تصحيح ۔ نظم ۔ روزے کی برکتيں

ميں نے 2 نومبر کو محمد رفيع کی گائی ہوئی يہ نظم تحرير کی تھی اورتصحيح کی درخواست بھی کی تھی مگر کسی نے ميری مدد نہ کی ۔ دراصل آجکل لوگ پاپ موسيقی ہی کو سب کچھ سمجھتے ہيں جس کی انگريزی کی طرح کوئی کَل سيدھی نہيں ۔ ميری بيٹی اپنے بھائی کو ساتھ ليکر گئی اور اسلام آباد کی دکانوں سے ايک سی ڈی ڈھونڈ لائی جس ميں يہ نظم بھی تھی ۔ چنانچہ معلوم ہوا کہ مندرجہ ذيل اشعار ميں بھول گيا تھا ۔ ويسے اب 2 نونبر والی نظم ٹھيک کر دی ہے اصل مزا اُسے پڑھنے ہی ميں آئے گا

جس وقت ماں نے ديکھا بيٹے کا غم ميں حال
سمجھايا اُس کو اور کہا سُن اے ميرے لال
روزہ نہيں ہے فرض ابھی تجھ پہ غم نہ کر
دل کانپتا ہے ميرا تو آنکھوں کو نم نہ کر
لڑکا يہ بولا ماں سے نہيں مجھ سے کچھ نہاں
ميں نے سنا ہے بارہا رمضان کا بياں
قرآن اس مہينے ميں نازل ہوا ہے ماں
رمضان برکتوں کا مہينہ ہے بے گماں
جنّت ميں گھر ملے گا ہر اک روزہ دار کو
پائے گا دل ميں جلوۂِ پروردگار کو
القصہ جب رات ہوئی وہ نہ سو سکا
دل ميں تھا ايسا شوق کہ وہ جاگتا رہا
سحری کے وقت سحری کی اور روزہ رکھ ليا
خوش تھا کہ آج پورا ہوا دل کا مُدعا
سمجھايا ماں نے باپ نے لاکھوں کئے جتن
باز اپنے شوق سے مگر آيا نہ گُلبدن
ہر سمت جب پھيل گيا نُورِ آفتاب
ماں بيٹے سے يہ بولی کہ اب کھا لے تو شتاب
وہ بولا روزہ ٹوٹے گا ہو گا مجھے عذاب
ماں بولی تيرے بدلے ميں دوں گی وہاں جواب
کھانا تُو کھا لے ديکھ تو کيا ہو گيا ہے حال
بارہ بجے ہيں اور تُو بھوکا ہے ميرے لال
اس درجہ اُس کے سينے ميں روزے کا شوق تھا
ماں نے ہزاروں مِنتيں کيں کچھ نہ ہو سکا
بے تاب اپنی ماں کو ديکھا تو بول اُٹھا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سوکھی زبان طاری ہوئی اُس پہ بيہُشی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہر سُو اذاں کی ہوئی اتنے ميں اک پُکار
۔ ۔ ۔ ۔
پھر بارگاہِ حق ميں جھُکے ہو کے بے قرار
فارغ ہوئے نماز سے تھے دونوں اشکبار
ماں کی زبان پر تھی صدا شور و شَين کی
اور سامنے تھی لاش رکھی نورِعين کی
دونوں تھے اپنے بيٹے کے ماتم ميں مبتلا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بولا فقير اس پہ نہ کر رنج تُو ذرا
اللہ ہے کارساز دے گا اُسے جلا
بچے کی لاش مجھ کو بھی تو اک نظر دکھا

This entry was posted in تاریخ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)