ثقافت کا ایک اہم حصہ ۔ لوری

لوری ان الفاظ کو کہتے ہيں جو ماں اپنے ننھے بچے کو سلانے کيلئے کہتی ہے ۔ يہ الفاظ منظوم بھی ہو سکتے ہيں اور نثر ميں بھی ۔ مغربی دنيا ميں يہ رسم ختم ہونے کے ساتھ ماں بچے کا وہ خاص تعلق بھی ختم ہو گيا ہے جو مشرقی قوموں ميں ابھی باقی ہے گو مغرب پرستی کی زد ميں آ کر قليل ہوتا جا رہا ہے ۔ لورياں لسانی اور علاقائی اثر سے بدل جاتی ہيں ليکن مدعا سب کا ايک ہی ہوتا ہے ۔

تمام دنيا کے مسلمانوں کا ايک اُمت ہونا بالخصوص لوريوں پر اثر انداز ہوا اور الفاظ مختلف ہونے کے باوجود ان ميں دين اسلام کی جھلک نماياں ہوتی ہے ۔ ميرے چھوٹے بہن بھائیوں کو سُلانے کيلئے ميری محترمہ والدہ [اللہ انہيں جنت ميں جگہ دے] جو لورياں سناتی تھيں وہ جتنی مجھے یاد ہیں لکھ رہا ہوں ۔

پنجابی ميں لَوری

اللہ تُوں بَيلی وی تُوں
قادر تُوں کريم وی تُوں
دِتا ای تے پالِيں وی تُوں
اللہ اللہ کريا کرو
خالی دَم نہ بھَريا کرو
مدد تيری يا رسول
دِل وِچَوں غم ہٹاؤ حضور
اللہ ای اللہ ۔ اللہ ای اللہ ۔ اللہ ای اللہ

اُردو ميں لَوری

اللہ ہی اللہ کيا کرو
دُکھ نہ کسی کو ديا کرو
جو دنيا کا مالک ہے
ياد اُسی کو کيا کرو
اللہ ہی اللہ ۔ اللہ ہی اللہ ۔ اللہ ہی اللہ

عربی ميں لَوری

نامْ ھنا يا حَلْو يا اُوت اُوت
اَنا جِبلَک جَوزً کُوت کُوت
يا حبِيبی يا مُحَمد
صَلّ اللہُ علَيہِ وَ سَلّم
اللہ ۔ اللہ ۔ اللہ ۔ اللہ

ترجمہ ۔ نام ۔ سو جا ۔ ۔ حَلْو ۔ ميٹھا مگر بہت پيارے کيلئے استعمال ہوتا ہے يہ حَلو [Helv] بولا جاتا ہے حلُو [Huloo] نہيں اگر بچی ہو تو حَلوہ [Helva] جو ہم حلوہ [Hulva] کہتے ہيں وہ نہيں ۔ ۔ اُوت اُوت ۔ ننھے مُنے يا ننھی مُنی ۔ ۔ اَنا ۔ ميں ۔ ۔ جِبلَک ۔ تمہارے لئے لاؤں گی ۔ ۔ ۔جَوزً۔ جوڑا يہ لفظ زوجً ہے مگر جوز بولا جاتا ہے ۔ ۔ کُوت کُوت بطخ کے چوزے ۔ ۔ حبِيبی ۔ ميرے پيارے

This entry was posted in معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

9 thoughts on “ثقافت کا ایک اہم حصہ ۔ لوری

  1. Saba Syed

    اسلام و علیکم
    صبح تڑکے اٹھنے کے با وجود مجھے رات کو دیر سے نیند آتی تھی، اور یہ عادت اب بھی ہے۔ امی کو تمام بہن بھائیوں میں میں نے سب سے ذیادہ تنگ کی اہے (اللہ معاف کرے)، اور رات کو سوتے وقت بھی میں انہیں بہت پریشان کرتی تھی۔ تب وہ مجھے سندھی میں لوری سناتی تھیں۔ یہ لوری شاہ عبدالطیف کی لکھی ہوئی تھی جس میں ایک چھوٹا سا بچہ اپنی ماں سے سندھ سے محبت کا ذکر کرتا ہے۔ مجھے یہ لوری آج بھی یاد ہے۔ امی یہ لوری سناتے سناتے خود بھی کبھی کبھی رو پڑتی تھیں۔ (پتا نہیں کیوں) بحرحال آج کی ماں کو کہاں اتنی فرست کہ وہ بچوں کو لوری سنائیں۔ بچوں کے کمرے میں رکھا ٹی وی دیکھ دیکھ کر ہی بچے سو جاتے ہیں اب تو۔ کاش کہ یہ روایت پھر سے زندہ ہو سکے۔
    nice post, by the way. It penetrated my heart and soul.
    فی امان اللہ

  2. ابو حلیمہ

    السلام علیکم،۔
    یہ کمبخت ٹی وی بچوں کی پرورش میں بہت خلل ڈالتا ھے۔ اسی لیے ہم نے تو اپنے گھر کہ اس سے پاک رکھا ہوا ہے اب تک۔ ٹی وی سے شکوہ نہیں کر رہا ہوں، ہماری عادتوں کی بات کر رہا ہوں۔ گھر میں ٹی وٰ ہو تو بچے کو اس کے سامنے لٹا دیا جاتا ہے اور ماں باپ خوش کہ رونا تو بند کیا۔ کس کے پاس ٹا ٔم ہے کہ بچے سے باتیں کرے لوری سنأے۔
    ویسے ہمارے گھر میں میری بیگم میرے بیٹی کو مختلف زبانوں میں لوریاں سناتی ہے۔ اردو، عربی، ملایو۔

    عربی زبان کی مشہور لوری۔

    حسبی ربّی جل اللہ
    معافی قلبی غیر اللہ
    نور محمّد صلی اللہ
    حق لا الٰہ الا اللہ
    ۔
    ملایو زبان کی ایک لوری
    Nina bobo,
    oh, nina bobo,
    kalau tidak bobo,
    digigit nyamuk.

    Adik sayang,
    adikku sayang
    tidurlah tidur
    dalam buaian.

    ترجمہ:۔
    پیارے سے بچے سو جا
    سو جا نہیں تو مچھر کاٹ لے گا
    میرے پیارے بچے
    میری جان سے پیارے بچے
    سو جا سو جا۔

  3. اجمل

    صبا سیّد صاحبہ
    السّلام علیکم و رحمتہ اللہ
    ارے بی بی ۔ یہ میرے والی بُری عادت آپ نے کیوں اپنائی [مذاق] ؟ البتہ میری امی کے میں نے کبھی سخت تکلیف میں اُنہیں تنگ کرنا تو بڑی بات ہے کبھی اُف بھی نہ کیا ۔
    آپ یہ سندھی لوری فوراً اُردو ترجمہ کے ساتھ مجھے بذریعہ ای میل بھیجئے ۔ اچھی مائیں عموماً ممتا کی وجہ سے اپنے بچے کو لوری سناتے ہوئے آنسو باتی ہیں ۔ میرے خیال میں وہ دل ہی دل میں اللہ سے اپنے بچے کیلئے دعا کر رہی ہوتی ہیں اور عاجزی میں اُن کے آنسو نکل آتے ہیں ۔
    آپ کے عمدہ جذبات نے مجھے ممنون کیا ۔ اللہ خوش رکھے ۔

    ابو حلیمہ صاحب
    السّلام علیکم و رحمتہ اللہ
    آپ کا خیال درست ہے ۔ ہماری بیماریوں میں سے ایک ٹی وی بھی ہے مگر قصور ٹی وی کا نہیں ۔
    لوریاں لکھنے کا بہت شکریہ ۔ یہ عربی کی لوری جو آپ نے لکھی ہے کتابوں میں ہے جیسا کہ کئی اچھی لوریاں اُردو کی کتابوں میں ہیں ۔
    ایک ذاتی سوال پیشگی معذرت کے ساتھ ۔ آپ کی بیگم صاحبہ ملائی ملائیشین ہیں ؟

  4. Saba Syed

    اسلام و علیکم،
    ابو حلیمہ
    ارے آپ بچارے ٹی وی کو کیوں کوستے ہیں؟ عقل خدا نے سب کو دی ہے۔ یہ چیزیں ہماری سہولتوں کے لیے انسانوں نے اللہ کی دی ہوئی عقل سے بنائی ہیں۔ ہم ہی اگر اسے غلط طریقے سے استعمال کرتے ہیں تو اس میں بیچاری بے جان چیزوں کا کیا قصور؟
    ٹیلی فون ہو، ٹی وی ہو، انٹرنیٹ یا موبائل ہر سائنسی ایجاد کا غلط استعمال ہم نے اپنا فرض بنا لیا ہے۔
    اجمل انکل،
    نہیں میں نے عادت تو نہیں لی آپ کی، لگتا ہے اللہ نے جس مٹی سے آپ کو تخلیق کیا تب بچی کچی مٹی مجھے تخلیق کرنے کے لیے رکھ چھوڑی تھی۔ (ہی ہی ہی ہی) دعاؤں کے لیے شکریہ۔ میں فوراً سے بیشتر یہ لوری آپ کو بھیجے دیتی ہوں۔
    فی امان اللہ

  5. اجمل

    صبا سیّد صاحبہ
    السّلام علیکم و رحمتہ اللہ
    میں نے سُنا اور پڑھا بھی ہے کہ اللہ سبحانُہُ و تعالٰی نے تمام روحیں ایک ہی وقت میں بنائیں تھیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کی روح اوپر کے درجہ میں تھی اور میری نیچے اور آپ کی روح کے عکس نے میری روح پر اثر کر دیا ۔ ہی ہی ہی
    فی امان اللہ

  6. Saba Syed

    وعلیکم سلام
    ہی ہی ہی۔
    آپ نے سندھی لوری کا کہا تھا۔ حاضر ہے۔ کافی اموشنل لوری ہے۔

    سندھی لوری:
    امڑ ڈی دعا آؤن سندھڑی تان سِر ڈیان
    غیر پھنجی انکھین سان
    ھن دھرتی تی کین ڈسان
    وڈو تھی دشمن سان وڑان
    پھنجی سندھو دیش میں
    سمڑ واری ڈی تہ لولی
    کیھن امڑ مان سُمان
    مھنجی سندھ، منھنجی جند
    آھی سورن مہ ایان
    سمڑ واری ڈی تہ لولی
    کیھن امڑ مان سُمان

    ترجمہ:
    ماں دعا کرو کہ میں سندھ پر اپنی جان دے دوں
    اپنی آنکھوں سے اپنے وطن میں غیروں کی حکمرانی نہ دیکھوں
    بڑا ہوکر دشمن سے جہاد کروں، اپنے وطن سندھ کے لیے
    لیکن ابھی مجھے سونا ہے، مگر مجھے نیند نہیں آرہی
    سونے والی لوری دو مان تاکہ میں سو سکوں
    کیونکہ میرا سندھ، میری جان بڑی مشکلوں میں ہے، میں کیسے سو سکتا ہوں
    اسلیے سونے والی لوری دو مان تاکہ میں
    سو سکوں

    فی امان اللہ

  7. ابو حلیمہ

    السلام علیکم، ۔
    اجمل صاحب، پہلے تو بہت شکریہ جو آپ نے مجھے بلاگ کی سیٹینگ صحیح کرنے کا کہا۔ ۔ آپ نے سوال کیا بیگم کے بارے میں۔ ضی میری بیگم انڈونیشیا سے ہیں اور میری شادی بھی انڈونیشیا میں ہی ہؤی تھی۔

    صبا سیّد صاحبہ،۔
    یہ تو میں پہلے ہی کہ چکا ہوں ٹی وی سے گلہ نہیں ہے، مسٔلہ ہماری عادتوں کا ہے۔ کمزوری تو ہماری ہے۔

  8. اجمل

    صبا سیّد صاحبہ
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ ۔ لوری بھیجنے کا شکریہ ۔

    ابو حلیمہ صاحب
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ ۔ تبصرہ کی حدود کی تبدیلی اور معلومات کا شکریہ ۔

  9. نجیب جٹ

    لورم لوری
    دُودھ دی کٹوری
    پی لے نکیا
    لوکاں توں چوری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)