What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے October 19th, 2006

وطن سے دور بسنے والوں کے احساسات

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 19 Oct 2006

ميں 1967 ميں وطن سے دور جرمنی کے شہر ڈوسل ڈَورف ميں تھا ۔ عيد کا دن تھا ۔ ڈوسل ڈَورف کی گہما گہمی کے باوجود محسوس کر رہا تھاکے ميں کسی بياباں يا صحرا ميں بالکل اکيلا ہوں جہاں کوئی چرِند پرِند بھی نہيں ۔ کچھ دير گُم سُم رہا پھر وطن کی ہر چيز ذہن ميں متحرک ہو گئی ۔ اُس دن جو شعر ميں دہراتا رہا يہاں درج کر رہا ہوں

چمن چھُٹا تو گُل و ياسمن کی ياد آئی
پہنچ کے دشت ميں صبحِ چمن کی ياد آئی

وطن وہ مرکزِ صِدق و صَفا حرِيمِ جمال
وطن وہ کعبہءِ عِلم و ہُنر عرُوجِ کمال
وطن کہ سُرمہءِ چشم طلب ہے خاک اس کی
وطن کہ شہرِنغمہءِ نکہت ۔ ديارِ حُسن و جمال
وطن جہاں ميری اُمنگوں کا حُسنِ تاباں ہے
وطن کہ جہاں ميری شمعءِ وفا فروزاں ہے
وطن جہاں ميری يادوں کے دِيپ جلتے ہيں
وطن جو يوسفِ بے کارواں کا کنعاں ہے

ديارِ شوق سے تيرا اگر گذر ہو صباء
گُلوں سے کہنا کہ پيغمبرِ بہار ہوں ميں
ميرے نفس سے ہيں روشن چراغِ لالہ و گُل
چمن کا روپ ہوں ميں ۔ حُسنِ لالہ زار ہوں ميں

ميرے خلوصِ سُخن پہ جو اعتبار آئے
روِش روِش پہ چمن ميں کوئی پُکار آئے
ہميں بھی باغِ وطن سے کوئی پيامِ يار آئے
ہميں بھی ياد کرے کوئی جب بہار آئے

زمرہ : آپ بيتی | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

رِيڈل نے مشرف کا بھانڈا پھوڑ ديا

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 19 Oct 2006

صدر جنرل پرويز مشرف کی کتاب کی رونمائی کے ساتھ ساتھ امريکہ کے سابق صدر بِل کلِنٹن کے مشيرِ خاص بروُس رِيڈل کی کتاب چھپی ہے جس ميں اُس نے جولائی ميں اس وقت کے وزيرِ اعظم نواز شريف اور صدر بِل کلِنٹن کے مابين ہونے والے ايک اہم اجلاس کی مختصر کاروائی لکھتے ہوئے معرکہ کرگل اور حکومت پر فوج کے متوقع قبضہ کے متعلق حقائق بيان کئے ہيں جس سے جنرل پرويز مشرف کے دعوے غلط ہو جاتے ہيں مندرجہ ذيل رابطے پر کلِک کر کے يا اسے براؤزر ميں لکھ کر تفصيل پڑھيئے http:// hypocrisythyname.blogspot.com/2006/10/truth-musharraf-vs-nawaz.html

زمرہ : خبر | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »