Monthly Archives: May 2007

کانٹا صحيح جگہ ڈالئے

2,428 بار دیکھا گیا

عصرِ حاضر میں ہر کوئی کانٹا ڈالنے کی فکر میں ہے کہ کسی طرح دنوں میں بادشاہ نہیں تو کم از کم سرمایہ دار بن جائے ۔ بُش اور مُش سے لے کر عام آدمی بھی اسی فکر میں مبتلاء ہے لیکن ایسے میں لوگ بھول جاتے ہیں کہ کانٹا اگر صحیح جگہ نہ ڈالا جائے تو وہی ہوتا ہے جو اس خاکے میں دکھایا گیا ہے ۔ کیا بُش کیلئے عراق اور مُش کیلئے چیف جسٹس کچھ ایسے ہی ثابت نہیں ہو رہے ؟

چاچا وردی لاندا کیّوں نئیں

2,740 بار دیکھا گیا

۔ ۔ ۔ ۔ پنجابی لوک گیت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُردو ترجمہ

بن کے مرد وخاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بن کے مرد دکھاتے کیوں نہیں
اپنا قول نبھاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنا وعدہ نبھاتے کیوں نہیں
لَے کے پِنشن جاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لے کے پنشن جاتے کیوں نہیں
چاچا وردی لاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا وردی اتارتے کیوں نہیں

تیری مدّت ہو گئی پوری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمہاری مدت تو ہو چکی پوری
ہُون تے جانا اے مجبوری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جانا ہے اب تمہاری مجبوری
رجیا نئیں تُوں کھا کھا چُوری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پیٹ نہیں بھرا کھا کھا چوری
تَوڑیاں نے حدّاں دستوری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ توڑی ہیں حدیں دستورکی
عزّت نال گھر جاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عزت سے گھر جاتے کیوں نہیں
چاچا وردی لاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا وردی اتارتے کیوں نہیں

آیاں اے کی چَن چڑھاون ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آئے ہو تم نیا چاند چڑھانے
یورپ دا ماحول بناون ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یورپ کا ماحول بنانے
دھیاں بھہناں نچرا پاون ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بیٹیاں بہنیں ناچ ناچیں
سڑکاں اُتے دَوڑاں لاون ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سڑکوں پر وہ دوڑیں لگاویں
ڈُب کے تُوں مر جاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ڈوب کے تو مر جاتا کیوں نہیں
چاچا وردی لاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا وردی اتارتے کیوں نہیں

نَس کے تُوں واشنگٹن جاویں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھاگ کے تم ہو واشنگٹن جاتے
بُش نوں جا جا مسکہ لاویں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بُش کو جا جا مکھن لگاتے
پَیراں وِچ ڈِگ ڈِگ جاویں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاؤں میں اس کے تم گِر گِر جاتے
مظلوماں نُوں تُوں تَڑیاں لاویں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مظلوموں کو ہو تم دھمکیاں دیتے
ظالم نال ٹکراؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ظالم سے ٹکراتے کیوں نہیں
چاچا وردی لاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا وردی اتارتے کیوں نہیں

باطل نے شطرنج وچھائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باطل نے ہے چوپال بچھائی
مَوہرہ رکھ چال چلائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موہرہ رکھ کے ہے چال چلائی
مِلّت نُوں تُوں مات دوائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ملت کو تو نے مات دلوائی
جا کے دُشمن نال نبھائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جا کے دشمن سے دوستی نبھائی
جُرم تے شرماؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جرم کر کے تو شرماتا کیوں نہیں
چاچا وردی لاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا وردی اتارتے کیوں نہیں

اپنی قوم نُوں ضربا لائیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی قوم کو ضربیں لگائیں
کوہ چھَڈیا اے وانگ قصائیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ذبح کرتا ہے جیسے قصائی
ہلّہ شیری پار بلایاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فخر کرتے ہو سرحد پار جا کے
دیندا اے کشمیر دُہائیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کشمیر دے رہا ہے دہائیاں
اَوتھے ٹَور وخاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہاں اکڑ دیکھاتے کیوں نہیں
چاچا وردی لاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا وردی اتارتے کیوں نہیں

قاتل نُوں دِلدار بنا کے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قاتل کو محبوب بنا کے
کی لَبیا اے ظُلم کما کے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا ملا تمہیں ظلم کما کے
افغاناں دا خُون بہا کے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ افغانوں کا خُون بہا کے
ساری ملّت نُوں زخما کے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ساری ملت کو زخما کے
کِیتی تے پشتاندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کئے پہ تو پچھتاتا کیوں نہیں
چاچا وردی لاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا وردی اتارتے کیوں نہیں

اَکھیاں کھول کے تک بے دردی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آنکھیں کھول کے دیکھو بے دردی
امریکہ دی دہشت گردی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امریکہ کی دہشت گردی
کِیڑَیاں وانگوں اُمت مردی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مکوڑوں کی طرح ہے امت مرتی
غیرت نُوں اپناؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غیرت کو اپناتا کیوں نہیں
چاچا وردی لاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا وردی اتارتے کیوں نہیں

جو لُٹیرے لُٹ لُٹ رَجّن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لٹیرے لوٹ لوٹ کے سیر نہ ہوں
قوم دے ڈاکو تیرے سَجّن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ قوم کے ڈاکو ہیں تیرے ساجن
کھُلے ڈھُلے نَسّن بھَجّن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کھلے عام دندناتے وہ ہیں
مسجداں تے چھاپے وَجّن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پر مسجدوں پر چھاپے پڑتے ہیں
کھَسماں نُوں تُوں کھاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ [اکتاہٹ کے ساتھ] ہماری جان تو چھوڑتا کیوں نہیں
چاچا وردی لاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا وردی اتارتے کیوں نہیں

یو ٹیوب پر لوک گیت کی ایک دلچسپ وڈیو دیکھی ۔ جس کے بول اوپر لکھے ہیں ۔ یہاں کلک کر کے وڈیو دیکھی جا سکتی ہے

ایک جنرل کہتا ہے

2,583 بار دیکھا گیا

سابق کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر نے کہا کہ وفاقی حکومت گوادر کو اسلام آباد کا ایک سیکٹر بنانا چاہتی تھی جس کی انہوں نے مخالفت کی تھی اور ان کو استعفی دینے پر مجبور اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ نواب اکبر بگٹی سے بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کر رہے تھے ۔ جنرل عبدالقادر کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں وفاقی حکو مت میں ایسی سمری پیش کی گئی تھی جس میں گوادر کو اسلام آباد کا ایک سیکٹر بنائے جانے کی تجویز تھی جس پر اس وقت کے وزیر اعظم ظفراللہ جمالی نے کابینہ میں بحث کرنے کا کہا تھا۔ جنرل (ر) عبدالقادر نے کہا کہ بلوچستان کے گورنر کے طور پر انہوں نے اس کی مخالفت کی تھی جبکہ وزارت داخلہ کا مؤقف تھا کہ اس کے بغیرگوادر میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں کی جا سکتی جو غیر ملکیوں کو سرمایہ کاری کے لیے چاہیے۔

جنرل عبدالقادر نے کہا کہ گوادر کے حوالے سے قوم پرستوں کے خدشات دور کیے جا سکتے ہیں کیونکہ بقول ان کے اس وقت کراچی کی طرح کوئی بڑی آبادی گوادر آنے والی نہیں ہے اور نہ ہی یہاں بڑی صنعتکاری کی توقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گوادر در اصل فوجی ضروریات کے حوالے سے اہم ہے کیونکہ پاکستان کو کراچی کے علاوہ ایک اور بندرگاہ کی ضرورت ہے جوگوادر بہتر طور پر پورا کر سکتا ہے۔ جنگ کی صورت میں گوادر بندرگاہ کا محاصرہ نہیں کیا جا سکتا جبکہ کراچی بندرگاہ کو بلاک کیا جا سکتا ہے۔

بلوچستان میں فوجی کارروائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ستائیس اٹھائیس جولائی سال دو ہزار تین کو انہوں نے نواب اکبر بگٹی سے مذاکرات کیے اور مسئلہ سوئی گیس فیلڈ میں ایک سو دو ملازمین کو مستقل کرنے کا تھا جسے انہوں نے حل کر دیا اور وہ خوش تھے کہ صدر پرویز مشرف اس کامیابی پر خوش ہوں گے۔ لیکن ان کے بقول جب تین اگست کو وہ اسلام آباد پہنچے تو وہاں کوئی اور ان کا انتظار کر رہا تھا جس نے ان سے کہا کہ سوری ہم مزید ساتھ نہیں چل سکتے۔

جنرل عبدالقادر نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کے ساتھ مذاکرات میں جو دیگر لوگ شامل تھے شاید وہی پہلے پہنچ گئے اور انہوں نے آگے کیا بتایا کہ انہیں بطور گورنر بلوچستان استعفی دینے پر مجبور کیاگیا ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اسی لیے تعینات کیا گیا تھا کہ بات چیت شروع کی جائے لیکن حکومت میں سخت گیر رویہ (ہاکش اٹیچیوڈ) رکھنے والے لوگ مذاکرات پر نہیں بلکہ ڈنڈے کا استعمال چاہتے تھے۔
اس کے بعد حالات بگڑتے گئے اور شازیہ خالد کیس اور گیس پائپ لائن پر حملوں کے بعد دو ہزار پانچ میں کارروائی شروع کی گئی ۔ جنرل عبدالقادر نے بتایا کہ ان کے دور میں نواب اکبر بگٹی اسلام آباد جانے کو تیار ہو گئے تھے اور سوئی ایئر پورٹ پر چار گھنٹے تک جہاز کا انتظار کرتے رہے لیکن جہاز نہیں آیا اور وہ واپس چلے گئے اور اس کو نواب اکبر بگٹی نے اپنی بے عزتی تصور کیا۔ انہوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے کبھی پاکستان کے خلاف بات نہیں کی اور اس کا اعتراف ان کے مخالف بھی کرتے ہیں۔

بلوچستان کو اس کے حقوق فراہم کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہے کہ زمین کے اوپر اگنے والی اشیاء پر صوبوں کا کنٹرول ہو اور زمین کے نیچے پیدا ہونے والی اشیاء وفاق کے پاس ہوں۔ بلوچستان میں نہ تو نہریں ہیں اور نہ ہی دریا یہاں تو صرف پہاڑ اور پتھر ہیں۔ اگر یہی فارمولا ہی درست سمجھ لیا جائے تو اس کے تحت کنویں سے نکلنے والی گیس کی قیمت بلوچستان کو صفر اعشاریہ تین آٹھ ڈالر فی ہزار مکعب فٹ کے حساب سے ملتی ہے جو چھ ارب روپے بنتی ہے جبکہ پنجاب کو تین ڈالر فی ہزار مکعب فٹ کے حساب سے دی جاتی ہے۔ اگر پنجاب کو دی جانے والی قیمت ہی لگا دی جائے تو بلوچستان کو چالیس ارب روپے ملیں گے ۔

جنرل عبدالقادر نے کہا کہ بلوچستان میں پانچواں فوجی آپریشن جاری ہے لیکن کسی نے بلوچستان کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ آخر یہاں مسئلہ کیا ہے ۔ ’اگر کوئی غدار ہے اور اس نے جرم کیا ہے تو اسے سزا دی جائے۔ یہ کیا کہ فوجیں بھیج کر آپریشن شروع کر دیا جاتا ہے جس میں بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں اور پھر وہ مرکز سے دور ہوتے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت بلوچستان کا نوجوان باہر کی طرف دیکھ رہا ہے۔‘ انہوں نے تجویز دی کہ بلوچستان میں فوجی کارروائی بند کرکے مذاکرات شروع کیے جائیں اور لوگوں کے نقصانات کا ازالہ کیا

ضرورت ہے ایک قصائی کی

2,198 بار دیکھا گیا

سُنیئے جنابِ والا
کیا کہتا ہے منادی والا
منادی سُنیئے غور سے
پھر بات کیجئے کسی اور سے
ضرورت ہے ۔ ضرورت ہے
ضرورت ہے ۔ ایک قصائی کی
وردی جو اُتارے اک سپاہی کی
نہ یہ بات ہے حیرانی کی
نہ یہ بات ہے پریشانی کی

پچھلے چھ سات سال میں بڑے بلند بانگ دعوے کئے گئے مگر وردی کوئی نہ اُتروا سکا اور اب ۔ ۔ ۔ وردی والے نے وردی کو کھال کا درجہ دیدیا ہے ۔ اگر ایک دکان میں کوئی کرایہ دار 45 سال رہے اور دکان کا مالک اس قابل نہ ہو کہ اُس کرایہ دار کو دکان سے بے دخل کر سکے تو مالک صرف کرایہ دار کی باتیں سُن سکتا ہے اُسے کہہ کچھ نہیں سکتا ۔ جو شخص 45 سال وردی پہنے رکھے اور کوئی اس کی وردی اُتروا نہ سکے تو اُس سے اور کیا اُمید ہو سکتی ہے ۔ ویسے تو ہمارے ملک میں [مع وردی والے کے] انسان کی کھال اُدھیڑنے والے بہت ہیں مگر ہم نے بچپن سے اب تک قصائی کو کھال اُتارتے دیکھا ہے ۔

مووی ۔ 2007 اور 1971

5,138 بار دیکھا گیا

ہفتہ 19 مئی 2007 کو ایم کیو ایم نے ایک پریس کانفرنس میں “کڑوا سچ” کے نام سے ایک وڈیو دکھا کر ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے 12 مئی کو توڑ پھوڑ اور مار دھاڑ کی ۔ اس وڈیو نے مجھے 36 سال پیچھے دھکیل دیا جب مجیب الرحمٰن کے پیروکار ایک وڈیو دکھا کر کہتے تھے کہ یہ دیکھو بنگالی عورتوں اور مردوں کو پاکستان کے حامیوں نے کس طرح ذبح کیا ہے ۔ یہ الزام اُردو بولنے والوں پر لگایا گیا تھا ۔ اُس وقت میرے جیسوں نے بھی اس وڈیو کو مصدقہ ثبوت سمجھا ۔

مجھے مئی 1976 میں ملک سے باہر تعینات کر دیا گیا ۔ وہاں اتفاق سے ایک شریف النفس بنگالی آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر فضلِ رحیم سے دوستی ہو گئی جو جلد ہی بہت گہری ہو گئی ۔ مارچ 1977 کی ایک شام میں بیوی بچوں سمیت ان کے گھر بیٹھے گپ سپ کر رہے تھے کہ کسی طرح 1971 کا ذکر آ گیا ۔ میں نے کہا “بنگالی بھائیوں پر واقعی بہت ظلم ہوا ۔ میں نے وڈیو دیکھی تھی”۔ ڈاکٹر بولا “تو آپ جیسے لوگ بھی اس وڈیو پر یقین رکھتے ہیں ؟ آپ نے اتنا بھی نہ سوچا کہ جس کی جان پر بنی ہوتی ہے کیا وہ کیمرہ لے کر وڈیو بنانے لگ جائے گا اور وہاں سے جان بچا کر بھاگنے کی کوشش نہیں کرے گا ؟”۔ چند لمحے وقفہ رہا کیونکہ ڈاکٹر کو شائد وہ خونی نظارے یاد آ گئے تھے جو اس نے دیکھے تھے اور میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب میں کیا کہوں ۔ ڈاکٹر نے سکوت توڑا اور جذباتی انداز میں بولا “اجمل بھائی ۔ لاکھوں مسلمانوں کے قتل کے ذمہ دار تین لوگ تھے ۔ ان میں سے دو کیفرِ کردار کو پہنچ چکے اور تیسرا بھی انشاء اللہ جلد انجام کو پہنچے گا اور اس کا انجام باقی دو سے بھی بُرا ہو گا”۔ میں نے کہا “مجیب الرحمٰن ۔ اندرا گاندھی اور جنرل یحیٰ”۔ ڈاکٹر بولا “نہیں ۔ بھُٹو”۔

میں نے استفسار کیا “وہ وڈیو پھر کس نے بنائی تھی ؟” ڈاکٹر بولا “مکتی باہنی والے جن میں بھارتی کمانڈو بھی شامل تھے محبِ وطن پاکستانیوں کو پکڑ کر لاتے تھے اور ان میں سے کچھ کے سامنے باقی سب کو ذبح کرتے اور وڈیو بناتے ۔ اس سے وہ دوہرا فائدہ حاصل کرتے ایک تو جن محبِ وطن بنگالیوں کو یہ سب کچھ دکھا کر چھوڑ دیتے وہ باقی ساتھیوں کو بتاتے جس سے مجیب الرحمٰن کی مخالفت سے لوگ ڈرنے لگے اور دوسرے اسی وڈیو سے باہر کی دنیا میں پروپیگنڈہ کرتے ۔ ویسے بعض اوقات شیخ مجیب الرحمٰن کے آدمیوں نے مخصوص حالات میں اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کیلئے کچھ اپنے آدمیوں کو بھی ہلاک کیا”۔ ڈاکٹر فضلِ رحیم کا سروس کنٹریکٹ 30 جون 1977 کو ختم ہوا اور وہ لوگ ہمیں مل کر 3 جولائی کو اپنے وطن روانہ ہو گئے اور 5 جولائی کو تیسرے کا انجام بھی شروع ہو گیا ۔

عصرِ حاضر میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی مدد سے کیا کچھ نہیں ہو سکتا اور ایک ہفتہ میں بہت کچھ کیا جا سکتا ہے ۔ اگر کچھ سال پیشتر ایک ہائی سکول کا پاکستانی لڑکا ایک وڈیو تیار کر سکتا ہے جس میں جارج بش کے چہرے پر لمبی داڑھی ہے اور سر پر پگڑی اور وہ اُردو زبان میں اقرار کر رہا ہے “میں جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہوتا ہوں”۔ تو اور کیا نہیں ہو سکتا ۔ کمال تو یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے جو منظر دکھائے ہیں ان تک کوئی ٹی وی والا نہ پہنچ سکا ۔ گویا [بقول ایم کیو ایم] سب ٹی وی چینل جھوٹے ہوئے ؟ ویسے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ کوئی مجھے ایم کیو ایم کے کسی مرد یا عورت کے ساتھ بحث کر کے جیت کر دکھا دے ۔ جب انہوں نے ماننا ہی نہیں ہے تو آپ جو جی چاہے کر لیجئے ۔

ایم کیو ایم والوں نے کڑوا سچ کے نام سے وڈیو تو دکھا دی مگر مندرجہ ذیل انتہائی کڑوے سوالوں کا جواب کون دے گا ؟

1 ۔ ایم کیو ایم نے اسی دن ریلی کیوں نکالی جس دن چیف جسٹس صاحب نے کراچی جانا تھا جب کہ چیف جسٹس صاحب کے سلسلہ میں اعلان پہلے ہو چکا تھا ؟
2 ۔ سندھ حکومت کے مشیرِ داخلہ نے ایک ٹی وی چینل پر کیوں کہا تھا کہ جس دن بھی چیف جسٹس آئے گا ہم اس دن ریلی نکالیں گے ؟
3 ۔ چیف جسٹس صاحب کی آمد سے 36 گھینٹے قبل کراچی میں ان کے وکیل منیر اے ملک کا دفتر کیوں سیل کیا گیا ؟ پھر اسی شب ان کی رہائشگاہ پر گولیاں کس نے چلائیں ؟
4 ۔ کس نے عدالتِ عالیہ کے اس حکم کو روند ڈالا کہ چیف جسٹس صاحب کو اپنی مرضی کے روٹ پر ایئر پورٹ سے عدالتِ عالیہ آنے دیا جائے ؟
5 ۔ شاہراہ فیصل کی مکمل ناکہ بندی کس نے کی جو کہ 12 مئی کے طلوعِ آفتاب سے بہت پہلے ہی کر لی گئی تھی ؟
6 ۔ کس نے وکلاء کو عدالتِ عالیہ سندھ تک جانے نہ دیا اور کس نے عدالتِ عالیہ کی عمارت کا محاصرہ کیا ؟
7 ۔ کس نے عدالتِ عالیہ سندھ کے حکم کہ شاہراہ فیصل کو کھول دیا جائے کی دھجیاں اُڑائیں ؟
8 ۔ جب کراچی میں انسانوں کا خون بے دریغ بہایا جا رہا تھا تو کس کے حکم کی بجا آوری میں پولیس اور رینجرز خاموش تماشائی بنے رہے ؟
9 ۔ کون پونے چھ گھینٹے آج ٹی وی کی عمارت پر گولیاں برساتا رہا جبکہ پولیس والے قریب ہی موجود تھے اور ایم کیو ایم والے بھی اپنے جھنڈے اُٹھائے پھر رہے تھے ؟
10 ۔ کراچی میں امن امان قائم رکھنا اور خون خرابہ روکنا کس کی ذمہ داری تھی ؟ کیا سندھ کا نظم و نسق چیف جسٹس صاحب یا حزبِ اختلاف چلا رہی ہے جو ذمہ داری ان پر عائد کی جا رہی ہے ؟

قاتل کون ؟

2,071 بار دیکھا گیا

ہمارے ملک میں بسنے والوں کی بھاری اکثریت کو مسلمان ہونے کا دعوٰی ہے ۔ ہمارا دین اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ۔ لیکن ہمارے ملک میں قتل روزانہ کا معمول ہے ۔ کہیں ڈاکو قتل کرتے ہیں ۔ کہیں طاقتور یا بارسوخ لوگ قتل کراتے ہیں ۔ کہیں قتل باہمی رنجشوں کا نتیجہ ہوتے ہیں اور باقی کوٹہ پولیس اور خُفیہ ایجنسیاں پورا کر دیتی ہیں ۔ کیا یہ سب مسلمان ہیں ؟

حماد نے کوئی چودہ پندرہ سال پہلے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے تعلیمی کامیابی پر سونے کا تمغہ حاصل کیا تھا ۔ وہ ذہین ۔ محنتی اور حاضر جواب آدمی تھا ۔ سی ایس ایس کے امتحان میں پہلے دس کامیاب اُمیدواروں میں ہونے کی وجہ سے اسے ڈی ایم جی گروپ میں رکھا گیا تھا ۔ حماد والدین کا اکلوتا بیٹا ہونے کے باوجود نخرے والا نہیں تھا بلکہ خوش مزاج تھا ۔ اس کے کام سے متأثر ہونے کی وجہ سے عدالتِ عظمٰی کے موجودہ چیف جسٹس اُسے بحیثیت ایڈیشنل رجسٹرار اسلام آباد لائے تھے اور وہ یہاں پر اُن کے سٹاف آفیسر کی طرح بھی کام کرتا رہا ۔ 9 مارچ کو چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے بعد خفیہ ایجنسیز والے 4 دن حماد سے تفتیش کرتے رہے مگر انہیں نا اُمیدی ہوئی ۔

سپریم کورٹ کے مقتول ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کے والد سید امجد حسین نے کہا ہے کہ ان کے گھر سے نقدی یا زیورات لوٹنا تو دور کی بات ہے قاتلوں نے تو ان کے بارے میں پوچھا تک نہیں ۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سید امجد حسین نے کہا کہ قاتلوں نے حماد کے ماتھے پر گولی ماری تھی اور جب حمادگرگئے تو حملہ آور چلے گئے۔ ان کے بقول وہ صرف حماد کو قتل کرنے کے لیے آئے تھے۔ ستر سالہ سید امجد حسین زمیندار ہیں اور ان کا تعلق لاہور کے نواحی علاقے شرقپور کے قصبہ مترد ہ سے ہے۔ حماد کے ایک دوست کا کہنا ہے کہ مقتول علاقے کے پہلے شخص تھے جنہوں نے سول سروس میں کامیابی حاصل کی اور ڈسٹرکٹ مینجمینٹ گروپ میں گئے۔ حماد کے والد کا کہنا تھا کہ جب ان کے بیٹے کا قتل ہوا تو پولیس کی ایک گاڑی گھر کے باہر کھڑی تھی اس گاڑی میں پانچ مسلح اہلکار تھے جن میں سے تین گاڑی کے باہر کھڑے تھے۔

ان کے بقول ان کے بیٹے کے قاتل گھر سے باہر کھڑی پولیس کی موجودگی میں فرار ہوئے لیکن پولیس کچھ نہ کرسکی ۔’وہ کیسے پولیس والے تھے جن کے سامنے قاتل فرار ہوگئے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں وہ پولیس کے بیان کردہ موقف پر کس طرح مطمئن ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس والوں کے پاس اسلحہ تھا اور وہ فائرنگ کرسکتے تھے لیکن انہوں نے کچھ نہیں کیا حالانکہ پولیس اہلکار تعاقب کرکے ان کو (قاتلوں کو) گرفتار کرسکتے تھے۔ مقتول کے والد نے سوالیہ انداز میں کہا کہ پولیس ڈیوٹی دے رہی تھی یا پھر قاتلوں کو بچانے کے لیے وہاں موجود تھے۔ ان کے بقول جب حملہ آور نےگولی چلائی تو حماد کا ایک ہمسایہ دیوار پھلانگ کر داخل ہوا اور اس نے پولیس والوں کو اندر آنے کو کہا لیکن پولیس والے اپنی جگہ کھڑے رہے۔ حماد رضا کے والد نے کہا کہ ان کے بیٹے نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی تھی جس سے یہ معلوم ہو کہ اس کی جان کو خطرہ ہے۔ حماد ہمیشہ حوصلہ کی باتیں کرتا تھا۔

پاکستان بار کونسل کی فری لیگل ایڈ کمیٹی کے سربراہ رمضان چودھری کے بقول انسانی حقوق کے معاملات پر چیف جسٹس پاکستان کے احکامات کی روشنی میں حماد رضا ہی کمیٹی سے رابطہ کرتے تھے۔

سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کی بیوی نے کہا ہے کہ ان کے شوہر کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے۔ شبانہ حماد نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ رات وہ لوگ سیکٹر جی ٹین ٹو میں واقع ان کے گھر میں داخل ہوئے اور وہ حماد کی تلاش کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا گھر میں داخل ہونے والے لوگ ڈکیتی کی غرض سے نہیں بلکہ حماد کو ڈھونڈ رہے تھے اور انہوں نے بیڈ روم کے دروازے پر دستک دی اور جب دروازہ کھولا گیا تو وہ حماد رضا کو ہلاک کر کے ایک دو منٹ میں غائب ہو گئے۔

حماد رضا ڈی ایم جی گروپ کے افسر تھے اور وہ کافی عرصہ تک صوبہ بلوچستان میں تعینات رہے تھے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے چیف جسٹس بننے کے بعد حماد رضا کو ڈیپیوٹیشن پر سپریم کورٹ میں بطور ایڈیشنل رجسٹرار مقرر کیا گیا۔ حماد رضا سپریم کورٹ کے ان اہلکاروں میں شامل تھے جن سے چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر ہونے کے بعد حکومتی اداروں نے پوچھ گچھ کی تھی۔ شبانہ حماد نے کہا کہ ان کی کسی شخص سے کوئی دشمنی نہیں تھی اور نہ ہی انہیں پہلے کبھی کسی نے کوئی دھمکی دی تھی ۔

Supreme Court officer murdered

ISLAMABAD, May 14: Supreme Court’s additional registrar Syed Hammad Amjad Raza was shot dead by four men who broke into his house before dawn on Monday. Talking to Dawn, a police officer claimed that the murder had been committed by robbers, but Mr Amjad Raza’s widow Shabana, a witness to the killing, said it was a target killing. She alleged that the government and agencies were involved in the murder. She said that she saw several policemen lurking around in the lawn of her house when she ran out crying for help, but they did nothing to catch the culprits. She vowed to do everything possible to bring those responsible to justice. Her brother, Abid Hussain Shah, also insisted that it was not a case of robbery, because nothing had been found missing from the house, except two cellphones. “It’s a target killing and a message to judges,” he said.

According to the family, four people broke into Mr Raza’s official residence through the kitchen window at around 4.15 am. They overpowered his parents who lived on the ground floor, tied them up and asked them about Mr Raza. Syed Amjad Ali Mashedi Rizvi, father of Mr Raza, said the intruders held the teenage housemaid Ashee at gunpoint and forced her to take them upstairs to Mr Raza’s bedroom.

“As my husband responded to the knocks and opened the door, we saw four clean-shaven men in trousers and shalwar kameez. They were aged between 28 and 35. One of them was holding a pistol and another carried a knife. On seeing Hammad, the gunman shot him in the head and fled,” Ms Shabana said. She said she ran downstairs crying for help and was surprised to see some policemen in the lawn. They did not do anything. However, police officer Shaukat Pervaiz, a neighbour, responded to her screams. SP Pervaiz, who is detailed with the prime minister’s security squad, shouted at a police patrol, standing about 100 feet away from his house, to catch the culprits but by the time the patrol moved the attackers had disappeared.

Security agencies had questioned Mr Raza for four days after the removal of Chief Justice Iftikhar.

Talking to Dawn, Intizar Mehdi, a cousin of the deceased, alleged that it was a target killing. “The moment Hammad opened the door, the intruders shot him in the head without having any argument,” he said, adding that the robbers would not act the way the killers had. There was a lot of jewellery and cash in the house but the gunmen had not touched anything, he said.

The deceased is survived by the wife and three children.

Pakistan supreme court official slain over links to CJ Chaudhry:

ISLAMABAD, May 15 (AFP) – Supreme Court deputy registrar Syed Hamad Raza shot dead at his home on Monday morning was targeted because of his ties to suspended chief justice Iftikhar Muhammad Chaudhry and had come under pressure from the government, lawyers for the judge said Tuesday. The claim came as Justice Chaudhry appeared at the Supreme Court to challenge his removal by President Pervez Musharraf in a row that has triggered deadly protests. “Raza’s murder was a targeted killing. It appears to be linked to the case,” Chaudhry’s main lawyer Aitzaz Ahsan told the court. “He was under pressure from various government agencies,” he said. Justice Khalilur Rehman Ramday, the presiding judge of the 13-member full bench hearing Chaudhry’s appeal against misconduct charges, said the court had already taken notice of the murder. “He (Hamad) was a wonderful boy… It is our belief that such an atrocity will not go unpunished. We shall do what can possibly be done by us,” Justice Ramday said. (Posted @ 16:38 PST)

تیری سادگی کے صدقے

2,250 بار دیکھا گیا

وکلاء اور حزبِ اختلاف نے چیف جسٹس آف پاکستان کی عزت افزائی کیلئے 5 مئی کو صبح 8 بجے اسلام آباد سے ریل نکالی جو 6 مئی کو لاہور میں دوپہر کے قریب ختم ہوئی او ر اس میں ایک کروڑ سے زائد لوگوں نے حصہ لیا ۔ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کے درباری اس پر بوکھلا گئے اور 12 مئی کو اس کے مقابلہ میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کیلئے 5 لاکھ افراد کی ریلی اسلام آباد میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ۔ پورے پنجاب اور صوبہ سرحد سے بھی لوگ لائے گئے ۔ جن کیلئے ایک ہفتہ پہلے سے ہی بسیں اور ویگنیں پولیس اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ذریعہ پکڑنا شروع کر دی گئیں ۔ سرکاری پارٹی کے صدر شجاعت حسین نے دعوٰی کیا تھا کہ اس ریلی پر ان کی پارٹی خرچہ کرے گی ۔ اخباری نمائندوں نے ریلیوں میں شامل لوگوں کے راستہ میں انٹرویو لئے تو معلوم ہوا کہ سب کو دھاڑی پر اور مفت سفر اور مفت اچھے کھانے کے وعدہ پر لایا گیا تھا ۔ لائے گئے سب لوگوں کی حاضری لی گئی کچھ کی موٹر وے پر ۔کچھ کی اسلام آباد داخل ہونے والے ٹول پلازہ پراور کچھ کی پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جناح ایونیو پر کیونکہ اس کے مطابق اُنہیں ادائیگی کی جانا تھی ۔ ٹیکسلا کے ایک یونین ناظم کی ریلی میں 100 روپے دھاڑی والے مزدور تھے جو وہ سڑکوں سے اُٹھا لائے تھے ۔ عوام سے مختلف ٹیکسوں کی مد میں وصول کیا ہوا کروڑوں روپیہ اس طرح برباد کرنے کے بعد بھی سرکاری ریلی جب پارلیمنٹ کے سامنے شروع ہوئی تو اس میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمی نہ تھے ۔

کہتے ہیں
سچائی چھُپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے

میانوالی کے ضلع آفیسر نے اپنی سادگی میں سچ بولتے ہوئے حکمرانوں کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیا ۔ تصویر بشکریہ ڈان اخبار ۔
میری دعا ہے کہ اللہ اس ضلع آفیسر کو حکومت کے شر سے بچائے ۔

حکومتی ریلی کی خاص بات یہ ہے کہ جب پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور صدر جنرل پرویز مشرف نے تقریر شروع کی اس وقت تمام پاکستانی اُسی دن کراچی میں مارے جانے والے 34 شہریوں اور 100 سے زائد زخمی ہونے والوں کے غم میں مبتلا تھے اور جنرل پرویز مشرف الطاف حسین کو اس کی جماعت ایم کیو ایم [جو کراچی کے قتلِ عام کی ذمہ دار تھی] کی کامیابی پر مبارکباد دے رہے تھے اور جنرل پرویز مشرف کے سامنے موسیقی کے ساتھ بھنگڑے ڈالے جا رہے تھے ۔