میری پسند
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 17 Mar 2007
سُنا تھا ” عطائے تُو بلقائے تُو ” سو اظہرالحق صاحب نے میرے ساتھ وہی کیا ہے اور گیند واپس میری طرف پھینک دی ہے اور میری بچپن سے عادت ہے کہ میں اپنی پسند کسی کو نہیں بتاتا اور جو کام دوسرا کرے اور وہ اچھا ہو تو میں کہہ دیتا ہوں یہی مجھے پسند ہے ۔ میری اس عادت کی وجہ سے میں نے کئی بار والد صاحب [اللہ جنت نصیب کرے] سے ڈانٹ کھائی ۔ والدہ محترمہ [اللہ جنت نصیب کرے] میری اس عادت سے بہت تذبذب ہوتی تھیں گو مجھ سے باقی اولاد کی نسبت زیادہ پیار کرتی تھیں ۔ لیکن اب مجبوری ہے کیونکہ جوان کہیں گے پھنس گیا نہ بُڈھا ۔ ہی ہی ہی ہی ہی ۔
سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر مُجھے محبت ہے اور میں غلام ہوں اللہ سُبْحَانُہُ و تَعَالٰی کا جس نے مجھے بیش قیمت اور اَن گِنت نعمتوں سے نوازہ اور مسلسل نوازتا رہتا ہے ۔ اگر ہزاروں سال کی عمر پاؤں اور کُل عمر اللہ کے حضور سجدے میں گِر کر اُس کا شُکر ادا کرتا رہوں تو بھی شُکر کا حق ادا نہ ہو ۔ لیکن میں کتنا ناشُکرا ہوں کہ ایسا نہیں کرتا ۔ میری سب سے اِستدعا ہے کہ میرے حق میں دعا کریں ۔
سب کچھ دیا ہے اللہ نے مجھ کو میری تو کوئی بھی چیز نہیں ہے
یہ تو کرم ہے میرے اللہ کا مجھ میں تو ایسی کوئی بات نہیں ہے
1 ۔ [پسند] مُحبت مجھے اُن جوانوں سے ہے ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
2 ۔ پسند ہے اور عقیدت ہے اُس ماں سے جو اپنی اولاد کو اچھی تربیت دیتی ہے
3 ۔ پسند ہے وہ باپ جو صرف رزقِ حلال کماتا ہے ۔
4 ۔ پسند ہے وہ شخص جو کسی کی دل آزاری نہیں کرتا
5 ۔ پسند ہے وہ جوان جو انسانی خدمت کیلئے آگے بڑھتا ہے
6 ۔ پسند ہے وہ بچہ یا بچی جو خلوصِ نیت سے اچھی تعلیم حاصل کرنے میں سگرداں ہے
7 ۔ پسند ہے وہ اولاد جو اپنے والدین کی خدمت کرتی ہے
8 ۔ پسند ہے وہ شخص جو بغیر جتائے ضرورتمند کی مدد کرے
9 ۔ پسند ہے اور احترام ہے اُس اُستاذ یا اُستاذہ کا جو خلوص و محنت سے طلباء یا طالبات کو پڑھائے
10 ۔ پسند ہے اور عقیدت ہے ہر اُس بوڑھے مرد یا خاتون سے جو جوانوں کی صحیح سمت راہنمائی کرے
جوان یا شخص سے مُراد لڑکیاں لڑکے خواتین و حضرات
زمرہ : آپ بيتی | 18 تبصرے »
