شعیب صاحب ۔ شعیب صفدر صاحب ۔ ڈاکٹر افتخار راجہ صاحب ۔ حارث بن خرم صاحب ۔ اور دیگر صاحبین و صاحبات ۔ اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
میرے نقل کردہ گانے پر آپ حضرات کا تبصرا دلچسپ ہے اور اس سے کئی ذی معنی اور منطقی سوالات ابھرے ہیں ۔ اس لئے میں نے جواب مین پوسٹ میں دینے کا فیصلہ کیا ۔
سبحان اللہ ۔ تعریف اس خدا کی جس نے مجھے اور آپ سب کو بنایا
اگر کوئی شخص ہمیں ایک چھوٹا سا تحفہ بھی دے تو ہم تحفہ دینے والے احسانمند ہوتے ہیں اور موقع ملنے پر اسے بہتر تحفہ دیتے ہیں ۔ لیکن عجب بات ہے کہ جس نے ہمیں ان گنت تحائف دیئے اور آئے دن دیتا رہتا ہے اس کا ہم شکریہ بھی ادا نہیں کرتے ۔ ” اور تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے” ۔ یہاں کلک کر کے پڑھیئے سورۃ 55 الرحمان اردو ترجمہ کے ساتھ صفحہ 931 سے 936 تک ۔ ماہ رمضان میں تلاوت کا کئی گنا ثواب کمائیے اور تلاوت کا لطف بھی اٹھائیے ۔
متذکّرہ گانے کی یاد مجھے دو باتوں نے کرائی ۔
اول ۔ ہم اندھا دھند اپنی پیاری زبانوں اردو پنجابی سندھی پشتو کشمیری سرائیکی کو روندتے ہوۓ انگریزی کے پیچھے سرپٹ بھاگ رہے ہے جس کا صحیح قانون قاعدہ ہی نہیں ۔ ہے کوئی ہم میں جو اپنے ملک کی سب زبانیں جانتا ہے ۔ شائد ایک بھی نہیں ۔ میں خود اپنے آپ کو اس سلسلہ میں مجرم گردانتا ہوں ۔ میں اردو اور پنجابی اچھی طرح جانتا ہوں ۔ سندھی پشتو کشمیری اور سرائیکی میں نے سیکھنے کی تھوڑی سی کوشش کی اور نتیجہ میں یہ زبانیں تھوڑی سی سمجھ لیتا ہوں ۔ (بلوچی کا ذکر میں نے نہیں کیا کیوں بلوچی بذات خود کوئی زبان نہیں ہے)
دوم ۔ تین دہائیوں سے ہم لوگ تعلیم وتربیت حاصل کرنے کی طرف توجہ چھوڑ کر صرف کاغذ کے ٹکڑے (ڈگریاں) اکٹھا کرنے میں لگے ہوۓ ہیں ۔ اب تو یہ حالت ہو چکی ہے کہ یہ کاغذ کے ٹکڑے بھی ہم اپنی دولت سے خریدنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ شیخ سعدی نے فرمایا تھا کہ گدھے پر سو من کتابیں لاد دی جائیں پھر بھی وہ گدھا ہی رہتا ہے ۔ لیکن اگر کسی جانور کو بھی تربیت دی جاۓ تو وہ اچھے کام کرنے لگ جاتا ہے ۔
ڈاکٹر افتخار راجہ صاحب نے ٹھیک لکھا ہے کہ ہمارے بہت سے لوگ اس لئے بے روزگار ہیں کہ انہوں نے امتحان پاس کر کے ڈگریاں لی ہیں تعلیم و تربیت کی طرف توجہ نہیں دی ۔ میں تو کہوں گا کہ ہمارے ملک میں جمہوریت نہ ہونے اور ہماری پسماندگی کا سبب بھی یہی ہے ۔ اور اسی وجہ سے ہمیں اچھے اور برے میں تمیز نہیں ہے ۔
حارث بن خرم صاحب لکھتے ہیں ۔ “بالکل ہماری پڑھائی الٹی ہے۔ دراصل عوام دھوبی کے گدھے سے بھی گئی گزری ہے جو رات کو کم از کم گھر تو آ جاتا ہے ۔ حکمرانوں نے کم اور ہماری عادتوں اور ظلم، سہنے کی بری ””’خصلت”” نے ہماری مت مار دی ہے۔”