھ دیر بعد اُس کے دل نے اچانک اس کی ملامت شروع کردی کہ آج تک تیرا خاندان جو دلیری دکھاتا رہا وہ دراصل ایک مجبوری اور ضرورت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی درندگی تھی ۔ اُس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنے آپ کو مزید دھوکہ نہیں دے گا جس کیلئے اس کے چچا نے جان دی تھی وہ انسان نہیں درندہ ہے ۔ وہ قاتلوں کا قائد ہے مہاجروں کا نہیں ۔ رات تک اس کو معلوم ہو چکا تھا کہ مرنے والے پختونوں کے علاوہ سب اُس کی طرح مہاجروں کے بچے ہیں جن کا قصور یہ ہے کہ وہ الطاف حسین کی درندگی کی حمائت نہیں کرتے ۔

یہ کہانی یا افسانہ نہیں حقیقت ہے ۔ یہ ایم کیو ایم کے گڑھ میں رہنے والے صرف ایک نوجوان کی آپ بیتی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ ایسے کئی اور پڑھے لکھے نوجوان ہوں گے جو اس پراگندہ ماحول اور خونی سیاست سے تنگ آ کر 12 مئی کو تائب ہوئے ہوں گے لیکن وہ اس کا برملا اظہار کرتے ہوئے شائد ڈر رہے ہوں مگر اس نوجوان نے اپنی دلیری کا رُخ بدلتے ہوئے نہ صرف ایم کیو ایم کے لیڈران کو تحریری طور پر اپنے دل کی تبدیلی کی اطلاع کر دی ہے بلکہ الطاف حسین کو 12 مئی کے قتلِ عام کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ اس نوجوان ۔ اس جسے دوسرے جوانوں اور اُن کے اہلِ خانہ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔ میری محبِ وطن قارئین سے بھی التماس ہے کہ وہ بھی اُن کے لئے خصوصی دعا کریں ۔

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

12 thoughts on “بدلتے دل ۔ سانحہ کراچی

  1. Azhar

    انکل جی ۔ ۔ یہ حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم کے بہت سارے لوگ خود ایم کیو ایم سے تنگ ہیں ، مگر کیا کریں جب آپ کو ماں بہن اور بھائی باپ کی زندگیوں کو داؤ پر لگا ہوا دیکھیں تو شاید ۔ ۔ مجبور لوگ ۔ ۔ مجبوری میں ظالم کا ساتھ دیں ۔ ۔ ۔ میں ایسے کتنے ہی لوگوں کو جانتا ہوں ۔ ۔ جو ایم کیو ایم کی حقیقت سے آگاہ ہیں مگر مجبور ہیں ۔۔ ۔ ۔ بہت لوگوں کے دل اب پھر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ شاید جیسا کہ میں نے پہلے لکھا تھا واقعٰی ہی انقلاب کی چنگاری سلگ چکی ہے ۔ ۔ ۔اللہ ہمیں اچھے دن دیکھائے (آمین) . . . .

  2. مقبوضہ کراچی سے محمد عمران

    آداب!

    افتخار صاحب جو کچھ آپ نے لکھا ہے بالکل بجا، ہم بھی اسی حالات سے گزر چکے ہیں‌اور 12 مئی سے اتنی شرمندگی محسوس کر رہا ہوں کہ کیا بتاؤ، میں بھی اُن لوگوں‌میں شامل ہوں‌جس نے جئے الطاف کے نعرے لگائے ہیں اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔

  3. فیصل

    انکل آپ نی ایک اتنی بڑی بات کی ہے جو ہم سب جانتے بھی ہیں لیکن مانتے نہیں۔ میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہر بات میں خیر کا پہلو ہوتا ہے۔ اور بہت سی بار تو مکافاتِ عمل ہوتا ہے۔ میری زندگی میں جب بھی کوءی ناپسندیدہ بات ہوءی میں نے اپنے آپ کو اس قابل کبھی نہیں پایا کہ اللہ تعالی سے یہ سوال کر سکوں کہ یہ سب کیوں ہوا اور میرے ساتھ ہی کیوں ہوا۔ وجہ یہ کہ اپنے اعمال، بری نیتوں کا علم تو مجھے ہی ہے اور اگر لوگ کہیں بھی کہ آپ سے ساتھ بڑا ظلم ہوا، میں کبھی اس بات کو جسٹیفاءی نہیں کر سکتا۔ میرا خیال میں جب بھی ہمارے ساتھ ایسا کچھ ہو ہمیں آءینے کے سامنے کھڑے ہو کر اللہ سے نہیں خود سے وجہ پوچھنی چاہیے، اکثر جواب فورا ہی مل جاءے گا۔ اللہ ہم سب کو نیکی کی توفیق دے اور سچ کا سامنا کرنے ی جرات بھی۔ آمین۔

  4. imran tariq

    میرا کہنا یہ ھے کہ کراچی کو دھشت گردوں کے حوالے جس نے کیا کیا وہ دھشت گرد نہین ھے اللہ جانے کاچی کو اس چنگل سے چھڑانے میں کتنی دیر لگے

  5. اجمل

    عمران طارق صاحب
    بلاشُبہ وہ دہشت گرد ہیں ۔ اور اُن کے نام ہیں پرویز مشرف اور الطاف حسین

  6. اجمل

    اسماء صاحبہ
    اللہ کرے ایسا ہی ہو ۔
    ہاں مجھے یاد آیا ۔ آپ کا تبصرہ نہ چھپنے کی ایک وجہ اور بھی ہو سکتی ہے اور وہ ہے کچھ نشانات جس کی ورڈپریس اجازت نہیں دیتا

  7. ابوشامل

    محترمی اجمل صاحب آپ سے بالکل متفق ہوں، ایک تصحیح کر لیں کہ متحدہ کے غنڈے الخدمت فاؤنڈیشن کی ایمبولنسوں میں نہیں بلکہ خدمت خلق فاؤنڈیشن کی ایمبولنسوں میں اسلحہ بھر کر لاتے ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن تو ان کی “ازلی دشمن” جماعت اسلامی کا ادارہ ہے جس کے سربراہ سابق ناظم کراچی نعمت اللہ خان ہیں۔

  8. اجمل

    ابو شامل صاحب
    تصحیح کیلئے آپ کا ممنون ہوں ۔ یہ حروف کے لحاظ سے معمولی لیکن حقیقت میں بہت پڑی غلطی تھی ۔ جو میں نے اب ٹھیک کر دی ہے ۔

  9. اجمل

    اسماء صاحبہ
    آپ اپنی ای میل دیکھئے اس میں کچھ نشانات ہیں جو انگریزی کے حروف نہیں لیکن میں نے صرف شُبہ ظاہر کیا تھا ۔ زیادہ وجہ دوبار شائع کرنا ہی ہو سکتی ہے جو کہ ورڈپریس کی خامی ہے ۔

  10. محمد طارق راحیل

    میرے خیال سے تو کوئی بھی سیاسی جماعت شریف نہیں
    ہاں البتہ مہاجروں کی اکثریت کراچی میں زیادہ ہے اور ان کے دم پر ہی یہ پھل پھول رہی ہے اور آج ایک تناور خاردار درخت بن چکی ہے اور اس میں جو پھل سے ڈالیں لٹکی ہین ان کے کھانے والے بھی بے اسی درخت کے زہر سے ہلاک شدگان میں نام لکھوا رہے ہیں مگر طاقت کے نشے میں چور رہنے والوں کو اس نشے کی لت لگ چکی ہے اور وہ دوسروں تو کیا اپنی زندگی کی بھی پروا نہیں کررہے

    یہ حال صرف ایم کیوایم کا نہیں دیگر جماعتوں کی صورتحال اس سے مختلف نہیں
    مگر ایم کیو ایم میں یہ عنصر کچھ زیادہ ہی موجود ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)