What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے January 10th, 2006

عید مبارک

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 10 Jan 2006

 

اللہ سُب٘حانُہُ و تَع٘الی آپ سب کے لئے سینکڑوں خوشیوں بھری عیدیں لائے۔ آمین ۔
اُمید کی جاتی ہے کہ آپ اِس عید پر زلزلہ کے متاءثرین کو بھی اپنی خوشیوں اور صحبت کا کچھ حِصّہ عطا فرمائیں گے

زمرہ : روز و شب | 5 تبصرے »

برفاں دے گولے ۔ ملائی دی برف

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 10 Jan 2006

پنجاب کے رہنے والے اگر اِن صداؤں سے واقِف نہیں تو پھر وہ کچھ نہیں جانتے ۔برفاں دے گولے ۔ ٹھنڈے تے مِٹھے ۔ پیئو تے جیو ۔ ۔ ۔ ملائی دی برف اے

پُرانی بات ہے ۔ ہم چند دن پہلے شمالی علاقوں میں کچھ دن قیام کے بعد واپس آئے تھے ۔ ہمارے ہاں کچھ مہمان آ گئے ۔ اُن کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو میں برفانی پہاڑوں کی تفصیل بتا رہا تھا کہ ایک بچّہ بولا “پھر تو وہاں کے بچّے خوب برف کے گولے اور آئس کریم کھاتے ہوں گے” ۔

آجکل حارث بن خُرّم اور قدیر احمد رانا صاحبان بھی برف کے گولے اور آئس کریم کھا رہے ہوں گے ۔ چند دن قبل حارث بن خُرّم صاحب کی ای میل ملی کہ ملتان میں بہت سردی پڑ رہی ہے ۔ اُن کی ڈھارس بندھانے کے لئے سرفراز شاہد صاحب کے یہ شعر

لبوں پہ آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی ميں
غزل کہنا بھی اب تو ہو گیا دشوار سردی میں
محلے بھر کے بچوں نے دھکیلا صبح دم اس کو
مگر ہوتی نہیں اسٹارٹ اپنی کار سردی میں
کئی اہل نظر اس کو بھی ڈسکو کی ادا سمجھے
بچارا کپکپایا جب کوئی فنکار سردی ميں

زمرہ : روز و شب | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »