Daily Archives: June 17, 2005

تبدیلی تبدیلی تبدیلی

خود بدلتے نہیں ۔ سب کچھ بدل دیتے ہیں
میرے اہل وطن یہ کیا چارہ گری کرتے ہیں

تبدیلی تبدیلی تبدیلی ۔ پچھلے پینتیس چالیس سال سے یہ گردان سنتا چلا آ رہا ہوں ۔
نتیجہ ۔ جتنی تبدیلی لائی گئی ہے اتنا ہی ملک اور قوم کا نقصان ہوا ۔
وجہ ۔ تبدیلی اس لئے لائی گئی کہ تبدیلی لانا تھی ۔
تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں لا لا کر تعلیم کو بے مقصد بنا دیا گیا ہے ۔
حکومتیں تبدیل کر کر کے ملک کو وحشیوں بھرا جنگل بنا دیا گیا ہے ۔
آئین میں تبدیلیاں کرتے کرتے ملک بے آئین ہو کے رہ گیا ہے ۔
آجکل تو تبدیلی نہیں تبدیلیوں پر زور ہے ۔
اللہ رحم کرے اس ملک پر اور ہم عوام پر ۔

اور ہاں ضیاء صاحب کیفے حقیقت والے کو بھی اردو میں تبدیلی کا شوق چرایا ہے ۔
ارے میاں ۔ ذ اور ز کو برداشت کر لیجئے ۔ پہلے ہی اردو کو شائد گنواروں یا ان پڑھوں کی زبان سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ معاندانہ سلوک کیا جاتا رہا ہے ۔ اردو میں تبدیلیاں کیں تو جو ٹوٹی پھوٹی اردو رہ گئی ہے وہ بھی دفن ہو جائے گی ۔

ترقّی چاہیئے تو ترقّی تبدیلی سے نہیں ہوتی بلکہ ترقّی از خود تبدیلی لاتی ہے ۔ اگر کچھ کرنا ہی ہے ترقّی کی کوشش کیجئے ۔ تبدیلیاں خود بخود آئیں گی ۔ اور ترقّی کے نتیجہ میں آنے والی تبدیلیاں صحت مند اور خوشگوار ہوں گی ۔ مگر ترقّی کے لئے بے غرض محنت کی ضرورت ہے ۔