خود کش حملہ اور ہلاکو خان

نبیل صاحب نے لکھا۔

پاکستان میں بری امام کے مزار پر ایک اور خود کش دھماکہ ہو گیا۔ ایک زیادہ تر شیعہ زائرین اکٹھے تھے۔ سنی لوگ بھی موجود ہوں گے۔ اب ان دانش فروشوں اور دین کے نام سیاست کی دکان چمکانے والوں کی یقینا باچھیں کھلی ہوں گی۔ پاکستان کے عوام اور مقتدر طبقے نے عشروں تک جہادیوں کو بہ صرف برداشت کیا بلکہ ان کی کاروائیوں کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ ہم لوگوں کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ کبھی یہ لوگ ہم پر بھی حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ شاید ہمیں بھی ایسے ہلاکو خان کا انتظار کرنا پڑے جو ان فدائین کو ٹھکانے لگا دے۔

نورپور شاہاں میرے گھر سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ دیگرمیں وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ بی بی سی نے یہ شوشہ صرف فساد کی آک بڑھکانے کے لئے چھوڑا ہے کہ زیادہ تر شیعہ زائرین اکٹھے تھے۔ وہاں لوگ بلا تمیز مسلک آتے ہیں اور اپنی بلحاظ فرقہ پہچان نہیں کرواتے۔ بی بی سی کا مسلم دشمن افواہیں پھیلانے کا کاروبار کوئی نیا نہیں ہے۔آج کے کمپلیکس دور میں جہاں کسی بھی چیز کی اصل صورت نظر آنا ہی مشکل ہو گیا ہے۔ بات کرنا اور بات کو سمجھنا اتنا آسان نہیں رہا کہ ایک عبارت یا خبر پڑھی اور بات سمجھ میں آ گئی۔ نیبیل صاحب اور باقی قارئین سے بھی گذارش ہے کہ آپ ذرا ٹھنڈے دل سے غور کر کے بتائیں کہ اشخاص کے ایک گروہ پر ان کے گھر یا محلہ یا شہر میں آ کر ان پر ظلم و ستم شروع کر دیا جائے ان کے کمسن بچوں کو بھی بلا وجہ قتل کیا جائے۔ ان کی بہنوں بیویوں بیٹیوں کی عزتیں لوٹی جائیں۔ ان کے پاس اپنے دفاع کا مناسب بندوبست بھی نہ ہو اور ان میں آپ بھی شامل ہوں تو کیا آپ یہی کہیں گے ” ایک اور ہلاکو خان آ جائے اور آپ کے مردوں کی گردنیں اڑا دے اور آپ کی جوان عورتوں کو داد عیش دینے کے لئے اٹھا کر لے جائے ؟ جموں کشمیر میں بھارتی فوج۔ چیچنیا میں روسی فوج۔ فلسطین میں امریکہ کی حمائت یافتہ اسرائیلی فوج اور افغانستان اور عراق میں امریکی اور حلیف فوجیں جو کچھ کر رہی ہیں کیا یہ سب ٹھیک ہے ؟ اور اگر آپ وہاں کے باشندے ہوتے اور آپ کے ساتھ یہ سب کچھ ہوتا تو آپ کیا کرتے ؟

میں نے صرف نو دس سال کی عمر میں جو کچھ دیکھا اس کی چھوٹی سی جھلک میرے اس بلاگ کی سائیڈ بار میں “مائی لائف ان جمّوں اینڈ کشمیر پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔ وقت بچانے کے لئے صرف “دی وائلینس سٹارٹس سے ٹو پاکستان ” تک پڑھ لیجئے۔ میں نے اس میں انتہائی قلب سوز واقعات کا ذکر اس لئے نہیں کیا تھا کہ کہیں میری اولاد کافروں سے اتنی نفرت نہ کرنے لگ جائے کہ جہاں کافر نظر آئے اس کا منہ نوچ لیں۔

عبدالقادر حسن نے جو کچھ لکھا وہ درست ہے۔ کل نور پور شاہاں میں جو دھماکہ ہوا وہ عبدالقادر حسن کا موضوع سخن نہیں تھا۔ جو طریقہ عبدالقادر حسن نے فتوی کا لکھا ہے وہ بھی صحیح ہے۔ فتوی دینے کے لئے سب سے اہم شرط یہ ہے کہ اگر فتوی نہ دیا گیا تو کسی مسلم (با عمل مسلم) فرد یا گروہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ متّقی اور زاہد مسلم عالم فتوی دینے سے بہت کتراتے تھے کیونکہ نہ صرف ان کے فتوی کے نتیجہ میں جو کچھ ہو گا وہ ان کے نامہء عمال میں لکھا جائے گا۔ بلکہ اللہ تعالی بھی روز قیامت اس سے اس فتوی کی صحت کے متعلق سوال کریں گے ۔

عراق کے گورنر یزید بن عمر نے بن امیّہ کے آخری خلیفہ کے دور میں امام نعمان بن ثابت المعروف امام ابو حنیفہ کو مفتی و قاضی بننے کی پیشکش کی مگر انہوں نے قبول نہ کیا کہ حکومت کی ماتحتی میں وہ انسانی حقوق کی حفاظت نہ کر سکیں گے۔ گورنر نے انہیں ایک سو کوڑے اور سر پر دس مکّے مروائے۔ امام صاحب کا سر چہرہ وغیرہ پھول گیا مگر وہ پھر بھی نہ مانے۔ یزید بن عمر کی اچانک موت سے ان کی خلاصی ہوئی۔ بعد میں عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے سپریم کورٹ آف اپیل کے چیف جسٹس بننے کی پیشکش کی۔ انکار پر قید کر دیا پھر دس مکّوں اور سو کوڑوں کی سزا دی۔ آخری کوڑا جان لیوا ثابت ہوا۔

آج کے دور میں ایسے ملا پائے جاتے ہیں کہ حکومت نے ان سے محض امریکہ کی ھدائت پر ایک غلط فتوی لے لیا ہے تاکہ اس دور کے ہلاکو جارج واکر بش کا زرخرید چیلا پرویز مشرف مسلمانوں کو صفحہء ہستی سے مٹانے میں دل کھولکر ہلاکو کی مدد کر سکے۔

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

One thought on “خود کش حملہ اور ہلاکو خان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)