What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے May, 2006

القاعدہ

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 31 May 2006

زمرہ : مزاح | 6 تبصرے »

راستہ صرف ایک ۔ نہ کہ تين

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 29 May 2006

تخیّل ایک عجیب چیز ہے انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتا ہے ۔ پچیس سال پہلے کا واقع ہے ہم اُن دنوں طرابلس [لیبیا] میں تھے ۔ میں ایک ساتھی کو ملنے گیا ۔ اُس نے مجھے بیٹھک میں بٹھایا جہاں ٹی وی پر کسی فلم کا گانا چل رہا تھا ۔ بول تھے ۔ ” تین بتّی چار راستہ ۔ تین دیِپ [دِیا] اور چار دوشائیں ۔ اِک رستے پہ مِل مِل جائیں” ۔ تین دیِپ والا منظر خوبصورت تھا ۔ میں اُسے دیکھتے دیکھتے کھَو گیا ۔ کچھ دیر بعد یوں جیسے میرے اندر روشنی کا دھماکہ ہوا اور یکدم میرے اندر ایک نئی زندگی آ گئی ۔ مجھے وہ مل گیا جس کے لئے میرا ذہن کافی عرصہ سے پریشان تھا ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے مجھے وہ فلسفہ سمجھا دیا جو مجھے پہلے سمجھ نہ آیا تھا کہ مسلمان تنزّل کا شکار کیوں ہیں جبکہ غیر مُسلم ترقی کر رہے ہیں ؟اللہ سُبحانُہُ و تَعالٰی نے ہمیں ایک راستہ دِکھایا [صِراطُ المُستَقِیم] اور ہدائت کی کہ ہمارا کھانا ۔ پینا ۔ اُٹھنا ۔ بیٹھنا ۔ سونا ۔ جاگنا ۔ مِلنا ۔ جُلنا ۔ اِخلاق ۔ لین ۔ دین ۔ کاروبار غرضیکہ ہر عمل دین اِسلام کے مطابق ہونا چاہیئے ۔ ویسے تو ہم ہر نماز کی ہر رکعت میں کہتے ہیں ِاھدِنَا صِرَاطَ المُستَقِیم یعنی دِکھا ہم کو راہ سیدھی جو کہ ایک ہی ہو سکتی ہے لیکن اپنی عملی زندگی میں ہم نے تین راستے بنا رکھے ہیں ۔

1 ۔ خانگی یا خاندانی معاملات کو ہم ایک طریقہ سے حل کرتے ہیں ۔

2 ۔ دفتر یا کاروبار کے معاملات کو ہم کسی اور نظریہ سے دیکھتے ہیں ۔

3 ۔ دین کو ہم نے بالکل الگ کر کے مسجد میں بند کر دیا ہے اور مسجد سے باہر صرف کسی کی موت یا نکاح پر استعمال کرتے ہیں ۔

ہماری حالت اُس شخص کی سی ہے جو ایک مقام سے ایک سِمت چلا ۔ بعد میں اُسے ایک اور کام یاد آیا ۔ چونکہ دوسرے کام کا راستہ مختلف تھا چنانچہ وہ واپس ہوا اور دوسرے کام میں لگ گیا ۔ پھر اُسے تیسرا کام یاد آیا اور اِس کا راستہ پہلے دو کاموں سے مختلف تھا چنانچہ وہ پھر مُڑا اور تیسرے کام کی طرف چل دیا ۔ اِس طرح وہ جس مقام سے چلا تھا اُسی کے گرد مُنڈلاتا رہا اور کسی سمت میں زیادہ پیشقدمی نہ کر سکا ۔

متذکّرہ بالا آدمی کے بر عکس ایک شخص نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے سارے کام ایک ہی طریقہ سے سرانجام دے گا چنانچہ وہ ایک ہی سِمت میں آگے بڑھتا گیا اور بہت آگے نکل گیا ۔ ملاحظہ ہوں دونوں صورتیں علمِ ہندسہ کی مدد سے ۔

غیرمُسلموں نے دین کو چھوڑ دیا اور اپنے خانگی اور کاروباری معاملات کو صرف نفع اور نقصان کی بُنیاد پر اُستوار کیا اور آگے بڑھتے چلے گئے گو دین کو چھوڑنے کے باعث اخلاقی اِنحطاط کا شکار ہوئے ۔ جب کہ بے عمل مسلمان نہ دین کے رہے نہ دُنیاوی کاموں میں ترقی کر سکے ۔ بقول شاعر ۔

نہ خُدا ہی ملا نہ وصالِ صنم ۔ ۔ ۔ نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے ۔

زمرہ : دین | 5 تبصرے »

بیوی اور گدھے میں تقابل

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 27 May 2006

ہماری حکومت پچھلے پانچ سال سے اسلام ۔ قرآن اور مُسلمان کا تيا پانچہ کرنے کيلئے تعليمی نصاب ميں غَلَط دَر غَلَط تبديليوں کے لطيفے چھوڑ تی رہتی ہے ۔ اس کے مقابلہ ميں بھارتی محکمہءِ تعليم حِسِ مزاح رکھتا ہے ۔ بھارت کے مغربی صوبہ راجستھان میں جہاں بھارتیا جنتا پارٹی کی حکومت ہے شائد نویں جماعت کے حکومت سے منظور شُدہ کورس کی کتاب میں لکھا ہے “گدھا بھی گرہستن عورت کی طرح ہے ۔ درحقیقت گدھا کچھ بہتر ہے ۔ کیونکہ گرہستن عورت کبھی کبھار شکائت کرتی ہے اور ناراض ہو کر اپنے میکے بھی چلی جاتی ہے لیکن آپ کبھی نہیں دیکھیں گے کہ گدھے نے اپنے مالک کے ساتھ بے وفائی کی ہو”۔

کتاب کے اِسی باب میں گدھے کا مقابلہ سیاستدانوں سے بھی کیا گیا ہے اور لکھا ہے ” گدھا سیاستدانوں کے مقابلے میں تنقید برداشت کر لیتا ہے”۔ ہميں يہ بات سمجھ نہيں آ سکتی کيونکہ ہمارے مُلک ميں جرنيل اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتے ہيں اور سياستدانوں کی حثيت کچھ بھی نہيں ۔

زمرہ : مزاح | 8 تبصرے »

اللہ کو کيسے مُخاطب کريں ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 22 May 2006

اِس سلسلہ ميں قرآن شريف کی متعلقہ آيات ميں سے کُچھ کا ترجمہ

سُورَة 7 الْأَعْرَاف آيت 180
اور اللہ ہی کے لئے اچھے اچھے نام ہیں ۔ سو اسے ان ناموں سے پکارا کرو اور ایسے لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے انحراف کرتے ہیں ۔ عنقریب انہیں ان (اعمالِ بد) کی سزا دی جائے گی جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں

سُورَة الْاِسْرَء / بَنِیْ ِإسْرَآءِيْل 17 ۔ آيت 110
کہہ دیجئے کہ اﷲ کو پکارو یا رحمان کو پکارو ۔ جس نام سے بھی پکارتے ہو اچھے نام اسی کے ہیں

سُورة طٰہٰ 20 آيت 14
بیشک میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں سو تم میری عبادت کیا کرو اور میری یاد کی خاطر نماز قائم کیا کرو

سُورَة النَّمْل 27 آيت 9
اے موسٰی! بیشک وہ میں ہی اللہ ہوں جو نہایت غالب حکمت والا ہے

سُورَة الْقَصَص 28 آيت 30
جب موسٰی وہاں پہنچے تو وادئ کے دائیں کنارے سے بابرکت مقام میں ایک درخت سے آواز دی گئی کہ اے موسٰی! بیشک میں ہی اللہ ہوں تمام جہانوں کا پروردگار

سُورَة الرَّحْمٰن 55 آيت 78
آپ کے رب کا نام بڑی برکت والا ہے ۔ جو صاحبِ عظمت و جلال اور صاحبِ اِنعام و اِکرام ہے

سُورَة الْحَشْر 59 آيات 22 تا 24
وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے ۔ وہی بے حد رحمت فرمانے والا نہایت مہربان ہے ۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ بادشاہ ہے ۔ ہر عیب سے پاک ہے ۔ ہر نقص سے سالم ہے ۔ امن و امان دینے والا ہے ۔ محافظ و نگہبان ہے ۔ غلبہ و عزّت والا ہے ۔ زبردست عظمت والا ہے ۔ سلطنت و کبریائی والا ہے ۔ اللہ ہر اُس چیز سے پاک ہے جسے وہ اُس کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ وہی اللہ ہے جو پیدا فرمانے والا ہے ۔ عدم سے وجود میں لانے والا ہے ۔ صورت عطا فرمانے والا ہے ۔ سب اچھے نام اسی کے ہیں ۔ اس کے لئے وہ (سب) چیزیں تسبیح کرتی ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ۔ اور وہ بڑی عزت والا ہے بڑی حکمت والا ہے

زمرہ : دین | 3 تبصرے »

پٹرول کی مہنگائی يہ نوبت لائی

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 19 May 2006

زمرہ : مزاح | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »