پابندياں صرف مسلمانوں کيلئے

بدھ مت پر عمل کرنے والی خواتين اپنا جسم اور بال ڈھانپتی ہيں مگر ان کا يہ عمل اپنے عقيدہ سے خلوص کہا جاتا ہے ۔ ان کے سر ڈھانپنے کو کوئی عليحدگی کا مظہر قرار نہيں ديتا ۔

 

 

 

 

عيسائی راہبائيں [نَنّز] بھی اپنا جسم اور بال ڈھانپتی ہيں مگر ان کا بھی يہ عمل اپنے عقيدہ سے خلوص کہا جاتا ہے ۔ ان کے سر ڈھانپنے کو کوئی عليحدگی کا مظہر قرار نہيں ديتا ۔

 

 چونکہ مسلم خواتين اپنے دين کی پيروی کرتے ہوئے سر ڈھانپتی ہيں اسلئے مغربی ملکوں ميں ان کا سر ڈھانپنا ممنوع قرار ديا گيا ہے ۔ حال ہی ميں برطانيہ کے ايک وزير جيک سٹرا نے مسلم خواتين کے سر ڈھانپنے کو عليحدگی کا مظہر قرار ديا اور اُنہيں بے پردہ ہونے کی تلقين کی پھر اس کی تائيد کرتے ہوئے برطانيہ کے وزيرِاعظم ٹونی بليئر نے بھی اسے عليحدگی کا مظہر قرار ديا ۔

آخر کيوں مسلم خواتين کے جسم اچھی طرح ڈھانپنے کو بغاوت ۔ تنگدلی ۔ انتہاء پسندی ۔ جہالت ۔ جنسياتی وغيرہ سب کچھ کہا جاتا ہے ليکن حقيقت يعنی پيدا کرنے والے کی فرماں برداری ماننے سے انکار کيا جاتا ہے ؟

پھر دعوٰی ہے کہ مغربی دنيا والے کشادہ دل اور روشن خيال ہيں جبکہ ان کا قول و فعل انہيں منافق ثابت کرتا ہے ۔

بشکريہ : حجاب ہيپّوکريسی

This entry was posted in معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

6 thoughts on “پابندياں صرف مسلمانوں کيلئے

  1. Rashid Kamran

    بھائی اجمل مسئلہ یہ ہے کہ کوئی اور مذہب انکی آئیڈیالوجی کو چیلینج بھی تو نہیں کرتا۔۔ کیونکہ انکو سب سے زیادہ خطرہ اس بات سے ہے کہ انہوں نے عورت کے استحصال کا جو نظام برسوں میں بنایا ہے کہیں ایسا نہ ہو کے مسلمان عورتوں‌ کی دیکھا دیکھی غیر مسلم عورتیں بھی اپنے تحفظ کے لیے حجاب استعمال کرنا شروع کردیں اور ان حقوق کا مطالبہ کردیں جو ایک مسلمان عورت کو اسلام نے دیے ہیں۔ مغرب کے لیے یہ بات نا قابل قبول ہے چناچہ اس نے مسلمان عورت کو نشانہ بنایا کیونکہ وہ انکے نظام کو انکے نظام میں رہتے ہوئے چیلنج کرتی ہے۔۔

  2. Wahaj Ahmad

    hal hi man aik maqala koonj blog say paraha. Aik amreekan muslima fully covered swimsuit main naha rahi thi. kisi admi nay shikayat ki manager say. Muslima nay usko wahin pakara aur chalange kiya (Oxford) woh maqala zuroor daikhiyay agar nahin dekha hay to.
    She said clearly that on the one hand the British say we Muslims do not integrate and when we try they bring up other objections. She has stopped going to the pool inspite of the manager’s reassurance etc. It however did bring out the bigotry as expected as had happened before. Jack Straw and Tony are clearly in the wrong and they know that is wrong. They still say those things because THAT is the FASHION amongst the “elite” of today (Qur’anic term is ‘Mutrafeeen’)

  3. اجمل

    راشد کامران صاحب
    ہر طرف سے انکل انکل کی سدا سنتے سنتے میں بہت بوڑھا ہو گیا تھا ۔ آپ کا شکریہ کہ بھائی کہہ کر مجھ میں جوانی جگا دی ۔ ہا ہا ہا ۔
    آپ کا خیال بالکل درست ہے ۔ اندر کی بات یہ ہے کہ عیسائی انتہاء پسندوں نے پہلے یہودیوں کو بڑا دشمن قرار دے کر اُن کا صفایا کیا ۔ پھر اشتراکیت کو بڑا دشمن گردان کر روس کی بڑی سلطنت کو توڑا اور اس کے بعد مسلمانوں کو ختم کرنے پر تُلے بیٹھے ہیں ۔ اور اس کے لئے وہ طرح طرح کے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ صحیح مسلمان بہت کم ہیں اور ناقص العقل مسلمان وقتی ذاتی مفاد کی خاطر استحصالی اور ظالم قوّتوں کا ساتھ دیتے ہیں ۔ اللہ بھی بڑا بے نیاز ہے ۔ ان تمام اسلام دشمن کاروائیوں کے باوجود خود اسلام دشمنوں کے گھر میں اسلام پھیل رہا ہے اور وہ لوگ ہم سے زیادہ باعمل مسلمان بن رہے ہیں ۔

  4. اجمل

    بھائی وہاج احمد صاحب
    مسئلہ لباس کا نہیں ہے بلکہ مسلم دشمنی کا ہے ۔ اسی طرح جو مسلمان اپنے ملک کے ناجائز قابض ظالمون کے خلاف اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اُنہیں انتہاء پسند اور دہشتگرد کہا جاتا ہے جبکہ عملی طور پر انتہاء پسند اور دہشتگرد وہ ہیں جو مسلمانوں کو یہ نام دے رہے ہیں ۔ میرا خیال ہے میں نہ متذکرہ تبصرہ کونج بلاگ پر پڑھا تھا ۔

  5. Dee

    Ajmal sahab, Budh mat khawateen or Essai khawateen kay saath saath , Yahoodey(shadi shuda) or sikh khawateen bhi sar dhank kay rakhti hain, jo kay in mazab ka hissa hai.
    Magar aap nahi sahi kaha kay baat sar dhanpney ki hi nahi balkay ,musalmaanoon ko unkay mazhab par azadi say amal karney deenay ki hai.
    Dee

  6. اجمل

    ڈی صاحب
    آپ نے بالکل ٹھیک لکھا ہے ۔ میں نے صرف ان کا ذکر کیا ہے جن کی تصاویر مجھے پبلک پلیس سے ملیں ۔ شادی شدہ یہودی عورت کے متعلق تو میں نے لکھا تھا اور تصویر بھی لگائی تھی ۔ اس کا ربط یہ ہے ۔
    http://iftikharajmal.wordpress.com/2006/12/15/

    سکھ عورت کی تصویر میرے پاس ہے لیکن وہ ایک پرائیویٹ فیملی کی ہے اور شائع کرنا مناسب نہیں ۔ البتہ میں عیسائی راہبہ اور فرانسیسی دُلہن کی تصاویر بھی شائع کر چکا ہوں جن کا ربط یہ ہے
    http://iftikharajmal.wordpress.com/2006/11/29

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)