راستہ صرف ایک
راستہ صرف ايک ہے نہ کہ تين
تخیّل ایک عجیب چیز ہے انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتا ہے ۔ پینتیس چالیس سال پہلے کا واقع ہے میں کسی کو ملنے گیا ۔ اُنہوں نے مجھے بیٹھک میں بٹھایا جس میں ٹی وی پر کسی فلم کا گانا چل رہا تھا ۔ بول تھے ۔ ” تین بتّی چار راستہ ۔ تین دیِپ اور چار دوشائیں ۔ اِک رستے پہ مِل مِل جائیں ۔ تین دیِپ والا سین بہت خوبصورت تھا ۔ میں اُسے دیکھتے دیکھتے اُس میں کھو گیا ۔ کچھ دیر بعد یوں جیسے میرے اندر روشنی کا دھماکہ ہوا اور یکدم میرے اندر ایک نئی زندگی آ گئی ۔ مجھے وہ مل گیا تھا جس کے لئے میرا ذہن کافی عرصہ سے پریشان تھا ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے مجھے وہ فلسفہ سمجھا دیا جو مجھے پہلے سمجھ نہ آیا تھا کہ آخر مسلمان تنزّل کا شکار کیوں ہیں جبکہ غیر مُسلم دن رات ترقی پر ہیں ؟
اللہ نے ہمیں ایک راستہ دِکھایا اور ہدائت کی کہ ہمارا کھانا ۔ پینا ۔ اُٹھنا ۔ بیٹھنا ۔ سونا ۔ جاگنا ۔ ملنا ۔ جُلنا ۔ لین ۔ دین ۔ غرضیکہ ہر عمل دین اِسلام کے مطابق ہونا چاہیئے ۔ ویسے تو ہم ہر نماز کی ہر رکعت میں کہتے ہیں ِاھدِنَا صِرَاطَ المُستَقِیم یعنی دِکھا ہم کو راہ سیدھی جو کہ ایک ہی ہو سکتی ہے لیکن لوگوں نے تین راستے بنا رکھے ہیں ۔
1 ۔ خانگی یا خاندانی معاملات کو ہم ایک طریقہ سے حل کرتے ہیں ۔
2 ۔ دفتر یا کاروبار کے معاملات کو ہم کسی اور نظریہ سے دیکھتے ہیں ۔
3 ۔ دین جس کو ہم نے بالکل الگ کر کے مسجد میں بند کر دیا ہے ۔
اور مسجد سے باہر صرف کسی کی موت یا نکاح پر استعمال کرتے ہیں ۔
چنانچہ مندرجہ بالا اصول کے تحت ایک شخص ایک سمت کو چلا ۔ بعد میں اُسے ایک اور کام یاد آیا ۔ چونکہ دوسرے کام کا راستہ مختلف
تھا چنانچہ وہ واپس ہوا اور دوسرے کام کو چل پڑا ۔ پھر اُسے تیسرا کام یاد آیا اور اِس کا راستہ پہلے دو کاموں سے مختلف تھا ۔ چنانچہ وہ پھر
مُڑا اور تیسرے کام کی طرف چل دیا ۔ اِس طرح وہ جس مقام سے چلا تھا اُسی کے گرد مُنڈلاتا رہا اور کوئی کام بھی صحیح طرح سے نہ کر سکا ۔
متذکّرہ آدمی کے بر عکس ایک شخص نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے سارے کام ایک ہی اصول کے تحت کرے گا چنانچہ وہ ایک ہی سمت میں آگے بڑھتا گیا ۔ ملاحظہ ہوں دونوں صورتیں علمِ ہندسہ کی مدد سے ۔
غیرمُسلموں نے دین کو چھوڑ دیا اور انسانی آسائش کو اپنی زندگی کا دستور یا آئین بناکر اپنے خانگی اور کاروباری معاملات کو صرف نفع اور نقصان کی بُنیاد پر اُستوار کیا جس کے نتیجہ میں انہوں نے مادی ترقی کر کے زندگی کی تمام آسائشیں حاصل کر لیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ساتھ ہی دین سے دور ہو جانے کے باعث اخلاقی پستیوں میں گِر گئے ۔
بے عمل مسلمان نہ دین کے رہے نہ دُنیا پا سکے ۔
ہم نے دین کے علاوہ وطن کے ساتھ بھی غلُو کیا ۔ ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں ۔ ہمارے ملک میں قومی جھنڈے کی یہ عزت ہے کہ ان سے یوم آزادی پر اپنی دکانیں اور مکان سجاتے ہیں اس کے بعد قومی جھنڈے ہمیں سڑکوں یا کوڑے کے ڈھیروں پر پڑے نظر آتے ہیں ۔ ایک عام حکم نامہ ہے کہ جب قومی ترانہ بج رہا ہو تو با ادب کھڑے ہو جائیں مگر وہی لوگ کھڑے ہوتے ہیں جو کسی وجہ سے مجبور ہوتے ہیں ۔ میں امریکہ گیا ہوا تھا تو میرا بیٹا مجھے laser شو دکھانے Stone Mountain لے گیا ۔ شو کے آخر میں امریکہ کا ترانہ بجایا گیا ۔ تمام امریکی مرد اور عورتیں اُٹھ کر با ادب کھڑے ہوگئے اور ان میں سے بہت سے ایک آواز میں ترانہ گانے لگے ۔ جب تک ترانہ بجتا رہا کوئی اپنی جگہ سے نہ ہِلا اور ترانہ ختم ہونے پر گھروں کو روانہ ہوئے ۔ کاش ہم اُن کی اچھی عادات اپناتے ۔
ہماری قوم کا حال بقول شاعر ۔
نہ خُدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
۔ ۔ ۔ جب دنیا میں آئے تم رو رہے تھے اور سب خوش ہو رہے تھے زندگی ایسے گذارو کہ جب دنیا سے جاؤ تم خوش ہو اور سب رو رہے ہوں




Feb 18 2008 بوقت 4:09 pm
میں متفق ھوں مگر ان تین راستوں کو ضم کرنا ھی تو مرحلھ عظیم ھے۔
Feb 19 2008 بوقت 2:38 pm
نینی صاحبہ
اسلام ان تینوں کو ضم کرنے ہی کا نام ہے ۔
Apr 04 2008 بوقت 1:31 pm
قومی ترانہ ۔
مسلمان دن میں پانچ بار آزان کی آواز سن کر کھڑا ہوتا ہے ۔ اس کے آگ ترانے کی حثیت کیا ہے ۔
قومی ترانے تو ویسے بھی مشرک قوموں کی ایجاد ہے ۔
Apr 04 2008 بوقت 3:40 pm
گمنام نام صاحب
لگتا ہے میں نے جو کچھ لکھا رائیگاں گیا ۔ زور قومی ترانہ پر ڈال دیا گیا ۔
Sep 10 2009 بوقت 3:13 am
http://heshamsyed.wordpress.com
اپنی رائے سے مطلع فرمائیں
Sep 10 2009 بوقت 8:41 am
حشام احمد سیّد صاحب
تشریف آوری کا شکریہ
Nov 16 2009 بوقت 4:30 am
ترانے کی بات نھیں ہونی چاہے تھی۔۔۔۔۔ ۔بات سھی ھے کھ دین مکمل ھے اس لیے ھر کام میں اسلام بتاتا ھے۔۔۔۔۔