مکّر کٹّیاں نیں چھاواں ۔۔۔۔۔

ہوسٹن (امریکہ) میں مقیم ایک پاکستانی ڈاکٹر امان اللہ خان کی کتاب سے کچھ پنجابی شعر نقل کر رہا ہوں۔ یہ افغانستان اور عراق کی صورت حال کی غمازی کرتے ہیں۔ میں شاعری کے اسلوب سے واقف نہیں ہوں پھر بھی نیچے اردو میں ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

مکْر کُٹیاں نیں چھاوان

پیا لگدا حشر دیہاڑا سی ۔ ہر پاسے چیک چہاڑا سی
اینج لگدا سی بغداد نئیں ۔۔۔ فیر ہویا کی سی۔ یاد نئیں
اج چار دوالے کیہڑے نیں ۔ میرا فوٹو لیندے کیہڑے نیں
اے لتاں کس نے کٹیاں نیں ۔ جتھے ہتھ سن اوتھے پٹیاں نیں
او ویلے یاد پئے آوندے نیں ۔ میرے اتھرو وگدے رہندے نیں
جیڑے گھرسن سارے ڈھے گئے نیں ۔ ہن کھنڈرای باقی رہ گئے نیں
کوئی جا کے اج لیا دیوے ۔۔۔ مینوں پورا کوئی بنا دیوے

اردو ترجمہ حاضر ہے۔ میں شاعر نہیں ہوں۔ غلطیاں درگذر کیجئےگا۔

پُر فریب ہیں سائے

وہ لگتی حشر کی گھڑی تھی ۔ ہر سو چیخ پکار۔ وہاں پڑی تھی
یوں لگتا تھا کہ بغداد نہیں ۔۔۔ پھر ہوا کیا تھا۔ کچھ یاد نہیں
آج چاروں طرف میرے کون ہیں ۔ یہ فوٹو میرا لیتے کون ہیں
یہ ٹانگیں کس نے کاٹی ہیں ۔ ہاتھ جہاں تھے وہاں بھی پٹیاں ہیں
وہ واقعات ہیں اب یاد آنے لگے۔ میرے آنسو بھی ہیں بہنے لگے
جو گھر تھے سارے گرچکے ۔ اب کھنڈر ہی باقی رہ گئے ہیں
کوئی جا کے مجھےلادیوے ۔ مجھے پورا تو کوئی بنا دیوے

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

6 thoughts on “مکّر کٹّیاں نیں چھاواں ۔۔۔۔۔

  1. جہانزيب

    اسلام و عليکم
    پہلی بات تو آپنے واقعی بہت اچھا ترجمہ کيا ہے ۔
    يہ شعر پڑھ کر تھوڑا جذباتی ہو گيا
    اے لتاں کس نے کٹیاں نیں ۔ جتھے ہتھ سن اوتھے پٹیاں نیں
    او ویلے یاد پئے آوندے نیں ۔ میرے اتھرو وگدے رہندے نیں

    کہ جو بچے مارے گيے يا جن بچوں کے والدين اس جنگ ميں مارے گيے ايکو امريکی کيسے کہيں گے کہ امريکی انہيں آزادی دلانے آئے تھے ايک جابر حکمران سے ۔ صرف اس مہينہ ميں ٧٠٠ سے زيادہ لوگ ڎراق ميں مرے ہيں اگر ہلاکتوں کے سلسلے کو صدام کے دور کی طوالت تقريبا ٢٠ سال کے حوالے سے ديکھا جائے تو صدام نہيں امريکہ کا دور اس سے کہيں زيہادہ ہلاکتوں کا دور ہو گا۔

  2. اجمل

    چہانزیب۔ افسوس تو اس پر ہے کہ تقریبا سارے مسلمان حکمران اور مسلمان عوام کی بھی کافی تعداد ان مرنے والے مظلوموں کا ساتھ دینے کی بجائے ظالم کا ساتھ دے رہے ہیں اور پھر بھی اپنے آپ کو مسلم سمجھتے ہیں۔ شائد اسی کو کہتے ہیں۔ عقل کے اندھے اور نام نین سکھ۔

  3. اجمل

    شعیب صفدر صاحب ۔ تاخیر سے جواب دینے کی معذرت۔
    تاخیر کی وجہ بلکہ کہانی یہ ہے کہ کچھ عرسہ قبل ایک صاحب دوسرے صاحب کو ایک کتاب میں سے شعر سنا رہے تھے۔ مجھے چند سننے کا موقع مل گیا اور شاعر کا نام بھی پتا چل گیا۔ میری زیادہ تر توجہ اسی طرف رہی۔ کتاب کا نام جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہی ہے۔ مکّر کٹّیاں نیں چھاواں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)