کہا ” کوچ کرو” اور کوچ کر گئے

حسن اتفاق ۔ ایک غزل بہت معروف ہوئی وہ لکھنے والے کی مشہور غزلوں میں سے آخری بن گئی اور گانے والے کی مشہور غزلوں میں سے بھی آخری ثابت ہوئی ۔ ابن انشاء کی لکھی اور استاد امانت علی کی گائی ہوئی ۔

انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو
اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کوسکوں سے کیا مطلب
جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا
اس دل کے دریدہ دامن میں
دیکھو توسہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے
اس جھولی کو پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا
زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آئے ہو
سجنی سے کرو گے بہانہ کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں
کیوں بن میں نہ جا بسیرا ہم کریں
دیوانوں کی سی نہ بات کرے
تو اور کرے دیوانہ کیا

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

9 thoughts on “کہا ” کوچ کرو” اور کوچ کر گئے

  1. WiseSabre

    میں بھی کل اسے یاد کر رھا تھا۔
    مگر میں اسے اس طرح پزھتا ہوں

    “انشاء جی اٹھو اب کوچ کریں”

  2. Khawar

    يه ميرا بهى پسنديده گانا هے ـ
    ميں نے بهى كچهـ دن شوق سے سنا اور گهر سے كوچ كر كے جيل جانا پڑ گيا تها ـ
    ميرے پاس ايم پى تهرى ميں يه گانا هے اگر اپ پسند كريں تو ميں اپ كو بهيج سكتا هوں ـ
    استاد امانت على كا ايكـ اور گانا هے ـ
    اب كے بار پونم ميں جب تو آئے گى ملنے
    آگر كسى دوست كے پاس هو تو ايكـ كاپى مجهے بهى عنايت كر ديں ـ
    مهربانى
    خاور كهوكهر

  3. Attiq-ur-Rehman

    السلام علیکم
    جی ہاں یہ اتفاق ہے یا کیا کہ کچھ اور شاعروں کی آخری باتیں بھی اسی طرح کی ہیں جیسے علامہ اقبال کی یہ آخری رباعی ۔۔۔

    سرود رفتہ باز آید کہ نہ آید
    نسیمے از حجاز آید کہ نہ آید
    سر آمد روزگار ایں فقیرے
    دگر دانائے راز آید کہ نہ آید

  4. اجمل

    ثاقب سعود صاحب
    اللہ نہ کرے یہ کیسے گانے آپ گانے لگے ۔

    خاور صاحب
    پیشکش کا شکریہ ۔ میرے پاس امانت علی کا گایا ہوا موجود ہے ۔

    عتیق الرحمان صاحب
    آپ نے ٹھیک فرمایا ۔ میرا خیال ہے کہ ایسی صورت میں شائد اللہ تعالی ان کے منہ سے ایسی بات کہلوا دیتا ہے ۔

  5. جعفر

    کچھ لیٹ تبصرہ ہے پھر بھی۔۔۔
    گر قبول افتد۔۔۔۔
    ”ڈگر“ کی بجائے ”نگر“ ہے شاید
    اور ”بسراہم“ کی بجائے ”بسرام“

  6. Pingback: What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » آ بيل مجھے مار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)