بچے برائے فروخت

میاں چنوں میں ایک شخص شوکت علی نے اپنی غربت کے باعث بچوں کے گلے میں برائے فروخت کے چارٹ لٹکا کر مظاہرہ کیا ۔ سننے میں آیا ہے کہ اس خبر کی اشاعت کے بعد حکومت ۔ مختلف این جی اوز ۔ مخیر حضرات اورخیراتی اداروں نے میاں چنوں کا رخ کر لیا ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم سیکرٹریٹ نے میاں محمد امیر بودلہ چیئرمین پبلک سیفٹی کمیشن کے توسط سے شوکت علی کو بینک سکیورٹی گارڈ کی نوکری کی پیشکش کی ہے۔ ایک ٹیکسٹائل کے منیجر نے 6000 ہزار روپے تک کی نوکری، لاہور کے ایک شہری نے پاک پتن میں واقع اپنے بورڈنگ اسکول میں اس کے بچوں کی تعلیم رہائش اور مکمل اخراجات برداشت کرنے کی آفر دی ہے جبکہ کراچی چیمبر آف کامرس نے بھی شوکت علی کو مالی امداد کا عندیہ دیا ہے علاوہ ازیں بیرون ممالک ناروے، انگلینڈ، امریکا، و دیگر ممالک سے درد دل رکھنے والے پاکستانیوں نے بھی رابطہ کر کے مدد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

نوائے وقت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنگ

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

5 thoughts on “بچے برائے فروخت

  1. esSJee

    انکل مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ سب صرف اس شخص کے لیۓ ہو گا۔ان سب کے لیۓ کیا؟جو ایسے ہی حالات میں ہیں مگر اس طرح اپنی مجبوریوں کا بتا نہیں سکتے؟؟؟ حکومت کا کوي حال نہیں۔ خیر۔۔۔ اللہ بہتری کرے سب کے لیۓ

  2. اجمل

    ایس جی صاحبہ
    بیٹی ۔ آج کی دنیا میں شرافت کا کوئی مُول نہیں ۔ جو بات مغربی میڈیا تک پہنچ جاتی ہے اس پر کچھ پیش قدمی ہو جاتی ہے ۔ اس میں بھی بعض اوقات بیان دے دیا جاتا ہے لیکن عمل نہیں ہوتا ۔
    ہم سب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ۔ ایک حدیث کے مطابق مسلمان وہ ہے جو کھانا کھا کر سوئے تو اس کے قرب و جوار میں کوئی بھوکا نہ ہو ۔ ذرا اس پیمانہ سے دیکھیں کتنے مسلمان ہیں ہمارے ملک میں ۔
    مثالیں تو ہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دیتے ہیں جن کا قول ہے کہ اگر دجلہ کے کنارے ایک کُتا بھی بھوکا مر گیا تو عمر اُس کیلئے جوابدہ ہو گا ۔ دجلہ ان دنوں اسلامی خلافت کی سرحد پر تھا ۔ اس پیمانے پر ہماری حکومت کی مسلمانی ناپ لیجئے ۔
    دعا کیا کیجئے اپنے لئے کہ اللہ سیوھی راہ پر چلائے اور ہو سکے تو مجھے اپنی دعا میں یاد رکھئے ۔ جزاک اللہ خیرٌ

    شعیب صفدر صاحب
    ہاں ۔ آج کی دنیا کا شیوا یہی ہے ۔ ہر چیز کی قیمت بازار میں لگتی ہے ۔ آجکل بہت سی نیک سیرت لڑکیوں کی شادی صرف اسلئے نہیں ہوتی کہ وہ اپنے حُسن کا بازار لگانے پر تیار نہیں ہوتیں ۔ اللہ معاف کرے اور محفوظ رکھے ہر شر سے ۔

  3. اجمل

    فیصل صاحب
    آپ بھی ٹھیک کہتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں غربت اور منافقت دونو ہی پریشان کُن حد تک بڑھ چکے ہیں ۔ اس سلسلہ میں میری آج کی پوسٹ بھی پڑھ لیجئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)