What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے September 21st, 2006

بيوی بندوق کی گوليوں ۔ ۔ ۔

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 21 Sep 2006

دن بھر کا تھکا ہارا مرد گھر لوٹا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اتنی دير کيوں لگا دی ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہاں چلے گئے تھے ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کس کے پاس چلے گئے تھے ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ يا گھر ميں آٹا نہيں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دال نہيں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بچے کو بُخار ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وغيرہ وغيرہ ۔

ذرا سوچئے تو اگر اسی طرح روزانہ بيوی بندوق کی گوليوں کی طرح برستی رہے تو اس کا نتيجہ کيا ہو گا ؟

یہ بھی حقيقت ہے کہ مرد سارا سارا دن دوستوں کے ساتھ گھومتے اور قہقنے لگاتے رہتے ہيں ۔ کسی نے چوکڑی جما کر تاش کھيلتے آدھی رات گذار دی تو کوئی کلب ميں بيٹھ کر تکّے کباب اُڑاتا رہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مکمل صورتِ حال جاننے کيلئے پڑھئے ہمارے معاشرہ کا ايک نفسياتی جائزہ اُوپر رشتہءِ اِزدواج پر کلِک کر کے ۔

زمرہ : روز و شب | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »