What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے April, 2006

اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَہِ رَجِعُون

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 11 Apr 2006

آج صبح سے نشتر پارک کراچی میں اہلِ سنّت کا ایک بہت بڑا اجتماع نبی پاک صَلّی اللہُ علَیہِ وَ اٰلِہِ وَ سَلّم کی شان اور اُن کی بتائے ہوئے راستے کے ذکرِ خَیر کے سلسہ میں ہو رہا تھا ۔ اپنے رسول سے محبت رکھنے والے ہزاروں مُسلمان اس میں شریک تھے کہ مغرب کی نماز کے دوران [تقریباً سوا سات بجے] ایک زوردار دھماکہ ہوا ۔ ابتدائی اطلاع کے مطابق 47 افراد جان بحق اور کم از کم 50 زخمی ہوئے ہیں ۔ حاجی محمد حنیف بلّو ہلاک ہو گئے ہیں ۔ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَہِ رَجِعُون ۔ مولانا قادری بھی زخمی ہوئے ہیں ۔ باقی ابھی معلوم نہیں ہو سکا ۔ دھماکہ سٹیج کے پاس ہوا ۔

زمرہ : معاشرہ | 8 تبصرے »

احوال شادی کا

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 10 Apr 2006

اس سال جنوری میں ایک شادی میں شرکت نئے تجربات کا باعث بنی ۔ بارات جمعہ 6 جنوری کو سیالکوٹ سے لاہور جانا تھی اور ولیمہ ہفتہ 7 جنوری کو تھا ۔ بارات صبح 9 بجے روانہ ہونا تھی 10بجے تک صرف وہی لوگ تھے جو اُن کے گھر میں سوئے تھے ۔ ساڑھے دس تک سب باراتی اکٹھے ہو گئے تو فوٹو گرافر غیر حاضر ۔ ٹیلیفون کیا تو پتہ چلا کسی نے اُسے 11 بجے کا وقت دیا تھا ۔ خیر وہ گیارہ سے پہلے پہنچ گئے ۔ اب کاریں تیار کھڑی ہیں مگر بس نہیں آ رہی ۔ معلوم ہوا کہ سڑکیں تنگ ہونے کی وجہ سے بس مُڑ نہیں پا رہی ۔ پینتیس منٹ کی کوشش کے بعد بس رِیورس چلا کر لائی گئی اور ساڑھے گیارہ بجے بارات روانہ ہوئی ۔ سفر کی کوآرڈینیشن اچھی تھی اِس لئے مزید کوئی دشواری نہ ہوئی ۔بس کا ڈرائیور ہارن کی آواز کا دلدادہ تھا ۔ کوئی گاڑی دیکھ لے چاہے اُس کے آگے نہ ہو وہ پریشر ہارن کے بٹن پر ہاتھ رکھ دیتا تھا جو چند منٹ بعد ہی اُٹھتا تھا ۔ لاہور سے واپسی پر دس کاروں اور ایک بس پر مشتمل بارات دُلہن کو لے کر روانہ ہوئی ۔ بس کے ڈرائیور صاحب نے آڈیو کیسٹ چلا دی ۔ پتہ نہیں کونسے زمانہ کا آڈیو کیسٹ پلیئر تھا ۔ آواز کی چیں چیں نے ویسے ہی تنگ کیا ہوا تھا ۔ اِس پر گانوں نے نمک پاشی کی ۔ جو چند بول مجھے یاد رہ گئے ملاحظہ ہوں

دو ہنسوں کا جوڑا بچھڑ گیا رے ۔ غضب ہوا رام ظلم ہوا رے

دِل کا کھلونا ہائے ٹوٹ گیا کوئی لُٹیرا آ کے لُوٹ گیا

کہیں دِیپ جلے کہیں دِل آ دیکھ لے آ کر پروانے تیری کونسی ہے منزل

وہ دیکھو جلا گھر کسی کا

ولیمہ کے دن معلوم ہوا کہ بیوٹی پارلر والی نے روانگی کے وقت کو اپنا کام شروع کرنے کا وقت سمجھ لیا تھا چنانچہ دُلہن ایک بجے کی بجائے ساڑھے تین بجے تیار ہو کر آئی ۔ لڑکی کے خاندان والوں نے لاہور سے ڈیڑھ دو بجے تک پہنچنا تھا ۔ 4 بج گئے اور ان کی کوئی خبر نہ ملی ۔ آخر ساڑھے چار بجے پہنچے اور بتایا کہ ڈھائی
گھینٹے ڈسکہ میں ٹریفک جام میں پھنسے رہے ۔

زمرہ : روز و شب | 2 تبصرے »

بلاگرز کی فوری توجہ اور فوری عمل کی ضرورت

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 09 Apr 2006

اسلام آباد کے چندبلاگرز اور کچھ آئی ایس پِیز کی درخواست کے نتیجہ میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی [P.T.A.] نے میٹنگ بلائی ہے جو جلد ہونے والی ہے ۔ اس میٹنگ کا ایجنڈا یہ ہے کہ پورے ڈومینز [domains] کی بلاکنگ ختم کی جائے اور صرف قصوروار بلاگز یا ویب سائٹس بلاک کئے جائیں ۔ ضروری ہے کہ اس وقت یعنی میٹنگ ہونے سے پہلے پی ٹی اے پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا جائے جس کا صحیح اور مؤثر طریقہ مندرجہ ذیل ہے ۔
پی ٹی اے کی مندرجہ ذیل ویب سائٹ کھول کر فیڈ بیَک [Feedback] پر ماؤس کا بایاں بٹن دبائیں ۔
http://www.pta.gov.pk/index.php?cur_t=vtext
اس طرح ایک فارم کھُل جائے گا ۔ اس فارم کو مکمل طور پر پُر کریں اور مندرجہ ذیل سے ملتا جُلتا فقرہ ضرور لکھئے ۔
By blocking twelve domains in stead of twelve concerned websites PTA has blocked thousands of innocent websites.
اپنے بلاگ کو ویب سائٹ لکھئے کیونکہ بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ بلاگ کیا ہوتا ہے البتہ ویب سائٹ تقریباً سب سمجھتے ہیں ۔

زمرہ : روز و شب | 2 تبصرے »

میلہ

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 08 Apr 2006


کوئی آئے کوئی جائے
کوئی روئے کوئی گائے
میلہ رُکنے نہ پائے
میلہ جگ والا ساتھی رے
چلتا رہے 

زمرہ : روز و شب | 2 تبصرے »

ایک سفر کی روداد

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 05 Apr 2006

ہمیں دولہا کی طرف سے شرکت کی دعوت ملی جن کی رہائش سیالکوٹ میں ہے ۔ جمعہ 6 جنوری کو بارات لاہور جانا تھی ۔ میری کمر اور ٹانگ کے درد کے پیشِ نظر شورہءِ خانہ نے فیصلہ کیا کہ کار چلانا میرے لئے مُضِر ہو گا اِس لئے بس پر سفر کیا جائے اور اِس کے لئے دَیوُو کا انتخاب کیا گیا جس کا کرایہ دوسری بس سے تقریباً دوگُنا تھا ۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ آرام دہ ہے اور مسافت میں کم وقت لے گی ۔ جمعرات کو 12 بجے دوپہر ایف ۔ 8 ٹرمینل پہنچے جہاں سے وین پر راولپنڈی پہنچائے گئے ۔ وہاں بس میں بیٹھے جو ایک بجے چلی ۔ بس گجرات میں 15 منٹ رُکنے کے بعد چلی مگر شہر کے اندر ہی ٹریفک میں پھنس گئ ۔ سامنے سے آنے والی گاڑیوں نے ساری سڑک روک رکھی تھی اور ایک گاڑی بائیں جانب کی سڑک سے بیچ میں گھس گئی تھی اور کوئی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا ۔ آدھا گھینٹہ گذرنے کے بعد کچھ سواریوں کو نزاکت کا احساس ہوا اور اُنہوں نے اپنی گاڑیوں سے نیچے اُتر کر گاڑیوں کو آگے پیچھے کروایا تو مزید 15 منٹ بعد وہاں سے نکلے ۔ دَیوُو والے راستہ میں مشروب اور کچھ کھانے کو بھی دیتے ہیں ۔ جب ملا تو علم ہوا کہ مِقدار کم ہو چکی ہے اور معیار بھی گِر چکا ہے ۔ نمعلوم کیوں ہمارے ملک میں ہر چیز بڑے طمطراق سے شروع ہوتی ہے اور بعد میں یہی حال ہوتا ہے ۔ پھر پتہ چلا کہ وزیر آباد سیالکوٹ سڑک بن رہی ہے اس لئے براستہ گوجرانوالا جائیں گے ۔ چنانچہ پونے سات بجے یعنی پونے سات گھنٹے میں سیالکوٹ پہنچے جبکہ دوسری بس ساڑھے پانچ گھینٹے میں پہنچنا تھی ۔

زمرہ : روز و شب | 2 تبصرے »