ایک ماہ قبل اپنی بيگم کی چُنيدہ قرآنی دعاؤں والی فائل ڈھونڈ رہا تھا کہ مُجھے اپنی بہت پُرانی ايک نوٹ بُک کے کُچھ اوراق ملے ۔ یہ نوٹ بُک حوادثِ زمانہ سہتے سہتے ورق ورق ہو کر منتشر ہو چکی تھی ۔ ان اوراق سے اپنی پچپن سال قبل لکھی ہوئی ايک نظم نقل کر رہا ہوں جب ميں نويں جماعت ميں پڑھتا تھا ۔ اُس زمانہ میں فيشن نے اچانک کروٹ لی اور جوان لڑکے لڑکيوں نے مغرب کی تقليد میں بہت چُست کپڑے پہننے شروع کر ديئے ايسے کہ بعض پہ شک ہوتا شائد جسم پر رکھ کر سِیئے گئے ہيں ۔ اس لباس کو ٹَيڈی لباس کہا جاتا تھا ۔ اس کے ساتھ ہی ميک اَپ اور فلم بينی کا رواج بھی بڑھا ۔
ہر موڑ پہ تم رنگِ زماں ديکھتے جاؤ
خاموش يہ سيلِ رواں ديکھتے جاؤ
تھيئٹر کو جاتے ہيں مسجِد سے نکل کر
اِسلام کے يہ روحِ رواں ديکھتے جاؤ
نازک جو ہوئی دخترِ ملت کی طبيعت
پردہ بھی ہوا اس پہ گِراں ديکھتے جاؤ
ہونٹوں پہ لِپ سٹِک رُخسار پہ پاؤڈر
يہ دُخترِ ملت ہے رواں ديکھتے جاؤ
اندھے ہوئے مغربی فيشن کے جنوں سے
انساں سے بنے ٹيڈی انہيں ديکھتے جاؤ
ہے اوجِ ترقی کی طرف رواں يہ زمانہ
اجمل کھڑے رفتارِ زماں ديکھتے جاؤ