ہم ۔ حکمران ۔ جہاد ۔ دہشتگردی

جہاد یا دہشتگردی

نیچے نقل کردہ آیات کو غور سے پڑھ کر دیکھئے کہ کیا جموں کشمیر ۔ فلسطین ۔ افغانستان اور عراق کے مسلمان ظالم قابض طاغوتی طاقتوں کے خلاف لڑنے میں حق بجانب ہیں یا نہیں اور کیا وہ جہاد کر رہے ہیں یا دہشتگردی کے مرتکب ہو رہے ہیں ؟

سورت ۔ 2 ۔ الْبَقَرَہ

[آیت 190] ۔ اور اﷲ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں مگر حد سے نہ بڑھو، بیشک اﷲ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ۔ [آیت 191] ۔ اور ان کو جہاں بھی پاؤ مار ڈالو اور انہیں وہاں سے باہر نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی زیادہ سخت ہے اور ان سے مسجدِ حرام کے پاس جنگ نہ کرو جب تک وہ خود تم سے وہاں جنگ نہ کریں، پھر اگر وہ تم سے قتال کریں تو انہیں قتل کر ڈالو، کافروں کی یہی سزا ہے ۔ [آیت 192] ۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے ۔ [آیت 193] ۔ اور ان سے جنگ کرتے رہو حتٰی کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین اﷲ ہی کے تابع ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو سوائے ظالموں کے کسی پر زیادتی روا نہیں

سُورت ۔ 8 ۔ الْأَنْفَال

[آیت ۔ 39] ۔ اے ایمان لانے والو ۔ ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورے کا پورا اللہ کیلئے ہو جائے پھر اگر وہ فتنہ سے رُک جائیں تو اُن کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے ۔ اور اگر وہ نہ مانیں تو جان رکھو کہ اللہ تمہارا سرپرست ہے اور وہ بہترین حامی اور مددگار ہے ۔

سُورت۔ 9 ۔ التَّوْبَہ

[آیت ۔ 29] ۔ جنگ کرو اہلِ کتاب میں سے اُن لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روزِ آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دینِ حق کو اپنا دین نہیں بناتے ۔ [ان سے لڑو] یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن جائیں ۔

محکوم یا مجبور مسلمانوں کی امداد

مسلمانوں کی مدد کرنے والوں کو بڑی تحقیر سے جہادی کہنے اور دہشتگرد قرار دینے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے والے ذرا نیچے منقولہ آیات کو غور سے پڑھیں اور اپنی حالت پر غور فرمائیں اور دیکھیں کہ کیا یہ آیات مسلمانوں کو مقبوضہ جموں کشمیر ۔ فلسطین ۔ افغانستان ۔ عراق اور شیشان کے مسلمانوں کی مدد کا حُکم ہیں یا نہیں ؟ اور مدد نہ کر کے کہِیں وہ طاغوت کے تابع اور شیطان کے ساتھی تو نہیں بن رہے ؟ دیگر ہماری حکومت نے طالبان کے خلاف جو امریکہ کا ساتھ دیا اور وزیرستان میں جو کچھ کر رہی ہے وہ کہاں تک جائز ہے ۔

سُورت ۔ 2 ۔ النِّسَآء

[آیت ۔ 75] ۔ اور مسلمانو تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لئے جنگ نہیں کرتے جو کمزور پا کر دبا لئے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ یا اللہ ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے لوگ ظالم ہیں، اور اپنی بارگاہ سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کر دے ۔ اور کسی کو اپنی بارگاہ سے ہمارا مددگار بنا دے ۔ [آیت ۔ 76] ۔جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا وہ طاغوت کی راہ میں جنگ کرتے ہیں، پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو، اور یقین جانو شیطان کی چالیں حقیقت میں بہت کمزور ہیں ۔ [آیت ۔ 78] ۔ رہی موت تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آ کر رہے گی خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو ۔ ۔ ۔ ۔

سُورت۔ 9 ۔ التَّوْبَہ

[آیت ۔ 38] ۔ اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں [جہاد کے لئے] نکلو تو تم بوجھل ہو کر زمین کی طرف جھک جاتے ہو، کیا تم آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی سے راضی ہو گئے ہو؟ سو آخرت [کے مقابلہ] میں دُنیوی زندگی کا ساز و سامان کچھ بھی نہیں مگر بہت ہی کم [حیثیت رکھتا ہے] ۔ [آیت ۔ 39] ۔ اگر تم [جہاد کے لئے] نہ نکلو گے تو وہ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا فرمائے گا اور تمہاری جگہ [کسی] اور قوم کو لے آئے گا اور تم اسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکو گے، اور اللہ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے ۔

ہتھیار ڈالنا

ہمارے جَرّی جرنیل نے 1971ء میں بڑے ٹھاٹھ سے ہتھیار ڈال دیئے تھے [کہ اس کی جان بچ جائے چاہے مُلک ٹوٹ جائے] ۔ ہمارے موجودہ کمانڈو جرنیل نے کہا تھا کہ افغان مسلمانوں کے خلاف امریکہ کی مدد کر کے پاکستان کو بچا لیا ہے کیونکہ امریکہ بہت بڑی طاقت ہے ۔ نیچے نقل کردہ آیات کو پڑھ کر دیکھئے کہ اللہ نے ان کیلئے کیا معاوضہ مقرر کر رکھا ہے ۔

سُورت ۔ 3 ۔ آل عِمْرَان

[آیت 173] ۔ اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں ان سے ڈرو، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور وہ کہنے لگے: ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے ۔ [آیت 174] ۔ آخر کار وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ واپس پلٹ آئے ۔ انہیں کوئی گزند نہ پہنچی اور اللہ کی راہ پر چلنے کا شرف بھی حاصل ہوا ۔ اور اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے ۔ [آیت 175] ۔ اب تمہیں معلوم ہوگیا کہ وہ دراصل شیطان تھا جو اپنے دوستوں سے خواہ مخوا ڈرا رہا تھا ۔ پس آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا اگر تم حقیقت میں مسلمان ہو

سُورت ۔ 8 ۔ الْأَنْفَال

[آیت ۔ 15] ۔ اے ایمان والو ۔ جب تم ایک لشکر کی صورت کفّار سے دو چار ہو تو ان [کفّار] کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو ۔ [آیت ۔ 16] ۔ جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری — الّا یہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کیلئے — تو وہ اللہ کے غضب میں گھر جائے گا ۔ اُس کا ٹھکانہ جہنم ہو گا ۔ اور وہ بہت بُری جائے بازگشت ہے ۔

سُورت۔ 9 ۔ التَّوْبَہ

[آیت ۔ 24] ۔ اے نبی ۔ کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیزواقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں تم اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا ۔

دو مسلمان گروہوں کا آپس میں لڑنا

وزیرستان میں جو کچھ ہو رہا ہے جسے کہا جا رہا ہے کہ مقامی غیرملکیوں کو مار رہے ہیں ۔ دونوں مسلمان ہیں ۔ مندرجہ ذیل آیات میں دیکھیئے کہ اگر ہمارے حُکمران مسلمان ہیں تو اُن کا فرض کیا ہے اور وہ کر کیا رہے ہیں ؟

سُورت ۔ 49 ۔ الْحُجُرَات

[آیت ۔ 9] ۔ اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں جنگ کریں تو اُن کے درمیان صلح کرا دیا کرو، پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی اور سرکشی کرے تو اس سے لڑو جو زیادتی کا مرتکب ہو رہا ہے یہاں تک کہ وہ اﷲ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، پھر اگر وہ رجوع کر لے تو دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ صُلح کرا دو اور انصاف سے کام لو، بیشک اﷲ انصاف کرنے والوں کو بہت پسند فرماتا ہے ۔ [آیت ۔ 10] ۔ بات یہی ہے کہ اہلِ ایمان [آپس میں] بھائی ہیں۔ سو تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرایا کرو، اور اﷲ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

13 thoughts on “ہم ۔ حکمران ۔ جہاد ۔ دہشتگردی

  1. ابو حلیمہ

    السلام علیکم۔۔
    دل پتھر ہو چکے ہیں تو درد کیسے محسوس ہو؟ نفس کی خواہش پورا کرنے میں جب انسان دن رات ایک کر دے تو وہ لوگ تو دہشتگرد ہی نظر آیٔں گے جنہوں نے اسلامی اقدار بچانے اور مسلمانوں کو ان کا حق دلانے کے لیے کمر بستہ جہاد فی سبیل اللہ کر رکھا ہے۔ اصل میں یہ ایک سوچ ہے جو ہماری نٔی نسل کے ذہنوں میں زبردستی ڈالی جا رہی ہے کہ ہر چیز کو اپنی عقل سے منوا کر دیکھو، اگر منطق نہ بنے تو وہ چیز قرآن کی تعلیمات ہی نہیں ہو سکتیں۔ ایمان بالغیب تو ان میں تھا جنہوں نے سمرقند و بخارا جیسے دور دراز علاقوں میں اسلام کی روشنی پہنچأی۔ اور ان میں جو مسلمانوں کا وقار بحال کرنے کے لیے مغرب کی توپوں سے طرابلس کے صحرا میں جان کی بازی لگا بیٹھے یا ان میں جو اب بھی طاغوتی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے میدانِ جنگ میں سر بکف ہیں۔۔۔
    رسول اللہ (ص) نے کہا کہ اگر ایک مسلمان کو اذیت پہنچے تو اس کی اذیت ہمیں بھی محسوس ہو۔۔۔کیسے ہو ہمیں ، ہم تو اپنے نفس کو ہی شکست نہیں دے سکے۔
    اجمل صاحب، جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ آپ بہت اچھا کرتے ہہیں جو گاہے بگاہے قرآنی تعلمیمات اپنے بلاگ پر ڈالتے رہتے ہیں۔ یہاں میں صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ، دل بہت کڑھ رہا ہے کے امتَ محمد (ص) پر یہ وقت آن پہنچا ہے کہ اب اپنے ہی بچوں کو اس بات کا ثبوت دینا پڑ رہا ہے کہ جہادِ فلسطین، شیشان، کشمیر، افغانستان، عراق در اصل جہاد ہے نہ کہ دہشتگردی۔۔۔ اللہ تعالٰی سےدعا ہے کہ ہم سب کو عقلِ سلیم اور جذبۂ ایمانی عطا کرے۔۔ آمین

  2. اظہرالحق

    انکل جی دوسرے بلاگز پر میں ذرا تلخ بھی ہو جاتا ہوں اور طنز بھی کر لیتا ہوں ، مگر پتہ نہیں آپکے بلاگ پر کچھ ریزرو ہو جاتا ہوں ۔ ۔ شاید یہ احترام کا عنصر ہے ۔ ۔ ۔
    انکل جی آپ نے درست لکھا ، اور یہ بالکل واضح احکامات ہیں اور یہ وہ ہی آیات ہیں جنہیں تعلیمی نصاب سے نکالا گیا ہے ۔ ۔ اور نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ اسلام اتنا واضح پیغام دیتا ہے کہ آپ اگر خود کو مسلمان کہتے ہیں تو اس سے انکار ممکن نہیں ، مگر ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو ان آیات کو سُن کر ہی کہتے ہیں کہ دیکھو قرآن تو قتل و غارت کا سبق دے رہا ہے ۔ ۔ خود کو سیکولر ثابت کرنے کے لئے وہ کیا کیا کچھ گڑ لیتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور

    خود کو نہیں بدلتے ، قرآن بدل لیتے ہیں ۔ ۔ ۔

    اللہ آپکو صحت تندرستی دے اور ہمیں ایسے ہی رہنمائی آپ سے ملتی رہے (آمین)

  3. ابو حلیمہ

    آپ اسے اتفاق کہیں یا اللہ کی قدرت، میں نے بھی آج ہی ابپنے بلاگ پر مسلمان مجاہدین کے لیے ایک خط اپنی بلاگ پر لکھا تھا اور ایک نظم بھی ڈالی جو ایک مجاہد کی دل کی سہی ترجمانی کرتی ہے۔
    شاید کو اسی لیے کہتے ہیں دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔
    و السلام

  4. اجمل

    ابو حلیہ صاحب
    السّلام علیکم و رحمتہ اللہ و جزاک اللہ خیرٌ
    نفس غالب آ جائے تو انسان کو اچھے بُرے کی تمیز نہیں رہتی ۔ اگر منطق کو نفس کے غلبہ سے دور رکھا جائے تو پھر قرآن شریف کا ہر پیغام منطق پر دلیل نظر آتا ہے ۔ اللہ سُبْحَانُہُ و تَعْالٰی نے مجھے شروع ہی سے منطق پرست بنایا اور اسی کی رو سے میں نے اللہ کو پہچانا ۔ اللہ نے میرے لئے شواہد مہیا کئے اور میرا یقین پُختہ ہوتا گیا ۔ جب سائنس کی دنیا میں انقلاب لانے والا آئزک نیوٹن کہہ دیتا ہے “مجھے ہاتھ کے ایک انگوُٹھے کی ایک پور کا مطالعہ یہ کہنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ اللہ ہے” تو پھر سائنس اور اسلام کا آپس میں ٹکراؤ کہنے والوں کے کیا جواز ہے ؟

  5. اجمل

    اظہرالحق صاحب
    آپ کا بہت شکریہ لیکن آپ میری کسی تحریر کو کسی لحاظ سے بھی غلط سمجھیں تو ضرور میری راہنمائی فرمائیں ۔ میں سب کچھ دوسروں سے کچھ سیکھنے کیلئے ہی لکھتا ہوں ۔ اللہ میرے سمیت سب کو كرآن شریف کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

    ابو حلیمہ صاحب
    آپ بھی ماشاء اللہ اچھی باتیں لکھتے ہیں ۔ میری عادت ہے کہ میں اضافی بات کیلئے یا کوئی مجھے کہے کہ میں اس کے بلاگ پر اپنے خیال کا اظہار کروں تو تبصرہ کرتا ہوں ۔ اسی لئے میں بہت کم تبصرہ کرتا ہوں

  6. Javed Iqbal

    السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    بہت خوب۔ واقعی آپ نے بہت خوب تجزیہ کیاہے لیکن ہمارے حکمران توبس کرسی کو ہی سب کچھ سمجھ رہے ہیں اللہ تعالی ان کو ہدایت دے(آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

  7. اجمل

    جاوید اقبال صاحب
    السّلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
    تبصرہ کا شکریہ ۔ سبحان اللہ ۔ سب کچھ اللہ ہی کی دی ہوئی توفیق سے ہوتا ہے لیکن ارادہ او کوشش انسان نے خود کرنا ہوتی ہے

  8. Roghani

    اجمل صاحب

    جہاد سے متعلق آپ کے پوسٹ پر تفصیلی تبصرہ کرنا چاہتا ہوں لیکن فی الوقت مصروفیت بہت زیادہ ہے اور یہ معاملہ بہت زیادہ احتیاط اور طوالت کا متقاضی ہے ۔ آپ نے مجھے جہاد کے موضوع پر کچھ لکھنے کا حکم بھی دیا تھا وہ بھی یاد ہے انشااللہ فراغت پاتے ہی اس موضوع پر کچھ لکھوں گا ۔

    لیکن سردست میں یہ کہنا چاہوں گا کہ قرآن کے آیات کو اس طرح پیش کرکے اس سے کسی حکم کا استنباط کرنا صحیح نہیں ۔

    قرآن کی ہر سورہ مبارکہ ایک موضوع کی حامل ہوتی ہے اور اس سورہ کے تمام آیات ایک دوسرے سے ربط رکھتے ہیں ۔ ہر آیت کی سیاق و سباق ہوتی ہے اور شان نزول بھی ۔ اس لئے کسی بھی آیت سے کسی حکم یا مسئلے کا استباط کرتے ہوئے ان تمام چیزوں کو نظر میں رکھنا نہ صرف اہم بلکہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر آیت کا مدعا سمجھنے میں بڑی ٹوکر لگنے کا اندیشہ قوی ہوتا ہے ۔

    مجھے آپ کے اس طرح قرآن کی آیات کو کسی مقدمے کو ثابت کرنے کےلئے پیش کرنے سے اختلاف ہے اور لامحالہ آپ کے استباط کردہ بعض تشریحات سے بھی لیکن اس پر بحث کسی اور وقت کے لئے اٹھائے رکھتے ہیں ۔ والسلام

  9. اجمل

    روغانی صاحب
    میں واضح کر دوں کہ میں عالمِ نہیں ہوں اور نہ مکمل علم رکھنے کا دعوٰی کرتا ہوں ۔ میں پچھلے ساٹھ سال سے طالب علم ہوں اور انشاء اللہ مرتے دم تک علم کی طلب رہے گی ۔ اگر میں نے غلط لکھا ہے تو اسے قرآن اور حدیث سے ثابت کیجئے اور میری راہنمائی کیجئے تو مجھے بڑی خوشی ہو گی ۔

    میں نے آیات لکھ کر مسلمانوں کو دعوتِ فکر دی ہے ۔ قرآن شریف ہر مسلمان گھرانے میں موجود ہے اور حدیث کے مطالع کے بغیر قرآن شریف کو سمجھنا اگر ناممکن نہیں تو بہت ہی مشکل ہے ۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے دین کو سمجھے اور سمجھنے کی خاطر دعوتِ فکر دے ۔

    قرآن شریف کے کسی بھی حوالہ کیلئے سیاق و سباق اور شانِ نزول کا احاطہ ضروری ہے اس کے متعلق دو رائے ہو ہی نہیں سکتیں ۔ لیکن اس بات کا ضرور خیال رکھیئے کہ شانِ نزول کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ قرآن شریف کی آیات ایک خاص وقت یا دور یا خاص لوگوں کیلئے ہیں ورنہ قرآن شریف دقیانوسی بن جائے گا اور اللہ سبحانہ و تعالٰی کا فرمان کہ قرآن ہمیشہ کیلئے ہے نعوذ باللہ من ذالک غلط ہو جا ئے گا ۔

  10. صبا سید

    السلام و علیکم
    بے شک، بے شک، اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔
    آپ نے جو آیات بیان کی ہیں، بالکل بجا، لیکن المیہ یہ ہے انکل کہ جہادی تنظیمیں قرآنی آیات کا ترجمہ تو ٹھیک کرتے ہیں، تسفیر بدل دیتے ہیں۔ عربی ایسی زبان ہے جس میں زیر زبر کا فرق الفاظ اورجملے کے معنی ہی بدل دیتا ہے۔ اور لوگ اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہیں، اپنی مرضی کی تفسیر بناتے پھرتے ہیں۔
    خدا ان لوگوں کو نیک راہ دکھائے۔
    آمین۔
    آپ کا لکھا یہ مضمون میں نے صبح سے نہ جانے کتنی بار پڑھا ہے۔
    جزاک اللہ

  11. HakimKhalid

    انکل اجمل
    جزاک اللہ
    اللہ آپکو صحت و تندرستی دے نیز آپ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے اور ہمیں ایسے ہی رہنمائی آپ سے ملتی رہے
    آمین

  12. اجمل

    حکیم خالد صاحب
    جزاک اللہ خیر ۔
    اللہ آپکو بھی صحت و تندرستی دے تا کہ آپ حق کی تبلیغ کرتے رہیں ۔
    آمین

  13. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ۔ اسپین

    ہتھیار ڈالنا

    ہمارے جَرّی جرنیل نے 1971ء میں بڑے ٹھاٹھ سے ہتھیار ڈال دیئے تھے [کہ اس کی جان بچ جائے چاہے مُلک ٹوٹ جائے] ۔ ہمارے موجودہ کمانڈو جرنیل نے کہا تھا کہ افغان مسلمانوں کے خلاف امریکہ کی مدد کر کے پاکستان کو بچا لیا ہے کیونکہ امریکہ بہت بڑی طاقت ہے ۔

    محترم جمل صاحب!
    سابق کمانڈو جرنیل نے جب سب سے پہلے پاکستان کا کھوکھلا نعرہ لگاتے ہوئے اپنی بزدلی پہ دانشمندی لبادہ اورح کر ساری قوم کو دھوکا دینے کی بات کی تھی ۔ اور طرح طرح کے جغادری اور پیشہ ور دانشور اس فیصلے کی حمایت میں دور کی کوڑی بجالانے میں نہیں تھک پارہے تھے اور پاکستان میں ُسب سے پہلے پاکستان، کے جعلی نعرے نے میں ہر سُو جنرل موصوف کی مدح سرائی کاایک سماں باندھ دیا تھا اُس دور میں بھی کچھ لوگوں نے سچ بات کی تحقیق کرتے ہوئے حق بات کہی تھی کہ۔ افغان جنگ میں پاکستان کے ایماء پہ قائم کی گئی (اس وقت تک پاکستان وہ واحد ملک تھا جس نے طالبان کی کھلم کھلا پست پناھی کی اور پاکستان کے ایماء پہ دو اور مسلم ممالک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کر رکھا تھا) طالبان حکومت کے خلاف ایک فریق بننے کی بجائے زیادہ سے زیادہ ہمیں اس سارے افغان قضئیے سے ایک طرف غیر جانبدار ہو جانا چاھیئے اور سخت مجبوری کے عالم میں بھی اگر بھارتی خدشے کے تحت اگر امریکہ جیسے طاقت کے نشے میں بد مست ہاتھی کو بغیر کسی شرط یا شرائط کی زنجیر سے باندھے اپنے ملک میں گھسنے دیا گیا تو یہ بدمست ھاتھی ہمارے سارے نظام کو روند ڈالے گا اس لئیے مناسب مگر سخت شرائط پہ امریکہ سے سارے معاملات کئیے جائیں ۔ مگر افسوس کہ کمانڈو جرنل انتہائی بزدل نکلا اور اس نے پاکستان کی جنگ بغیر ( کم از کم سیاسی محاز پہ ہی سہی) بغیر لڑے ھی ہار دی ۔ اور اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے محض چند سالوں میں اب کیا پاکستان سب سے پہلے ہے ؟ یا پاکستان کی سالمیت ہی داؤ پہ لگی ہوئی ہے۔ تب امریکہ ست ڈر کے ہم نے اپنے ھاتھ باندھ کر انہیں دے دئیے۔ اب ڈرے سہمے بیٹھے ہیں کہ کل کیا ہوگا۔ یہ طالبان کے بارے میں جو کہا جاتا ہی کہ اسلام آباد سے ستر اور تربیلا ڈیم سے تیس کلومیٹر طالبان پہنچ گئے ہیں یہ بھی اسی جنرل کی بزدلی کا نتیجہ ہے کہ پرائے گھر کی آگ ہم اپنے گھر لگا چکے ہیں ۔ وہ طالبان جن کا ھدف کابل تھا وہ آج اسلام آباد کی بات کر رہے ہیں۔ یہ تو امریکہ کی ڈھکی چھپی حکمت عملی تھی جس کے بارے میں کچھ لوگوں نے چیخ چیخ کر ارباب اقتدار کو آگاہ کیا تھا، مگر تب دیوانے کی بڑ کہہ کر ان کا ٹھٹھا اڑا دیا گیا۔

    دوسرے جرنیل شیر بنگال نے اپنے ایک انٹرویو میں ایک سوال پہ عجیب لظیفہ جواب دیا تھا کہ ُ ُمیں نے ھتیار اس لئیے ڈالے کہ میں پاکستان میں نوے ھزار بیواؤں اور لاکھوں یتیموں کا سامنا نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے اپنے فوجیوں (سولجرز) کو بچا لیا۔،، مانا کہ سابقہ مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کے اسباب اور بھی بہت سے ہیں۔ اور صرف فوج اس کی زمہ دار نہیں تھی ۔ مگر جنرل موصوف سے سوال کرنے والا یہ سوال جنرل سے تب نہ کر سکا کہ پاکستان کی قیمت دے کر فوج بچا لینے میں کیا حکمت تھی اور اس کی کیا تُک بنتی تھی جب کہ پوری دنیا میں جب سے عالم قائم ہے یہ طے شدہ اصول ہے کہ ملک بچانے کے لئیے فوجیں اپنا آپ قربان کرتی آئیں ہے نہ کہ ملک دے کر فوج اپنا آپ بچا لے ۔

    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ۔ اسپین
    23 اپریل 2009

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)