رو کر ہنسایا ۔ مسکرا کر رولائیں

جب آپ پیدا ہوۓ تو آپ رو رہے تھے
اور باقی سب لوگ خوش ہو رہے تھے

اپنی زندگی ایسے گذارئیے کہ جب موت آۓ
آپ مسکرا رہے ہوں اور باقی سب رو رہے ہوں

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

3 thoughts on “رو کر ہنسایا ۔ مسکرا کر رولائیں

  1. Dr. Iftikhar Raja

    بہت خوب، درحقیقت زندگی کا طریق کچھ یوں ہی ہونا چاہئے
    ویسے بھی ایک اچھے مسلمان کی علامت ہے کہ وہ معاملات میں اچھا ہو۔
    تب لوگ تو خود بخود روئیں گے۔

  2. اجمل

    شعیب صفدر صاحب
    کام ضرور مشکل ہے مگر ناممکن نہیں ۔ اگر کوئی غلط کام نہ کیا جاۓ اور کسی کو دکھ دینے سے بچا جاۓ تو میرا یہ تجربہ ہے کہ ایسے شخص کی موت پر اس کے بظاہر دشمن بھی روتے ہیں ۔ میں شقی القلب لوگوں کی بات نہیں کر رہا وہ تو اپنوں پر بھی نہیں روتے ۔

    ڈاکٹر افتخار راجہ صاحب
    آپ کا خیال سولہ آنے درست ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)