What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے May, 2005

نور پور شاہاں بم دھماکہ اور قانون کے محافظ

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 29 May 2005

جس لڑکے نے جمعہ کی دوپہر کو ہمیں دھماکہ کی خبر سنائی وہ ہمارے ملازم کا بھتیجھا ہے اور ان کا اور ان کے احباب کے گھر نورپور شاہاں میں ہیں۔ اس کے اور کئی موقع کے گواہوں کے مطابق وہاں ایجنسیوں والے تو کیا پولیس والے بھی مزار کے اندر یا گرد موجود نہ تھے اور دور کسی ہوٹل میں بیٹھے کھا پی رہے تھے جب کہ یہ مزار پریزیڈنٹ ہاؤس۔ پرائم منسٹر ہاؤس اور ڈپلو میٹک انکلیو کے قریب ہے۔ دوسرے فی زمانہ جہاں کہیں بھی لوگ اکٹھے ہوں وہاں سخت سیکیوریٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب اس سلسہ میں ڈان کا ایڈیٹوریل یہاں کلک کر کے پڑھئے۔

زمرہ : روز و شب | 2 تبصرے »

خود کش حملہ اور ہلاکو خان

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 28 May 2005

نبیل صاحب نے لکھا۔

پاکستان میں بری امام کے مزار پر ایک اور خود کش دھماکہ ہو گیا۔ ایک زیادہ تر شیعہ زائرین اکٹھے تھے۔ سنی لوگ بھی موجود ہوں گے۔ اب ان دانش فروشوں اور دین کے نام سیاست کی دکان چمکانے والوں کی یقینا باچھیں کھلی ہوں گی۔ پاکستان کے عوام اور مقتدر طبقے نے عشروں تک جہادیوں کو بہ صرف برداشت کیا بلکہ ان کی کاروائیوں کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ ہم لوگوں کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ کبھی یہ لوگ ہم پر بھی حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ شاید ہمیں بھی ایسے ہلاکو خان کا انتظار کرنا پڑے جو ان فدائین کو ٹھکانے لگا دے۔

نورپور شاہاں میرے گھر سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ دیگرمیں وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ بی بی سی نے یہ شوشہ صرف فساد کی آک بڑھکانے کے لئے چھوڑا ہے کہ زیادہ تر شیعہ زائرین اکٹھے تھے۔ وہاں لوگ بلا تمیز مسلک آتے ہیں اور اپنی بلحاظ فرقہ پہچان نہیں کرواتے۔ بی بی سی کا مسلم دشمن افواہیں پھیلانے کا کاروبار کوئی نیا نہیں ہے۔آج کے کمپلیکس دور میں جہاں کسی بھی چیز کی اصل صورت نظر آنا ہی مشکل ہو گیا ہے۔ بات کرنا اور بات کو سمجھنا اتنا آسان نہیں رہا کہ ایک عبارت یا خبر پڑھی اور بات سمجھ میں آ گئی۔ نیبیل صاحب اور باقی قارئین سے بھی گذارش ہے کہ آپ ذرا ٹھنڈے دل سے غور کر کے بتائیں کہ اشخاص کے ایک گروہ پر ان کے گھر یا محلہ یا شہر میں آ کر ان پر ظلم و ستم شروع کر دیا جائے ان کے کمسن بچوں کو بھی بلا وجہ قتل کیا جائے۔ ان کی بہنوں بیویوں بیٹیوں کی عزتیں لوٹی جائیں۔ ان کے پاس اپنے دفاع کا مناسب بندوبست بھی نہ ہو اور ان میں آپ بھی شامل ہوں تو کیا آپ یہی کہیں گے ” ایک اور ہلاکو خان آ جائے اور آپ کے مردوں کی گردنیں اڑا دے اور آپ کی جوان عورتوں کو داد عیش دینے کے لئے اٹھا کر لے جائے ؟ جموں کشمیر میں بھارتی فوج۔ چیچنیا میں روسی فوج۔ فلسطین میں امریکہ کی حمائت یافتہ اسرائیلی فوج اور افغانستان اور عراق میں امریکی اور حلیف فوجیں جو کچھ کر رہی ہیں کیا یہ سب ٹھیک ہے ؟ اور اگر آپ وہاں کے باشندے ہوتے اور آپ کے ساتھ یہ سب کچھ ہوتا تو آپ کیا کرتے ؟

میں نے صرف نو دس سال کی عمر میں جو کچھ دیکھا اس کی چھوٹی سی جھلک میرے اس بلاگ کی سائیڈ بار میں “مائی لائف ان جمّوں اینڈ کشمیر پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔ وقت بچانے کے لئے صرف “دی وائلینس سٹارٹس سے ٹو پاکستان ” تک پڑھ لیجئے۔ میں نے اس میں انتہائی قلب سوز واقعات کا ذکر اس لئے نہیں کیا تھا کہ کہیں میری اولاد کافروں سے اتنی نفرت نہ کرنے لگ جائے کہ جہاں کافر نظر آئے اس کا منہ نوچ لیں۔

عبدالقادر حسن نے جو کچھ لکھا وہ درست ہے۔ کل نور پور شاہاں میں جو دھماکہ ہوا وہ عبدالقادر حسن کا موضوع سخن نہیں تھا۔ جو طریقہ عبدالقادر حسن نے فتوی کا لکھا ہے وہ بھی صحیح ہے۔ فتوی دینے کے لئے سب سے اہم شرط یہ ہے کہ اگر فتوی نہ دیا گیا تو کسی مسلم (با عمل مسلم) فرد یا گروہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ متّقی اور زاہد مسلم عالم فتوی دینے سے بہت کتراتے تھے کیونکہ نہ صرف ان کے فتوی کے نتیجہ میں جو کچھ ہو گا وہ ان کے نامہء عمال میں لکھا جائے گا۔ بلکہ اللہ تعالی بھی روز قیامت اس سے اس فتوی کی صحت کے متعلق سوال کریں گے ۔

عراق کے گورنر یزید بن عمر نے بن امیّہ کے آخری خلیفہ کے دور میں امام نعمان بن ثابت المعروف امام ابو حنیفہ کو مفتی و قاضی بننے کی پیشکش کی مگر انہوں نے قبول نہ کیا کہ حکومت کی ماتحتی میں وہ انسانی حقوق کی حفاظت نہ کر سکیں گے۔ گورنر نے انہیں ایک سو کوڑے اور سر پر دس مکّے مروائے۔ امام صاحب کا سر چہرہ وغیرہ پھول گیا مگر وہ پھر بھی نہ مانے۔ یزید بن عمر کی اچانک موت سے ان کی خلاصی ہوئی۔ بعد میں عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے سپریم کورٹ آف اپیل کے چیف جسٹس بننے کی پیشکش کی۔ انکار پر قید کر دیا پھر دس مکّوں اور سو کوڑوں کی سزا دی۔ آخری کوڑا جان لیوا ثابت ہوا۔

آج کے دور میں ایسے ملا پائے جاتے ہیں کہ حکومت نے ان سے محض امریکہ کی ھدائت پر ایک غلط فتوی لے لیا ہے تاکہ اس دور کے ہلاکو جارج واکر بش کا زرخرید چیلا پرویز مشرف مسلمانوں کو صفحہء ہستی سے مٹانے میں دل کھولکر ہلاکو کی مدد کر سکے۔

زمرہ : روز و شب | ابھی تک ایک تبصرہ ہوا ہے »

آج کے مسلمان کی حالت

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 27 May 2005

خودی کی موت سے مغرب کا اندرون بے نور ۔۔۔۔۔ خودی کی موت سے مشرق ہے مبتلائے جذّام
خودی کی موت سے روح عرب ہے بے تب و تاب ۔۔۔۔۔ بد ن عراق و عجم کا ہے بے عرق و عظّام
خودی کی موت سے ہندی شکستہ بالوں پر ۔۔۔۔۔ قفس ہوا ہے حلال اور آشیانہ حرام
خودی کی موت سے پیر حرم ہوا مجبور ۔۔۔۔۔ کہ بیچ کھائے مسلمانون کا جامہء احرام

زمرہ : روز و شب | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

انسانیت ؟ یا ہماری خارجہ پالیسی پر ایک کاری ضرب ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 26 May 2005

میں قدیر احمد رانا کا پیغام من و عن شائع کر رہا ہوں۔ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے میری 19 مئی کی گذارش پر عمل کیا ہے۔ انہوں نے ایک اہم سوال اٹھایا ہے چنانچہ اس پر تبصرہ ہونا چاہیئے۔مئی کے ڈان میں مستنصر حسین تارڑ صاحب کا جو کالم شائع ہوا ہے وہ 22 پاکستانی فلمو ں کے دفاع میں ہے ۔ مجھے ان فلموں سے تو کوئی دلچسپی نہیں ہے مگر اس کالم میں لکھا گیا ایک واقعہ قابلِ توجہ ہے ۔ تارڑ صاحب لکھتے ہیں استاد بڑے غلام علی خان اپنی تمام تر غربت اور کم مائیگی کے باوجود پاکستان کو دوسرے ممالک پر ترجیح دیتے تھے ۔ ایک واقعے نے ان کی سوچ کا دھارا بدل دیا ۔ ایک بار ان کے گھر میں چوری ہوگئی اور چور ان کی تمام جمع پونجی لے گئے ۔ استاد صاحب اپنے علاقے کے تھانے میں رپورٹ درج کروانے گئے ۔ تھانیدار نے ان سے کہا کہ میں مصروف ہوں ، آپ باہر انتظار کریں ۔ جب آپ کی باری آئے گی تو بلا لیں گے ۔ استاد صاحب باہر کڑکتی دھوپ میں دو گھنٹے بیٹھے پسینہ بہاتے رہے ۔ ان کا رنگ کچھ سیاہی مائل تھا جس کو پسینے نے دو آتشہ کر دیا تھا ۔ دو گھنٹے بعد وہ دوبارہ تھانیدار کی خدمت میں حاضر ہوئے اور شنوائی کی درخواست کی۔ تھانیدار نے پہلے انہیں دیکھا ، پھر ان کے رنگ کو ، اور پھر اپنے اسسٹنٹ کو آواز دی

” اوئے پہلے اس بھینس کے کٹے کی رپورٹ لکھ ، اس کو بڑی جلدی ہے ”

اس واقعے نے استاد صاحب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ اگلے ہی دن انہوں نے پاکستان کو خداحافظ کہ کر بھارت کے ایئرپورٹ پر لینڈ کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ متعلقہ صوبے کے گورنر نے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا اور ان کے پیر چھوئے۔ افتخار اجمل صاحب نے فرمایا ہے کہ یہاں انسانیت سے متعلق واقعات درج کریں۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے انسانیت میں گردانتے ہیں یا نہیں

زمرہ : روز و شب | ابھی تک ایک تبصرہ ہوا ہے »

ایک پہیلی

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 25 May 2005

شعیب صفدر صاحب کی پہیلی کا جواب تو یہ ہے تلا نہ تھا
یعنی جوتے کا تلا نہ تھا اور سموسہ تلا ہوا نہ تھا
ایک اور ہو جائے۔ کیا خیال ہے ؟
برہمن نہایا کیوں نہیں ؟ دھوبن پٹی کیوں ؟ یعنی دھوبن کی پٹا ئی کیوں ہوئی

زمرہ : روز و شب | 3 تبصرے »