جسٹس رانا بھگوان داس کہاں ہیں ؟

سب جانتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بعد سب سے سینیئر جج جناب جسٹس رانا بھگوان داس ہیں اور اِس وقت پاکستان میں اُن کی غیر حاضری شدّت سے محسوس کی جا رہی ہے ۔ اتنے سینیئر اور اور نیک نام اور ذمہ داری کا اتنا احساس رکھنے والے جج جنہوں نے علاقہ کے تقاضہ کا احساس کرتے ہوئے ایم اے اسلامیات بھی پاس کیا وہ اس وقت ملک کے اس بد ترین بحران میں بالکل لاتعلق ہو کر سوئے رہیں گے ؟ یہ قرینِ قیاس نہیں ۔

کراچی سے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسز بھگوان داس نے کہا کہ ان کے شوہر اس وقت بھارت کے شہر لکھنؤ میں چھٹیاں گزار رہے ہیں۔ جب ان سے جسٹس بھگوان داس کا لکھنؤ میں رابطہ نمبر پوچھا گیا تو انہوں نے پہلے کہا کہ ان کے پاس نمبر نہیں ہے اور بعد میں کہا کہ وہ دینا نہیں چاہتیں۔ ان کے مطابق جسٹس رانا بھگوان داس تین مارچ کو نجی دورے پر بھارت روانہ ہوئے تھے۔ مسز بھگوان داس کا کہنا تھا کہ ان کی اپنے شوہر سے بات ہوتی رہتی ہے، جو انہیں پبلک کال آفس سے فون کرتے ہیں۔

تبصرہ ۔ اس سے ایک بات واضح ہوئی کہ جسٹس رانا بھگوان داس پاکستان سے رابطہ میں ہیں ۔ تو پھر حکومت نے اُن سے کیوں رابطہ نہ کیا ۔ سندھ اور پنجاب کے چیف جسٹس صاحبان کو فوراً بذریعہ ہوائی جہاز اسلام آباد لا کر چند گھینٹوں کے اندر سپریم جوڈیشیل کونسل کا اجلاس کرا دیا گیا لیکن عدالت عظمیٰ کے سینیئر ترین جج سے رابطہ نہ کیا گیا ۔ کیا یہ قرینِ قیاس یا قرینِ انصاف ہے ؟

بی بی سی کے ہندوستان کے دارالحکومت دلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن سے رابطہ قائم کرنے پر وہاں موجود ایک اہلکار نے فون پر بتایا کہ انہیں جسٹس بھگوان داس کے ہندوستان کے دورے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا ’جسٹس بھگوان داس کے بھارت آنے کے بارے میں بھی ہمیں بی بی سی سے ہی پتہ چلا ہے۔‘ اگرچہ یہ بات ظاہر ہے کہ جسٹس بھگوان داس ایک اعلیٰ عہدے دار ہیں اور ان کے ہندوستان کے دورے کے بارے میں پاکستانی ہائی کمیشن کو اطلاع ضرور ہوگی لیکن تمام کوششوں کے باوجود پاکستانی ہائی کمیشن نے اس بارے میں اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔

لندن سے بی بی سی نے جسٹس بھگوان داس کے بھائی سری چند سے کراچی میں رابطہ کر کے پوچھا کہ ان کے بھائی ہندوستان میں کہاں ہیں اور ان کی پاکستان واپسی کب تک متعوقع ہے، تاہم سری چند نے کہا کہ ’کراچی سے جہاز تو دلیً گیا تھا، وہ وہاں سے کہاں گئے ہیں مجھے علم نہیں۔‘

ہندوستان میں سرکاری حلقے بھی جسٹس بھگوان داس کے ہندوستان دورے کے بارے میں خاموش ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت دلی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں لیکن اس ہوٹل سے رابط قائم کرنے پر معلوم ہوا کہ جسٹس بھگوان داس وہاں نہیں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کی سپریم کورٹ میں بعض ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جسٹس بھگوان داس ہندوستان دورے پرآئے تھے لیکن اب وہ واپس پاکستان جا چکے ہیں۔

اسی دوران پاکستان کے صدر پرویز مشرف کےذریعہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے تذکرے ہندوستان کے اخبارات میں ہورہے ہیں ۔ اخبارات نے مزید لکھا ہے کہ جسٹس چودھری کو ان کے عہدے سے اس لیے معطل کیا گیا کیوں کہ کیونکہ وہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے میں کبھی نہیں جھجکتے تھے۔

مارچ 2006 کے  آخر  میں پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے سینیئر ترین جج جسٹس رانا بھگوان داس کے اہل خانہ کو انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر روک دیئے جانے کے بعد جسٹس بھگوان داس نے بھارت کا دورہ منسوخ کر دیا تھا ۔

تبصرہ ۔ اُوپر کی خبروں سے واضح ہوتا ہے کہ جناب جسٹس رانا بھگوان داس صاحب یا تو ہندوستان گئے ہی نہیں یا واپس آ چکے ہوئے ہیں ۔ اُن کے بھائی سری چند صاحب کے بیان سے یہ گمان اُبھرتا ہے کہ کچھ چھُپایا جا رہا ہے ۔ یہی تأثر جناب جسٹس رانا بھگوان داس کی بیگم صاحبہ کے ٹیلیفون نمبر کے بارے بیان سے بھی ملتا ہے ۔

سوال ۔ کیا جناب جسٹس رانا بھگوان داس صاحب بھی درجنوں اُن پاکستانیوں کی طرح لاپتہ ہو گئے ہیں جن کا مقدمہ عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سُنا جا رہا تھا ؟

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

5 thoughts on “جسٹس رانا بھگوان داس کہاں ہیں ؟

  1. Saba Syed

    اسلام و علیکم
    حکام کے مطابق جسٹس بھگوان داس اس وقت سرکاری چھٹی پر تھے جب چیف جسٹس افتکار کو ڈس مس کیا گیا۔ان کی غیر موجودگی میں ان کے بعد سب سے “فعال“ جج کو قائم مقام چیف جسٹس کا حلف لینا پڑا۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ جسٹس بھگوان داس اگر ملک میں ہوتے بھی تو قائم مقام چیف جسٹس نہین بن سکتے تھے کیونکہ وہ ہندو ہیں، تو یہاں میں بتانا چاہتی ہوں کہ جسٹس بھگوان داس اس پہلے بھی کئی بار قائم مقام چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔ اور رہی بات اس چیز کی کہ اُس وقت وہ بھارت میں تھے لہٰذا ان کو جگہ جاوید اقبال کو قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لینا پڑا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں انڈیا سے پاکستان آنے میں کتنی دیر لگتی ہے؟ وہ بھی جب دورہ بقول ان کی اہلیہ کے ذاتی تھا کہ وہ چھٹیاں گزارنے گئے ہوئے تھے۔
    جسٹس بھگوان داس اس عہدے کا حلف لے سکتے تھے لیکن یہ صورتحال حکومت کو خاصی بھاری پڑتی، کیونکہ جسٹس بھگوان داس حکومت کے کئی فیصلوں اور حکمتِ عملی کے خلاف تھے۔
    اب سوال یہ ہے کہ اس وقت جب عدلیہ شدید بحران کا شکار ہے، جسٹس بھگوان داس آخر کہاں ہیںِ؟ انہیں منظر عام پر لایا نہیں جا رہا یا وہ خود سامنے آنے سے کترا رہے ہیں۔ یہ خبر بڑی تیزی سے گردان کر رہی ہے کہ جسٹس بھگوان داس انڈیا گئے ہی نہیں تھے۔ اگر وہ انڈیا نہیں گئے، پاکستان میں بھی نہیں ہیں، تو آخر کہاں ہیں؟
    ایک حلقی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ خود عوام کے سامنے نہیں آرہے کیونکہ وہ اس تمام کاروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ جسٹس بھگوان داس دسمبر ٢٠٠٧ میں ریٹائر ہونے والے ہیں۔
    حقیقت اللہ ہی جانتا ہے، آج نہیں تو کل حقیقت سامنے آہی جائے گی۔
    فی اماناللہ

  2. Saba Syed

    P.S=
    ویسے اگر یہ بات سچ ہے کہ وہ خود اس سارے قصے میں سامنے نہیں آرہے تو کیا یہ ملک کے ایک سینئیر اور قابل جج کے لیے فخر کی بات ہے؟ کیا یہ اپنی ذمےداریوں سے منہ موڑنے والی بات نہیں؟؟؟کیا کسی سینئیر جسٹس کا اس طرح سے چھپ جانا افسوسناک بات نہیں خاص طور پر تب جب ملک کی عدلیہ سخت قسم کے بحران سے گزر رہی ہو۔

  3. اجمل

    صبا سیّد صاحبہ
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ
    یہ بات قرینِ قیاس نہیں ہے کہ جسٹس رانا بھگوان داس جیسا جج ایسے موقع پر روپوش ہو جائے ۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ وہ 3 مارچ کی صبح تک پاکستان میں تھے ۔ جسٹس رانا بھگوان داس پہلے متعدد بار قائم مقام چیف جسٹس بنائے جا چکے ہیں اس لئے بھی اب بھی بنانا ضروری تھا ۔
    فی امان اللہ

  4. Roghani

    23مارچ میں چند دن باقی ہیں ۔ میرے خیال میں ہمیں انتظار کرنا چاہیئے کہ ان کی چھٹی ختم ہونے پر کیا ہوتا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)