Monthly Archives: July 2006

غَلَط فہمی کا ازالہ يا تصحيح

2,548 بار دیکھا گیا

ميں چلتے چلتے ايک بلاگ پر پہنچا ۔ اُردو کے کئی شعراء کا کلام لکھا تھا ۔ پڑھنے لگ گيا ۔ کچھ شعر  مُضطر صاحب کے نام سے لکھے تھے ۔ ملاحظہ ہوں 

ميرے خيال ميں مندرجہ بالا اشعار بہادر شاہ ظفر کے اشعار ميں معمولی سا ردّ و بدل کر کے اپنائے گئے ہيں ۔ ملاحظہ ہوں بہادر شاہ ظفر کے متعلقہ اشعار ۔

 نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے ميں وہ اِک مُشتِ غُبار ہوں
ميں نہيں ہوں نغمہءِ جانفزا کوئی سُن کے مجھ کو کرے گا کيا
ميں بڑے بروگ کی ہوں صدا ميں بڑے دُکھوں کی پُکار ہوں
ميرا رنگ روپ بگڑ گيا ميرا يار مجھ سے بچھڑ گيا
جو چمن خزاں سے اُجڑ گيا ميں اُسی کی فصلِ بہار ہوں
نہ تو ميں کسی کا حبيب ہوں نہ تو ميں کسی کا رقيب ہوں
جو بگڑ گيا وہ نصيب ہوں جو اُجڑ گيا وہ ديار ہوں
پئے فاتحہ کوئی آئے کيوں کوئی چار پھول چڑھائے کيوں
کوئی آ کے شمع جلائے کيوں ميں وہ بيکسی کا مزار ہوں

دہشتگردی کے خلاف جنگ اور پاکستان

2,133 بار دیکھا گیا

امريکہ کی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے پاکستان پر اثرات اب واضح ہونے لگ گئے ہيں ۔ پاکستانی حکومت کی طرف سے امريکہ کی ضرورت سے زيادہ فراخدلی سے حمائت نے قوم کو ردِعمل کے طور پر انتہاء پسندی کی طرف مائل کر ديا ہے ۔ يہ حقيقت ہے کہ امريکی دعوؤں کے برعکس جنگجوؤں کی بھاری اکثريت کا دينی مدرسوں سے تعلق نہيں ہے ۔ بدقسمتی سے مغربی ذرائع ابلاغ نے قوموں اور افراد کو اس سانچے ميں ڈھالنے کا معمول بنا ليا ہے کہ ہر دہشتگردی کے پيچھے طالبان يا مُلّا کا ہاتھ ہے جبکہ حقيقت بالکل مُختلف ہے ۔ وزارتِ داخلہ نے 2005 عيسوی کے آخر ميں  ايک تفتيشی رپورٹ مُرتب کی اس کے مطابق 22 خودکُش بمباروں ميں سے صرف 3 کا کسی مدرسہ سے تعلق تھا ۔ پاکستان بننے سے لے کر 11 ستمبر 2001 تک پاکستان ميں شائد ہی کو خودکُش بمباری کا واقعہ ہوا ہو ۔   

ستمبر 2001 کے بعد سے پاکستان ميں سينکڑوں لوگوں کو جنگجو کا نام دے کر بغير کسی الزام کے قيد کيا گيا ہے اور اُن کے خاندانوں کو اُن کے متعلق بے خبر رکھا گيا ہے ۔ بےشمار پاکستانيوں کو بغير کسی ثبوت کے القاعدہ يا طالبان کے بہانے مشکوک خفيہ طريقہ سے امريکہ کے حوالے کر ديا گيا ۔ اس عمل سے عوام ميں اُن کيلئے ہمدردی پيدا ہوئی ۔ جو کچھ افغانستان اور عراق ميں ہوا ۔ پھر بالخصوص ابو غريب اور گوانٹانامو بے ميں اس نے جوانوں کے ذہنوں پر گہرے نقش چھوڑے ۔  

ايک اور مسئلہ پاکستانی حکومت کی امريکہ کے غلط اقدامات کے سلسسہ ميں بيجا رفع دفع کی پاليسی ہے ۔ کئی مواقع پر ايف بی آئی نے پاکستان کے اندر مقامی سکيورٹی ايجنسيوں کی مدد سے کمانڈو آپريشن کئے اور پاکستانی شہريوں کو اُٹھا کر لے گئے ۔ اس کے علاوہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امريکی فوجيوں نے پاکستانی علاقہ ميں داخل ہو کر حملے کئے ۔   

جمہوريت کی کمی ۔ اداروں کے غيراستحکام اور اقتدارِ اعلٰی ميں شگاف نے مسائل کو گھمبير بنا ديا ہے اور حکومت ديرپا مفيد اقدام کيلئے ضروری سياسی اور جمہوری چہرے سے محروم ہے جس کی وجہ سے حالات بہتر کرنے سے قاصر ہے۔ 

يہ جاويد رانا صاحب کے 17 جولائی 2006 کو ڈان ميں چھپنے والے مضمون کے کچھ اقتباسات کا ترجمہ ہے ۔

*

 میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

Hypocrisy Thy Name – – http://iabhopal.wordpress.com/  یہ منافقت نہیں ہے کیا ۔ ۔

نام روشن خيالی کام سنگدلی

1,894 بار دیکھا گیا

وہ حُکمران جو  ہر وقت انسانی حقوق ۔ امن اور جمہوريت کی بحالی اور روشن خيالی کا راگ الاپتے رہتے ہيں اُن کا عمل اور اصل چہرہ ديکھنے کيلئے يہاں کلِک کر کے ديکھئے اُن کے بے پنا ظُلم کی تصاوير  

يہ سب کچھ ديکھ کر اگر لبنان کے لوگوں کيلئے جن ميں زيادہ تر مُسلمان مگر عيسائی اور يہودی بھی سامل ہيں آپ کے دل ميں دُکھ يا ہمدردی پيدا ہو تو کم از کم يہاں کلِک کر کے اس ظُلم کے خلاف پيٹيشن پر اپنا نام لکھ ديجئے ۔ 

 رسول اللہ صلّی اللہ عليہ و اٰلہِ وسلّم نے فرمايا ۔ ظُلم کو طاقت سے روکو ۔ اگر طاقت سے نہيں روک سکتے تو اس کے خلاف آواز بلند کرو ۔ صحابہ کرام نے پوچھا اگر ايسا نہ کر سکيں ۔ فرمايا پھر اس کو دل سے بُرا سمجھو مگر يہ کمزور ترين ايمان کی نشانی ہے ۔   

*

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

   Hypocrisy Thy Name ۔ ۔ ۔  http://iabhopal.wordpress.com یہ منافقت نہیں ہے کیا ۔ ۔

اتنا ارزاں تو نہ تھا مُسلماں کا لہو

2,373 بار دیکھا گیا

جموں کشمير اور فلسطين ۔ پھر شيشان ۔ افغانستان اور عراق اور اب لبنان ۔  ہر جگہ مُسلمان کا خُون بے دريغ بہايا جا رہا ہے ۔ مگر چاروں طرف ہُو کا عالم ہے ۔ کوئی نہيں جو چِلّائے کہ بس کرو يہ ظُلم ۔ ۔ ۔ مانا کہ آج کے مُسلمان کا دُنيا کی مُحبت ميں پڑنے سے ايمان کمزور ہو گيا ليکن کيا مُسلمانوں کا خُون سفيد ہو چکا ہے ؟   

چند سال قبل اسلام آباد کی ايک ناجائز کچی آبادی کے قريب ايک ديوار طوفان سے گِر گئی اور ايک عيسائی بچہ اس کے نيچے آ کر مر گيا تو  واشنگٹن کے در و ديوار ہِل گئے تھے اور اسلام آباد ميں ہاٹ لائين ٹيليفون کی گھنٹی بجنے لگی تھی ۔ پھر کيا تھا اسلام آباد کے بادشاہ کے حُکم پر وہاں ری اِنفورسڈ کنکريٹ کی ديوار بن گئی اور سرکاری زمين پر بنی ہوئی ناجائز بستی کو بھی جائز قرار دے ديا گيا ۔  

کيا ہزاروں بلکہ لاکھوں بے گناہ مُسلمان جن ميں ہزاروں معصوم بچے بھی شامل ہيں ايک عيسائی بچے کے برابر بھی نہيں کہ اُن کا بے جواز قتلِ عام کيا جائے اور اسلام آباد کے بادشاہوں پر اس کا کوئی اثر نہ ہو ؟  کيا دنيا کے حُکمرانوں ميں سوائے دو تين کے ايک بھی مُسلمان نہيں ؟  اور کيا سوائے اُن چند ہزار کے جو اپنی جان ہتھيلی پر رکھ کر ظالم قاتلوں سے برسرِپيکار ہيں دُنيا کے ايک ارب مُسلمانوں ميں ايمان کی اتنی رمق بھی باقی نہيں رہی کہ اور کچھ نہيں تو وہ سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر ہی نکل آئيں ؟ 

ليکن کيسے ؟ اللہ تو اُنہيں نظر نہيں آتا مگر بُش کو تو وہ روزانہ ٹی وی پر ديکھتے ہيں ۔ حقيقت يہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مُسلمان اس لئے کہتے ہيں کہ مُسلمان گھرانے ميں پيدا ہوئے ورنہ اُن کے رول ماڈل اللہ کے رسُول حضرت محمد صلَّی اللہ علَيہِ وَ اٰلِہِ وَ سَلَّم اور اُن کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نہيں بُش اور اُس کے چيلے ہيں ۔

    *

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

Hypocrisy Thy Name – –  http://iabhopal.wordpress.com یہ منافقت نہیں ہے کیا ۔ ۔

صلاحِ عام

2,384 بار دیکھا گیا

ميں نے ايک لائحہ عمل بنا رکھا ہے جس پر عمل کرنے کی ميں پوری کوشش کرتا ہوں ۔ سوچا کہ اِسے قارئين کی نذر کيا جائے کہ شائد کوئی مہربان اسے بہتر بنانے کيلئے اپنی عُمدہ تجويز سے مُجھے نوازيں ۔ يہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس ميں سے کوئی عمل کسی قاری کو پسند آجائے اور وہ اُسے اپنا کر ميرے حق ميں دعائے خير کريں ۔

  بولنے اور لکھنے ميں ہميشہ شُستہ زبان استعمال کی جائے ۔ اس سے سُننے والے والے پر اچھا اثر پڑتا ہے  

کسی فرد کی ذاتی خامياں سب کے سامنے بيان نہ کی جائيں ۔ ايسا کرنے سے اشتعال پيدا ہوتا ہے ۔ ويسے بھی کسی کی ذاتی خامياں سرِعام بيان کرنا مہذّب انسان کو زيب نہيں ديتا    

کسی گروہ يا جماعت کے غلط اقدامات اُجا گر کرتے ہوئے ذاتيات کو بيچ ميں نہ آنے ديا جائے  ۔ کيونکہ اس سے بات کرنے يا لکھنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے

  اشتعال انگيزی کے جواب ميں صبر سے کام ليا جا ئے ۔ ايسا رويّہ اشتعال انگيزی کرنے والے کو اپنے رويّے پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے

  کسی فرد کے بد زبانی کرنے پر خاموشی اختيار کی جائے ليکن اگر جواب دينا ضروری ہو تو تحمل اور شائستگی کے ساتھ جواب ديا جائے ۔ ايسا کرنا بد زبانی کرنے والے ميں بات سُننے کا رُحجان پيدا کرتا ہے

 *

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

Hypocrisy Thy Name – – http://iabhopal.wordpress.com یہ منافقت نہیں ہے کیا ۔ ۔

القاب و خطابات

1,867 بار دیکھا گیا

جب ميں ليبيا کی حکومت کا الخبير لِلمصانع الحربی (Adviser Defence Industry) تھا (مئی 1976ء تا فروری 1983ء) تو ايک بہت بڑے ادارے کے نائب رئيس (Vice Chairman) عبدالرحمٰن براملی ايک دن ميرے پاس آکر کہنے لگے ” آپ نے کبھی پوچھا نہيں کہ براملی کا کيا مطلب ہے ؟” سو ميں نے پوچھا تو کہنے لگے ” برمِيل (Barrel / Drum) کا ترجمہ ہے اور برامِل اس کی جمع ہے ۔ ميرے بزرگ برامِل بنايا کرتے تھے ۔ اُس زمانہ ميں برامِل لکڑی سے بنتے تھے چنانچہ ميرے آباؤاجداد بڑھئی يا ترکھان تھے” گويا ايم ايس سی انجنيئرنگ اور اعلٰی عہدے پر فائز شخص اپنے آباؤاجداد کے بڑھئی يعنی ہُنرمند ہونے پر فخر کر رہا تھا

ہمارے مُلک ميں بہت سے القاب و خطابات رائج ہيں
سردار ۔ خان ۔ نواب ۔ نوابزادہ ۔ ملک ۔ پير ۔ پيرزادہ ۔ رئيس ۔ صاحبزادہ وغيرہ
کُمہار ۔ دھوبی ۔ درزی ۔ لوہار ۔ تيلی ۔ ميراثی وغيرہ

اوْلالذکر اعلٰی سمجھے جاتے ہيں اور ان پر فخر و تکبّر کيا جاتا ہے اور يہ القاب و خطابات قابض برطانوی حُکمرانوں نے زيادہ تر اُن لوگوں کو ديئے جنہوں نے قابض برطانوی حُکمرانوں کی خوشنوُدی حاصل کرنے کيلئے اپنے ہموطنوں کے خلاف کام کيا ۔ جبکہ آخر الذکر گھٹيا سمجھے جاتے ہيں ۔ اس رویّئے کو بھی برطانيہ کی غلامی کے دور ميں ہندوستان میں بسنے والے ہُنرمندوں کی تحقیر کیلئے رائج کیا گیا ۔ آج اِن لوگوں کو کمتر سمجھنے والوں کو فائيو سٹار ہوٹلوں ميں انسانيت کا پرچار کرتے شرم نہيں آتی

يہ نام نہاد اعلٰی اور گھٹيا القابات و خطابات انگريزوں نے ہندوستانی مُسلمانوں ميں تفرقہ ڈال کر ہندوستان پر اپنی حکومت مضبوط کرنے کيلئے باقائدہ طور پر رائج کئے تھے جن سے ہماری قوم اب تک چِمٹی ہوئی ہے ۔ لوگ اِن القابات و خطابات کے معاشرہ پر بلکہ اپنی عاقبت پر مُضر اثرات سے بے خبر اِن کا اِستعمال کرتے ہيں ۔ نمعلوم کيوں لوگ بھول جاتے ہيں کہ سب انسان برابر ہيں اور اُن کی اچھائی اُن کے نيک اعمال ہیں نہ کہ پيشہ يا دولت يا بڑے باپ کی اولاد ہونا ۔ کتنے ہی انقلاب آئے مگر کسی کو سمجھ نہ آئی

پيرس فرانس ميں رہنے والے خاور صاحب آئے دن ہميں ياد کراتے رہتے ہيں کہ وہ کميار ہيں (پنجابی ميں کُمہار کو کميار کہتے ہيں) ۔ ميں جب آٹھ نو سال کا تھا تو شہر کے کنارے ايک کُمہار صاحب کے پاس بيٹھ کر ديکھتا رہتا کہ وہ برتن کيسے بناتے ہيں ۔ ايک دن کُمہار صاحب نے مجھے پوچھا “برتن بناؤ گے ؟“ ميں تو کھِل گيا ۔ کُمہار صاحب نے تھوڑی سی مٹی چکّے پر لگائی اور ميرا ہاتھ پکڑ کر اُس سے لگايا اور اُوپر نيچے کيا تو چھوٹا سا گُلدان بن گيا

مجھے ہُنر سیکھنے کا بچپن سے ہی شوق رہا ۔ چنانچہ جب میں انجنیئرنگ کالج لاہور میں پڑھتا تھا تو میں نے بڑھئی کا کام سیکھ کر ایک لکڑی کی مسجد بنائی ۔ لوہار کا کام سیکھ کر ایک چھینی (Chisel) بنائی ۔ جب میں اسسٹنٹنٹ ورکس منیجر تھا (1963ء) تو میں نے گیس ویلڈنگ سیکھی ۔ میں نے درزی کا کام سیکھ کر اپنی قمیض اور شلوار سی ۔ میں نے کار کی ڈینٹنگ 1977ء میں سیکھی اور ایک دوست کی کار کی ڈینٹنگ کی ۔ موٹر مکینک کا کام میں نے 1983ء میں سیکھا جب میں جنرل منیجر تھا

پنجابی کا کميار يا اُردو کا کُمہارجو کوئی بھی ہے ایک ایسا ہُنرمند اور کاريگر ہے جس نے انسان کو مہذب بنايا ۔ اگر کميار يا کُمہار برتن نہ بناتا تو انسان آج بھی جانوروں کی طرح کھانا کھا رہا ہوتا ۔ اِسی طرح بڑھئی ۔ لوہار ۔ درزی ۔ تيلی وغيرہ سب ہُنرمند اور کاريگر ہيں ۔ اگر یہ نہ ہوتے تو انسان آج تک قدرتی غاروں میں یا درختوں پر رہ رہا ہوتا ۔ ننگ دھڑنگ پھر رہا ہوتا اور گھاس یا پتے کھا کر گذارہ کر رہاہوتا
بدقسمت ہيں وہ لوگ جو جھوٹی شان دِکھانے کے لئے اِن ہُنرمندوں کو اپنے سے کمتر سجھتے ہيں

>میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے
  Hypocrisy Thy Name – http://iabhopal.wordpress.com – یہ منافقت نہیں ہے کیا

آپ کی فرمائش

2,638 بار دیکھا گیا

You asked for it
کا بامحاورہ ترجمہ ہے ” آ بَيل مُجھے مار” ليکن ميں اس کا لفظی ترجمہ کرتا ہوں “آپ کی فرمائش”۔

داؤدی صاحب کی کاوش قابلِ تعريف ہے کہ اُنہوں نے مرزا غلام احمد قاديانی کے پيروکار ہونے کا حق ادا کيا ۔ حقيقت يہ ہے کہ آج تک احمديہ کميونِٹی اپنے دعوے منطقی طور پر ثابت نہيں کرسکی بلکہ صرف لفظی ہيراپھيری کا سہارہ ليا جاتا ہے ۔ بہر حال ميں اس بحث ميں اُلجھنے کی بجائے کچھ ايسے حقائق منظر پر لانا چاہتا ہوں جو عام لوگوں کے علم ميں نہيں ۔

احمديہ کميونٹی کے لوگ سيّدنا آدم عليہ السّلام کو پہلا نبی مانتے ہيں ليکن پہلا انسان نہيں مانتے ۔ اُن کے مطابق اگر پہلے انسان موجود نہ تھے تو سيّدنا آدم عليہ السّلام نبی کس لئے بنائے گئے ۔

پاکستان بننے سے پہلے احمديہ کميونِٹی نے اپنے پيشوا کی ہدائت پر حکومتِ برطانيہ کو ہزاروں دستخطوں کے ساتھ ياد داشت  پيش کی جس ميں بتايا گيا کہ احمدیہ کميونِٹی اُن لوگوں ميں سے نہيں جن کے ليڈر محمد علی جناح ہيں اور حکومتِ برطانيہ کيلئے احمديہ کميونِٹی کی خدمات کا خاکہ پيش کر کے مطالبہ کيا گيا کہ اِن خدمات کے صِلہ ميں قاديان احمديہ کميونِٹی کے حوالے کيا جائے ۔ اُدھر ہندو ليڈر لارڈ مؤنٹ بيٹن پر زور ڈال رہے تھے ۔ نتيجہ يہ ہوا کہ صرف قاديان نہيں بلکہ گورداسپور جو مُسلم اکثريت والا ضلع تھا کو بھارت ميں شامل کر ديا گيا اور بھارت نے اس کے راستے اپنی فوجيں جموں کشمير ميں داخل کر کے اس بھاری مُسلم اکثريت والی رياست پر قبضہ کر ليا اور يہ ناسُور اب تک پاکستان کے سينہ پر رِس رہا ہے ۔

 يہ تو بہت سے لوگ جانتے ہيں کہ احمديہ تحريک قابض برطانوی حکومت نے مسلمانوں ميں تفرقہ ڈال کر انہيں کمزور کرنے کيلئے بنائی ليکن بہت کم لوگ جانتے ہيں کہ بيسويں صدی کے شروع ميں احمديہ تحريک کو صيہونيوں کی پُشت پناہی حاصل ہوئی ۔ پھر جب صيہونيوں نے 14 مئی 1948 کو از خود “یہودی ریاست اسرائیل” کا اعلان کر دیا تو سب سے پہلا غيرمُلکی دفتر جو اسرائيل ميں قائم ہوا وہ احمديوں کا تھا ۔ يہ دفتر حيفہ ميں قائم کيا گيا تھا ۔  خيال رہے کہ صيہونيوں کی طرف سے رياست اسرائيل کا اعلان يک طرفہ اور بے جواز ہونے کے باعث اُن دنوں تمام عالمِ اِسلام سراپا احتجاج تھا اور مرزا غلام احمد قاديانی صاحب کے پيروکار صيہونيوں کے ساتھ تعلقات بڑھا رہے تھے ۔

پُرانی بات ہے کہ قُدرت اللہ شہاب صاحب کو اقوامِ مُتحدہ کے حقائق معلو م کرنے والے مِشن کا  رُکن بنا کر اُن کا بھيس بَدَل کر اسرائيل بھيجا گيا ۔ اس مشن کے ارکان اسرائيل کی ہائی کمان کے دفاتر ميں گئے ۔ وہاں راہداری ميں چلتے ہوئے قُدرت اللہ شہاب صاحب نے ديکھا کہ ڈاکٹر عبدالسّلام [احمديہ] ايک اعلٰی صيہونی آفيسر کے کمرہ سے نکل کر دوسرے اعلٰی آفيسر کے کمرے ميں داخل ہوئے ۔ ڈاکٹر عبدالسّلام پاکستانی ہوتے ہوئے اسرائيل کيسے گئے اور اسرائيل کی ہائی کمان کے دفاتر ميں کيا کر رہے تھے يہ آج تک کسی نے نہيں بتايا ۔

پاکستان کے پہلے وزيرِ خارجہ ظفراللہ صاحب بھی احمدیہ تھے جنہوں نے پاکستان کے پہلے وزير اعظم لياقت علی خان صاحب کو 1948 ميں جموں کشمير ميں جنگِ آزادی جب آخری مراحل ميں داخل ہو چکی تھی فائر بندی پر راضی کيا جس کا نتيجہ آج تک پاکستان بھُگت رہا ہے ۔

ميں نے داؤدی صاحب کے بلاگ پر لکھا     

آپ کی نقل کردہ تحرير سے ميرے ذہن ميں کچھ سوالات اُبھرے ہيں ان کی وضاحت فرمائيں گے آپ ؟

اول ۔ پہلا نبی کون تھا اور کيا پہلا نبی پہلا انسان بھی تھا يا کہ انسان پہلے نبی سے قبل موجود تھے ؟

دوم ۔ خاتمُ النَّبیين سے کيا مُراد ہے ۔ آخری نبی يا کچھ اور ؟
سوم ۔ اگر دين مکمل ہو گيا تھا تو پھر مرزا غلام احمد صاحب قاديانی کا کيا رول تھا ؟
چہارم ۔ قران شريف کی کونسی آيت کے مطابق جہاد حکومت کے حُکم سے فرض ہوتا ہے انفرادی طور پر نہيں ہوتا ؟
پنجم ۔ قرآن شريف کی کس آيت کے مطابق حضرت عيسٰی عليہ السّلام نے اس دنيا ميں وفات پائی ؟

داؤدی صاحب نے احمديہ کميونِٹی کی لمبی چوڑی ويب سائٹ کا يو آر ايل لکھ کر ٹہلا ديا اور مزيد لکھا

لیکن خاکسار کو اس بات کا سو فیصد یقین ہے کہ آپ اس سائٹ کو کبھی وزٹ نہیں کریں گے

جس ويب سائٹ کا اُنہوں نے حوالہ ديا وہ ميں بہت پہلے پڑھ چکا تھا اِس کے باوجود ميں نے کھول کر ديکھی ۔

ميں جب آٹھويں جماعت ميں پڑھتا تھا  ميرے ايک ہمجماعت دوست کے والدين احمديہ تھے مگر دودھيال احمديہ نہ تھے ۔ وہ ميرے ساتھ نماز پڑھتا تھا اور گھر سے احمديہ لٹريچر پڑھ کر مجھے سناتا رہتا تھا ليکن اِنہماک کے ساتھ احمديت کا مطالع ميں نے 1953 عيسوی ميں شروع کيا جب ميں لاہور ميں ايک احمديہ خاندان کہ ہاں دس دن مہمان رہا ۔ اُن دنوں ختمِ نبُوّت تحريک کے بعد مارشل لاء لگا کر سينکڑوں مسلمانوں کو گوليوں سے ہلاک کيا جا چکا تھا اور روزانہ شام 5 بجے سے صبح 8 بجے تک کرفيو ہوتا تھا ۔ خيال رہے کہ اُس دور کے گورنر جنرل غلام محمد صاحب احمدي تھے ۔ اپنے ميزبان کی لائبريری ميں پڑی تقريباً تمام کتابيں ميں نے پڑھ ليں جن سے ميں احمديت کی حقيقت کو پا گيا ۔ مرزا غلام احمد کے بيانات جن کو وہ وحی کہتے ہيں باہمی تضاد کا پلندہ تھے ۔ ايک اور تجربہ جو مجھے ہوا يہ ہے کہ مرزا غلام احمد قاديانی صاحب کے جو بيانات 50 سال قبل ميں نے پڑھے تھے اُن ميں سے کچھ اب غائب ہو چکے ہيں اور کچھ ميں ترميم ہو چکی ہے ۔

میرا انگريزی کا بلاگ ”حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے“ یہاں کلِک کر کے یا مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔
https://iabhopal.wordpress.com/