ميرے بچپن کی شاعری
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 06 Jun 2006
ميں جب سکول ميں پڑھتا تھا اُن دنوں ہماری رہائش جھنگی محلہ راولپنڈی ميں تھی ۔ ميری والدہ [اللہ اُنہيں جنّت ميں اعلٰی مقام دے] ميرے چھوٹے بھائی بہنوں کو لوری دے کر سُلاتی تھی ۔ کبھی لوری عربی ميں ہوتی کبھی اُردو اور کبھی پنجابی میں ۔ پنجابی ميں لوری يہ تھی
اللہ وی تُوں ۔ بيلی وی تُوں
حاذق وی تُوں ۔ رازق وی تُوں
دِتا ای تے پالیں ويں تُوں
اللہ ای اللہ ۔ اللہ ای اللہ
اللہ ای اللہ ۔ اللہ ای اللہ
اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے انسان کو ايک ايسا ہر فن مولا کمپيوٹر بنايا ہے کہ جو چاہے محنت اور ہمت کے ذريعے بنا سکتا ہے يا حاصل کر سکتا ہے ۔جب ميں نويں جماعت ميں تھا ميں نے اس لوری کی طرز پر يہ شعر بنائے ۔
ميں سو جاواں ۔ جگاويں تُوں
ميں ڈھے جاواں ۔ اُٹھاويں تُوں
ميں کھُب جاواں ۔اُبھاريں تُوں
ميں وگاڑ ديواں ۔ سنواريں تُوں
اللہ ای اللہ ۔ اللہ ای اللہ
اللہ وی تُوں ۔ مولا وی تُوں
حاذق وی تُوں ۔ رازق وی تُوں
اللہ ای اللہ ۔ اللہ ای اللہ
اُپر وی تُوں ۔ تھَلے وی توں
سجّے وی تُوں ۔ کھبّے وی تُوں
اَگے وی تُوں ۔ پِچھے وی تُوں
جِدھر ويکھاں ۔ تُوں ای تُوں
اللہ ای اللہ ۔ اللہ ای اللہ
*
میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔
Hypocrisy Thy Name - - http://iabhopal.wordpress.com/ - – یہ منافقت نہیں ہے کیا
زمرہ : آپ بيتی | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »
