صلاحِ عام

ميں نے ايک لائحہ عمل بنا رکھا ہے جس پر عمل کرنے کی ميں پوری کوشش کرتا ہوں ۔ سوچا کہ اِسے قارئين کی نذر کيا جائے کہ شائد کوئی مہربان اسے بہتر بنانے کيلئے اپنی عُمدہ تجويز سے مُجھے نوازيں ۔ يہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس ميں سے کوئی عمل کسی قاری کو پسند آجائے اور وہ اُسے اپنا کر ميرے حق ميں دعائے خير کريں ۔

  بولنے اور لکھنے ميں ہميشہ شُستہ زبان استعمال کی جائے ۔ اس سے سُننے والے والے پر اچھا اثر پڑتا ہے  

کسی فرد کی ذاتی خامياں سب کے سامنے بيان نہ کی جائيں ۔ ايسا کرنے سے اشتعال پيدا ہوتا ہے ۔ ويسے بھی کسی کی ذاتی خامياں سرِعام بيان کرنا مہذّب انسان کو زيب نہيں ديتا    

کسی گروہ يا جماعت کے غلط اقدامات اُجا گر کرتے ہوئے ذاتيات کو بيچ ميں نہ آنے ديا جائے  ۔ کيونکہ اس سے بات کرنے يا لکھنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے

  اشتعال انگيزی کے جواب ميں صبر سے کام ليا جا ئے ۔ ايسا رويّہ اشتعال انگيزی کرنے والے کو اپنے رويّے پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے

  کسی فرد کے بد زبانی کرنے پر خاموشی اختيار کی جائے ليکن اگر جواب دينا ضروری ہو تو تحمل اور شائستگی کے ساتھ جواب ديا جائے ۔ ايسا کرنا بد زبانی کرنے والے ميں بات سُننے کا رُحجان پيدا کرتا ہے

 *

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

Hypocrisy Thy Name – – http://iabhopal.wordpress.com یہ منافقت نہیں ہے کیا ۔ ۔

This entry was posted in ذمہ دارياں on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

9 thoughts on “صلاحِ عام

  1. بدتمیز

    توبہ استغفار
    آپکو کس نے کہ دیا ہم پہلا نمبر لینا چاہتے ہیں۔ میں نے تو ان صاحب کو ہمیشہ در گزر کیا وہ تو جب انہوں نے لکھا کہ میری تحریر ان پر تنقید ہے تب میں نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی ۔
    میں نے تو کوئی دعویٰ نہیں کیا کہ ہم “اصلی اور وڈے” بدتمیز ہیں پھر بھی ہم بھی پس رہے ہیں۔

    ہماری بدتمیزیاں اس حد تک بڑھ گئیں کہ انٹرنیٹ ایکسپلورر بھی ناراض ہو گیا ہے۔ ویسے تو میرا بلاگ کسی کام کا نہیں فضول سا ہے پھر بھی وقت ضائع کرنا ہو تو فائر فاکس سے وزٹ ہو جاتا ہے۔

  2. اجمل

    عتيق الرّحمٰن صاحب
    حوصلہ افزائی کا شکريہ ۔ تاخير کيلئے معذرت خواہ ہوں ۔ ورڈپريس ميں کسی خرابی کی وجہ سے مجھے آپ کے تبصرہ کا علم نہ ہو سکا ۔

    ديگر ميرا مقصد صدا لگانا نہيں تھا بلکہ مشورہ يا ترغيب دينا تھا ۔ صلاح کا مطلب مشورہ يا ترغيب ہوتا ہے ۔

  3. Zahid Hussain

    اجمل بہائی جان
    اسلام علیکم

    http://insaafe.wordpress.com آج مجہےاپنے بلاگ
    پر آپکے کومینٹس پڑہنے کا موقع ملا پہلے تو جناب آپکا بہت بہت شکریہ میری تحریر کی تعریف کرنے کا اور میں آپکا بڑا مشکور ہوں کہ آپنے مجہے اردو ٹائیپنگ میں میری مدد کرنے کی پیشکش کی۔ آپ جیسے مہربان لوگ آج بہی اس زمانے میں موجود ہیں کمال ہے ورنہ ہم تو اعلان بغاوت کب کے کر چکے تہے ۔ خیر جناب آپکی پیشکش کا بہت بہت شکریہ اور میں آپسے وعدہ کرتا ہوں کے انشا‎ءاللہ آئیندہ لکہتے وقت میں اپنی بہرپور کوشیش کرو گا کے زیادہ غلطیا نہ کرو۔ مگر پہر بہی اگر آپ مجہے اس بات سے آگاہ کر دیں کہ ٹائیپنگ میں غلطیوں سے مراد ہجوں سے ہے یا پھر جملوں کی ادائیگی سے تو آپکا بڑا مشکور ہونگا۔

    شکریہ
    زاہد حسین

  4. BaaZauq

    السلام علیکم ‫!
    اتنے عرصے بعد یہاں جواب دینے کی اس لیے ضرورت پیش آئی کہ ۔۔۔ میں نے ایک معاملے سے ابھی ابھی واقفیت حاصل کی ہے ۔
    میں نے شعیب کے ’یہ خدا ہے‘ والے سلسلے کی پچاسویں قسط ابھی پڑھی ہے اور وہاں جواب بھی دیا ہے ۔۔۔ اور اسی سرفنگ کے دوران وہ معاملہ نظر سے گزرا ۔

    محترم افتخار اجمل صاحب ، آپ بھی جانتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔
    قرآن میں جہاں جہاں ’امر بالمعروف‘ کا ذکر ہوا ہے وہیں ’نھی عن المنکر‘ بھی بیان ہوا ہے ۔
    کیا کسی قسم کی کوئی گالی ہم کو اسی ’منکر‘ کے زمرے میں نظر نہیں آتی ؟
    اور قرآن تو یہ بھی کہتا ہے ۔۔۔
    برائی کے ساتھ آواز بلند کرنے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا مگر مظلوم کو اجازت ہے ۔( سورہ : 4 ، آیت : 148 )۔
    یعنی : شریعت نے تاکید کی ہے کہ کسی کے اندر برائی دیکھو تو اس کا چرچا نہ کرو، بلکہ تنہائی میں اس کو سمجھاؤ ، اِلّا یہ کہ کوئی دینی مصلحت ہو ۔
    برائی کا برسرِ عام چرچا کرنا بھی ایک برائی ہے جس کے سدِّباب کے لیے ’نھی عن المنکر‘ کا قرآنی قانون لاگو ہو سکتا ہے ۔

    کوئی اُردو بلاگر اپنے بلاگ پر کوئی فحش تصویر لگا دے تو ہم اس کے بلاگ کا ‫snapshot‬ (جس میں اُس فحش تصویر کے ساتھ بلاگ کا ‫URL بھی آ جائے ) لے کر اپنے بلاگ پر پبلش کر سکتے ہیں ؟ یہ کہتے ہوئے کہ دیکھو فلاں فلاں بلاگ پر کیسی غلط حرکتیں کی جا رہی ہیں ؟؟

    برائی کوئی سی بھی کیوں نہ ہو ۔۔۔ چاہے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اہانت پر مبنی کارٹون ہو یا کسی کی دی گئی اہانت آمیز فحش گالیاں ۔۔۔ ان کی برسرِ عام اشاعت شریعت کے منافی امر ہی کہلائے گا ۔۔۔ ہاں ، ہم اگر تاویلات کا سہارا لینا چاہیں تو یہ ایک الگ بات ہے ۔

    شائد کہ اتر جائے سب کے دل میں میری بات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    والسلام
    باذوق

  5. اجمل

    باذوق صاحب
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ
    امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے علاوہ اللہ سبحانہ و تعالٰی کا حکم ہے تعاونو علی البرِّ والتقویٰ ولا تعاونو علی الاثمِ والعدوان ۔ یعنی نیکی کا ساتھ دو اور بدی کا ساتھ نہ دو ۔ برائی کو دوہرانے سے بھی منع فرمایا گیا ہے ۔ عرصہ دراز گذرا میں نے شعیب کا بلاگ کھولنا ہی چھوڑ دیا ہوا ہے کیونکہ میرے نزدیک گناہ والی جیز کو دیکھنا یا پڑھنا بھی گناہ ہے سوائے اس کے کہ ہدائت کیلئے صرف ایک بار دیکھ کر سمجھایا جائے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)