جہاد کے مخالفين کيلئے
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 21 Nov 2006
نوٹ ۔ اس نظم ميں شيخ سے مراد پڑھا لکھا آدمی ہے
فتویٰ ہے شيخ کا يہ زمانہ قلم کا ہے
دنيا ميں اب رہی نہيں تلوار کارگر
ليکن جنابِ شيخ کو معلوم کيا نہيں؟
مسجد ميں اب وہ وعظ ہے بےسود و بےاثر
تيغ و تفنگ دستِ مُسلماں ميں ہے کہاں
ہو بھی تو دل ہيں موت کی لذّت سے بے خبر
کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دِل
کہتا ہے کون اسے کہ مُسلماں کی موت مر
تعليم اس کو چاہئيے ترکِ جہاد کی
دنيا کو جس کے پنجۂِ خونيں سے ہو خطر
باطل کی فال و فر کی حفاظت کے واسطے
يورپ زرہ ميں ڈوب گيا دوش تا کمر
ہم پوچھتے ہيں شيخِ کليسا نواز سے
مشرق ميں جنگ شرہے تومغرب ميں بھی ہےشر
حق سے اگر غرض ہے تو زيبا ہے کيا يہ بات
اسلام کا محاسبہ ۔ يورپ سے درگذر
علّامہ محمد اقبال
