What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ ۔ ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي



تختۂ کار

محفوظہ برائے February 21st, 2007

مُحبت اور ہوّس

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 21 Feb 2007

کسی کا خود بخود دل میں سما جانے کا نام مُحبت ہے
کسی سے محبت جتانےکی خواہش ہوّس کے تابع ہوتی ہے

مُحبت میں عاشق کو بے بسی کا احساس ہوتا ہے
ہوّس میں دوسرے کو بے بس کرنے کی خواہش ہوتی ہے

مُحبت میں خود کسی کا ہو جانے کا ارمان ہوتا ہے
ہوّس میں کسی کو اپنانے کا پسِ منظر ہوتا ہے

مُحبت کا آغاز محبوب کے دل سے ہوتا ہے گو عاشق سمجھتا ہے کہ اُسے محبوب سے عشق ہو گیا ہے
جب کسی پر محبت مسلّط کی جائے تو اس کی بنیاد ہوّس ہوتی ہے

مُحبت میں عاشق نفع نقصان سے لاتعلق ہوتا ہے
فایدہ یا حصول کی طلب ہوّس کا نتیجہ ہوتی ہے

محبت جنسی خواہش سے مبرّا اور پاکیزہ ہوتی ہے
ہوّس جنسی تعلق یا خواہش بیدار کرتی ہے

قرآن محبت کا سبق دیتا ہے اور شیطان ہوّس کا

زمرہ : معاشرہ | 32 تبصرے »