پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگاتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو معطل کر کے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کردیا ہے۔ محترم جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب کے عہدے کی میعاد 2011 عیسوی میں ختم ہونا تھی ۔
ذرائع کے مطابق ریفرنس دائر کرنے سے پہلے صدر مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بلا کر ان سے استعفیٰ طلب کیا تھا۔ لیکن جسٹس افتخار چوہدری نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
پاکستان کی پہلی قومی جوڈیشل کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے جج میں احساس تحفظ ضروری ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ جج کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اگر وہ انتظامیہ کی مرضی کے مطابق فیصلہ نہیں بھی دے گا تو اسے برطرف نہیں کیا جا سکے گا اور اس کی مخالفانہ رائے اس کی کسی بلاجواز سزا کا سبب نہیں بنے گی۔
یہ مشترکہ اعلامیہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے پڑھ کر سنایا جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے آڈیٹوریم میں ہونے والی تین روزہ قومی جوڈیشل کانفرنس سے اختتامی خطاب کر رہے تھے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ججوں کے عہدے کی مقررہ معیاد کی ضمانت ہونی چاہیے تاکہ وہ ان مقدمات میں بھی اپنی دیانتدارانہ رائے دے سکیں جن میں ریاست کا کوئی اہم حصہ فریق ہو۔ تاہم انہوں نے عدلیہ کے خود احتسابی کے کڑے نظام کی موجودگی پر بھی زور دیا۔