
اس کے والد صاحب کا کاروبار قاہرہ میں تھا ۔ وہ عرصہ دراز سے وہیں رہتے تھے ۔ وہ مصر کے شہر قاہرہ میں پیدا ہوئی ۔ اس کے والد صاحب کے آباؤ اجداد اس علاقہ میں رہتے تھے جو چھ سال پہلے پاکستان بن چکا تھا ۔ اچانک اس کے والد صاحب کے دل میں پاکستان کی محبت جاگی اور وہ سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آ گئے ۔ وہ پاکستان کی کوئی زبان نہ بول سکتی تھی اور نہ سمجھ سکتی تھی ۔ پھر بھی اسے سکول میں داخل کرا دیا گیا چوتھی جماعت میں ۔ اس نے بہت محنت کی اور چند ماہ میں تھوڑی بہت اردو لکھنے لگی ۔ ہر سال وہ پاس ہوتی چلی گئی اور پنجاب یونیورسٹی سے فزکس کیمسٹری میں بی ایس سی پاس کی ۔ مگر اردو بولتے ہوئے وہ ٹ چ ڈ ڑ صحیح طرح نہیں بول سکتی تھی ۔اڑتیس سال قبل وہ میرے گھر آئی تو اسے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔ میرے دل میں اس کے لئے قدر اور محبت جاگی اور بڑھتی چلی گئی ۔ خیال رہے پہلی نظر میں عشق صرف افسانوں میں ہوتا ہے حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ اسی لئے کسی نے کہا ہے ۔ کہتے ہیں جسے عشق ۔ خلل ہے دماغ کا ۔ اس کے ہاتھ سے پکے کھانے کھائے ۔ پاکستانی ہی نہیں چین ۔ مصر ۔ اٹلی اور ترکی کی ڈشز بھی بہت اچھی اور مزے دار بناتی ہے ۔ میں نے اس کے بنائے ہوئے گلاب جامن اور رس ملائی بھی کھائی ہوئی ہے ۔ مٹھائی کی دکان والے کیا مقابلہ کریں گے ۔
وہ میری خوشیوں میں شامل ہوئی اور میرے غم میں میری ڈھارس بندھائی ۔ میرے ساتھ اس نے افریقہ اور یورپ کی سیر بھی کی اور حج اور عمرے بھی ۔ ہمیشہ اس نے میرے آرام کا اپنے آرام سے زیادہ خیال رکھا ۔ اب وہ میرے دل و دماغ پر چھا چکی ہے ۔ وہ کون ہے ؟ جاننے کے لئے کل اسی بلاگ پر تشریف لا ئیے ۔