زمين ميرے پاؤں کے نيچے سے نکل گئی

پچھلے سال آج کے دن ميں کسی کام سے راولپنڈی کچہری گيا ہوا تھا ۔ وہاںگہری سوچ ميں گُم ايک دفتر سے دوسرے دفتر جا رہا تھا کہ ميرے پاؤں کے نيچے سے زمين زوردار جھٹکے کے ساتھ ايک طرف کو گئی ۔ ابھی سنبھل نہ پايا تھا کہ زمين دوسری طرف کو گئی ۔ جھٹکے ختم ہوئے تو بيٹے کا ٹيلفون خيريت پوچھنے کيلئے آيا ۔ تھوڑی دير بعد گھر کو روانہ ہوا ۔ راستہ ميں پھر بيٹے کا ٹيليفون آيا اور اُس نے بتايا کہ مرگلہ ٹاور گِر گيا تھا ۔ اسلام آباد گھر پہنچنے پر بيٹے نے بتايا کہ ہمارے گھر کے چار کمروں کی ديواروں ميں دراڑيں پڑ گئی تھيں ۔ ميرے وہم و گمان ميں بھی نہ تھا کہ ميرے مُلک کے شمالی علاقوں ميں قيامتِ صغرٰی بپا ہو چُکی ہے ۔

رات گئے معلوم ہوا کہ مظفرآباد اور باغ وغيرہ سے بالکل رابطہ نہيں ہو رہا ۔ کچھ رضاکار صورتِ حال معلوم کرنے چل پڑے ۔ آدھی رات کے بعد اُنہوں نے اپنے موبائل سے اطلاع دی کہ مظفرآباد کو جانے والی سڑک تباہ ہو گئی ہے ذرا سی روشنی ہو جانے پر وہ گاڑی وہيں چھوڑ کر پيدل آگے جائيں گے ۔ اگلے دن اُن کے ٹيليفون کا انتظار کرتے رہے ۔ اِسی دوران اطلاع ملی کہ صوبہ سرحد ميں بالا کوٹ تباہ ہو چکا ہے اور اس سے آگے شمالی علاقوں کی کچھ خبر نہيں ۔ عشاء کے بعد ٹيليفون آيا کہ ميں اکيلا ٹيليفون کرنے واپس آيا ہوں کيونکہ ٹيليفون کا نظام تباہ ہو چکا ہے مظفرآباد پہنچنے ميں تو وقت لگے گا جہاں تک ميں گيا ہوں سب گاؤں تباہ ہو چکے ہيں ۔

 اس کے بعد مقامی فلاحی جماعتوں نے تيزی سے امدادی کاروائياں شروع کر ديں اور پہلی کھيپ 10 اکتوبر 2005 کو صبح سويرے روانہ کر دی گئی جو جہاں سڑک تباہ ہو گئی تھی اس سے آگے کندھوں پر ليجائی گئ اور مظفرآباد کے راستہ ميں رہائشی متاءثرين ميں بانٹ دی گئی ۔ اسی طرح پہلی کھيپ جو بالاکوٹ بھيجی گئی وہ ٹرک مانسرہ سے کچھ آگے رک گيا اور آگے پيدل کندھوں پر سامان پہنچايا گيا ۔

اب ايک سال بعد صورتِ حال يہ ہے کہ متاءثرين کی غالب اکثريت ابھی تک خيموں ميں رہ رہی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ايسے واقعات سے لوگ عبرت پکڑتے ہيں مگر ہماری قوم شائد سب حدود پار کر چُکی ہے ان پر کوئی اثر ہوا نظر نہيں آتا ۔ امدادی رضاکار ادارے شکائت کرتے ہيں کہ  حکومت کے ذريعہ تقسيم ہونے والی امداد کا بيشتر حصہ متاءثرين کو نہيں مِل رہا ۔ حکومت نے بحالی کا ايک خصوصی ادارہ بنايا ہوا ہے جس کا سربراہ حاضرسروس جرنيل ہے ۔ ناجانے اُن کی کيا ذمہ داری ہے جو امداد خُردبُرد ہو رہی ہے ۔ امداد خُردبُرد کرنے والوں ميں حکومت کے اہلکاروں کے علاوہ مقامی لوگ بھی شامل ہيں اور متاءثرين بے سہارا لوگ ہيں ۔

مسلم رضاکار اداريے امدادی کاروائياں جاری رکھے ہوئے ہيں ۔ اِنفرادی اِمداد بھی جاری ہے ۔ غير مُلکی امدادی ادارے صرف چند رہ گئے ہيں اور انہوں نے ايک اور مسئلہ کھڑا کيا ہوا ہے ۔ پاکستانی اور بين الاقوامی مسلم رضاکاروں نے بچوں اور بالغوں سب کيلئے تعليم کا بندوبست کيا ہوا ہے جس ميں وہ قرآن کی تعليم بھی ديتے ہيں ۔ ان کو قرآن کی تعليم اعتراض ہے کہ يہ لوگ متاءثرين کو دہشت گرد بنا رہے ہيں ۔ اس کے بر عکس کچھ غيرمُلکی ادارے متاثرين کو عيسائيت کی ترغيب ديتے رہے ہيں جس پر اجتمائی احتجاج بھی ہوا تھا ۔

يہاں کلِک کر کے يا مندرجہ ذيل لِنک اپنے براؤزر ميں لکھ کر  تازہ ترين صورتِ حال پڑھيئے

This entry was posted in ذمہ دارياں on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)