مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 19 Nov 2005
علامہ اقبال کے شعروں کے ساتھ بہت لوگوں نے پسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور بعض اوقات اس پسندیدگی نے حشر نشر کی صورت اختیار کی ۔ بہت پرانی بات ہے راولپنڈی میں راجہ بازار کے فوارہ چوک (جہاں کبھی فوارہ بنا دیا جاتا ہے اور کبھی توڑ دیا جاتا ہے) سے لیاقت روڈ پر چلیں تو بائیں طرف ایک ہوٹل ہوتا تھا “علی بابا ہوٹل ۔ آنہ روٹی دال مفت” روپے میں 16 آنے ہوتے تھے اور یہ روٹی آجکل کی پانچ روپے والی کے برابر تھی ۔ اس ہوٹل کی دیوار پر جلی حروف میں لکھا ہوتا تھا
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے ٹوٹل پر
تو شاہین ہے کر بسیرا علی بابا کے ہوٹل پر
اسی زمانہ میں ایک رسالے میں کارٹون شائع ہوا جس میں لکھا تھا
خودی کو کر بلند اتنا کہ جا پہنچے پہاڑی پر
خدا بندے سے پھر پوچھے دس پترا اترسیں کس طراں
زمرہ : روز و شب | 6 تبصرے »
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 17 Nov 2005
گھر میں پیار و محبت کی فضا زندگی کی بنیاد ہےاپنے عزیزوں سے اختلاف کی صورت میں
صرف حال کے معاملہ پر ہی نظر رکھیئے
ماضی کی رنجشوں کو بیچ میں نہ لائیے
یاد رکھیئے کہ بہترین تعلقات وہ ہوتے ہیں
جن میں آپس میں ایک دوسرے سے محبت
ایک دوسرے کی ضرورت سے بڑھ جائے
زمرہ : روز و شب | 4 تبصرے »
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 15 Nov 2005
ہمارے ملک میں صرف ایک خود ساختہ زمینی خدا کے نہ صرف اصلی بلکہ مفروضہ تحفظ کے لئے لاکھوں پاکستانی جانوں کو مصیبت میں ڈالا جا سکتا ہے ۔ یہ خود ساختہ خدا ہی پاکستان ہے باقی ہم لوگوں کی قدر اس چارے کے برابر بھی نہیں جو مویشیوں کو ڈالا جاتا ہے ۔ چار پانچ روز قبل اچانک اس خود ساختہ خدا کو احساس ہوا کہ اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے کیونکہ 30000 آدمی پہاڑوں سے اتر کر اسلام آباد کی فضا میں اپنی گھٹیا سانسیں چھوڑ رہے ہیں ۔ اگر زلزلہ آیا ہے تو ان کے گھروں میں آتا رہے مگر میری فضا گندی کرنے کی انہیں اجازت نہیں دے سکتا ۔ میں نے ڈالر اکٹھے کرنے تھے کر لئے میرے ثناخوانوں اور حواریوں نے عمدہ یورپی کمبل اور پکنکیں منانے کے لئے خیمے لینا تھے لے لئے چنانچہ حکم دے دیا گیا کہ نکالو ان کو یہاں سے اور 13 نومبر کو 1000 بے خانماں متاءثرین کو نکال دیا گیا ۔ چند دنوں میں اسلام آباد خالی کرا لیا جاۓ گا ۔ جن مصیبت زدہ زلزلہ کے متاءثرین کا کھانے پینے اور رہائش کا 90 فیصد خرچ راولپنڈی اور اسلام آباد کے عوام اور رفاہی ادارے اٹھا رہے تھے اور دن رات ان کی خدمت میں لگے تھے ۔ برفانی پہاڑوں میں ان بے خانماں لوگوں کا کیا ہو گا اس کی خود ساختہ خدا کو کیا پروا ۔ اقوام متحدہ والے اگر کہتے ہیں کہ سخت سردی سے بے شمار متاءثرین مر جائیں گے تو کہتے رہیں ۔ سوا لاکھ سے زیادہ مر چکے مزید مر جائیں تو پرکیپیٹا انکم (per capita income)میں اضافہ ہو جائے گا اور آقا (امریکہ) سے شاباش ملے گی ۔ کمال تو یہ ہے ان کو واپس پہنچانے کے لئے متاءثرین کا خرچ اٹھانے والے مقامی رفاہی اداروں کو ہی حکم دیا گیا ہے تاکہ ٹرانسپورٹ پر حکومت کا خرچہ نہ ہو ۔
لاٹھی کی سرکار
نہ ہو کبھی کہیں برباد ۔گھر کسی کا ہو
نہ بے خطا ہو سر دار ۔ سر کسی کا ہو
تڑپ کے جاں نہ دے بے کسی کے عالم میں
جوان لاڈلا ۔ لخت جگر کسی کا ہو
اداس لوگوں پہ اب لاٹھیاں نہ برساؤ
کہ مشتعل نہ دل نوحہ گر کسی کا ہو
یہ سادہ لوح ۔ پہاڑوں کے غمزدہ خوددار
نہ زندگی میں زیاں اس قدر کسی کا ہو
تمام اعضاء سلامت ہیں جن کے وہ سوچیں
نہ ضائع اس طرح دست ہنر کسی کا ہو
ریاض الرحمان ساغر
اب پڑھیئے کچھ حالات حاضرہ اور خبروں کے بارے میں
1 ۔ ” اعزاز” اور احساس محرومی
2 ۔ حکومت کس دردمندی سے زلزلہ زدگان کے دامن تارتار کی بخیہ گری کر رہی ہے
زمرہ : روز و شب | 2 تبصرے »
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 12 Nov 2005
حسن اتفاق ۔ ایک غزل بہت معروف ہوئی وہ لکھنے والے کی مشہور غزلوں میں سے آخری بن گئی اور گانے والے کی مشہور غزلوں میں سے بھی آخری ثابت ہوئی ۔ ابن انشاء کی لکھی اور استاد امانت علی کی گائی ہوئی ۔
انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو
اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کوسکوں سے کیا مطلب
جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا
اس دل کے دریدہ دامن میں
دیکھو توسہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوۓ
اس جھولی کو پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا
زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آۓ ہو
سجنی سے کرو گے بہانہ کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں
کیوں بن میں نہ جا بسرام کریں
دیوانوں کی سی نہ بات کرے
تو اور کرے دیوانہ کیا
زمرہ : روز و شب | 9 تبصرے »