ہماری حکومت پچھلے پانچ سال سے اسلام ۔ قرآن اور مُسلمان کا تيا پانچہ کرنے کيلئے تعليمی نصاب ميں غَلَط دَر غَلَط تبديليوں کے لطيفے چھوڑ تی رہتی ہے ۔ اس کے مقابلہ ميں بھارتی محکمہءِ تعليم حِسِ مزاح رکھتا ہے ۔ بھارت کے مغربی صوبہ راجستھان میں جہاں بھارتیا جنتا پارٹی کی حکومت ہے شائد نویں جماعت کے حکومت سے منظور شُدہ کورس کی کتاب میں لکھا ہے “گدھا بھی گرہستن عورت کی طرح ہے ۔ درحقیقت گدھا کچھ بہتر ہے ۔ کیونکہ گرہستن عورت کبھی کبھار شکائت کرتی ہے اور ناراض ہو کر اپنے میکے بھی چلی جاتی ہے لیکن آپ کبھی نہیں دیکھیں گے کہ گدھے نے اپنے مالک کے ساتھ بے وفائی کی ہو”۔
کتاب کے اِسی باب میں گدھے کا مقابلہ سیاستدانوں سے بھی کیا گیا ہے اور لکھا ہے ” گدھا سیاستدانوں کے مقابلے میں تنقید برداشت کر لیتا ہے”۔ ہميں يہ بات سمجھ نہيں آ سکتی کيونکہ ہمارے مُلک ميں جرنيل اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتے ہيں اور سياستدانوں کی حثيت کچھ بھی نہيں ۔