What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے May 15th, 2006

چُٹکلے

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 15 May 2006

ہفتہ کو اسلام آباد ميں درجہ حرارت 43 ڈگری سيلسِيئس تک گيا اتوار کو صبح نو بجے ہی بہت گرمی تھی ۔ اتوار بازار ہمارے گھر سے ايک ڈيڑھ کلوميٹر کے فاصلہ پر ہے ۔ ميں سودا لينے گيا تو وہاں ايک دکان پر کچھ لوگ گرمی کی شدّت کا ذکر کر رہے تھے ۔ مجھے آمد ہوئی ميں نے ايک صاحب کو مُخاطب کر کے پوچھا “بھائی صاحب ۔ اگر آپ کے ساتھ کو ہيراپھيری کرے تو؟” وہ صاحب کچھ پريشان ہوئے پھر بولے “ظاہر ہے گرمی آئے گی” ميں بولا “جب سب ہيراپھيری ميں لگے ہيں تو گرمی کی شکائت کيوں ؟”

اتوار بازار سے واپسی پر ايک کرائے کی پِک اَپ پر لکھا شعر پڑھا ۔

ميرے خلوص کی قيمت بھی کم نہ تھی
وہ کم انديش لوگ تھے سو دولت پہ مرگئے

ايک شعر ميرے بچپن کا

ہو جُون کا مہينہ خُنکی سی پڑ رہی ہو
بارہ بجے ہوں دن کے اور اوس پڑ رہی ہو

زمرہ : روز و شب | 4 تبصرے »