<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: دین۔ رویّہ۔ رواج اور قانون</title>
	<atom:link href="http://www.theajmals.com/blog/%d8%af%db%8c%d9%86%db%94-%d8%b1%d9%88%db%8c%d9%91%db%81%db%94-%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.theajmals.com/blog</link>
	<description>ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی</description>
	<lastBuildDate>Thu, 09 Feb 2012 05:36:25 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3</generator>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/%d8%af%db%8c%d9%86%db%94-%d8%b1%d9%88%db%8c%d9%91%db%81%db%94-%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86/comment-page-1/#comment-21291</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Apr 2010 12:14:59 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://iftikharajmal.urdutech.com/?page_id=1032#comment-21291</guid>
		<description>جاويد اقبال صاحب
مجھے جو ميرے اساتذہ نے پڑھايا يا ميں نے خود مطالعہ کيا ميری کوشش رہی ہے کہ دوسروں تک اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ميں پہنچا دوں ۔ مسلمان ہونے کے ناطے يہ ميرا فرض ہے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>جاويد اقبال صاحب<br />
مجھے جو ميرے اساتذہ نے پڑھايا يا ميں نے خود مطالعہ کيا ميری کوشش رہی ہے کہ دوسروں تک اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ميں پہنچا دوں ۔ مسلمان ہونے کے ناطے يہ ميرا فرض ہے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: جاویداقبال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/%d8%af%db%8c%d9%86%db%94-%d8%b1%d9%88%db%8c%d9%91%db%81%db%94-%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86/comment-page-1/#comment-21287</link>
		<dc:creator>جاویداقبال</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Apr 2010 08:40:58 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://iftikharajmal.urdutech.com/?page_id=1032#comment-21287</guid>
		<description>السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
جزاک اللہ خیر۔ ماشاء اللہ بہت ہی پرمغزمضمون تحریرکیاہے۔ اس میں سمجھنےاورسوچنےکی بہت سی باتیں ہیں۔ ایسی باتیں باربارہونی چاہیں کیونکہ انسان بھول جاتاہےاوراللہ تعالی آپ کی تحریر بازوکواورترقی دے۔ آمین ثم آمین
اورمیں نےبھی اپنی کم علمی کی بدولت کےنام &lt;a href=&quot;http://javediqbal.ueuo.com/?p=15&quot; rel=&quot;nofollow&quot;&gt;مسلمان کی چتا &lt;/a&gt;سےمضمون لکھاتھاجوکہ انڈیاکےمیڈیاوارکےلیےتھاکہ ہمارےبچےکسطرح انڈیاکےدیوانےہورہےہیں۔

والسلام
جاویداقبال</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،<br />
جزاک اللہ خیر۔ ماشاء اللہ بہت ہی پرمغزمضمون تحریرکیاہے۔ اس میں سمجھنےاورسوچنےکی بہت سی باتیں ہیں۔ ایسی باتیں باربارہونی چاہیں کیونکہ انسان بھول جاتاہےاوراللہ تعالی آپ کی تحریر بازوکواورترقی دے۔ آمین ثم آمین<br />
اورمیں نےبھی اپنی کم علمی کی بدولت کےنام <a href="http://javediqbal.ueuo.com/?p=15" rel="nofollow">مسلمان کی چتا </a>سےمضمون لکھاتھاجوکہ انڈیاکےمیڈیاوارکےلیےتھاکہ ہمارےبچےکسطرح انڈیاکےدیوانےہورہےہیں۔</p>
<p>والسلام<br />
جاویداقبال</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: تنویرعالم قاسمی</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/%d8%af%db%8c%d9%86%db%94-%d8%b1%d9%88%db%8c%d9%91%db%81%db%94-%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86/comment-page-1/#comment-4223</link>
		<dc:creator>تنویرعالم قاسمی</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 10 Oct 2007 08:43:09 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://iftikharajmal.urdutech.com/?page_id=1032#comment-4223</guid>
		<description>www.inikah.com  کی پیشکش
 
         شب قدر کی عظمت اور ہماری ذمہ داریاں
     
     حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتی ہیں کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو، ایک دوسری حدیث میں حضرت ابو زر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورپر نور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا شب قدرنبی کے زمانے کے ساتھ رہتی ہے یا بعد میں بھی ہوتی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت تک رہیگی،میں نے عرض کیا رمضان کے کس حصہ میں ہوتی ہے آپ نے فرمایا کہ عشرہ اول وعشرہ آخر میں تلاش کرو،پھر میں نے عرض کیا کہ یہ تو بتادیجئے کہ عشرہ کو کون سے حصہ میں ہوتی ہے،حضور نے فرمایا کہ جس میں خفگی تھی مہینے کے آخر کی سات راتوں مین تلاش کرو،بس اس کے بعد کچھ نہ پوچھو۔
    امام ابو حنیفہ کا قول ہے کہ شب قدرتمام رمضان میں دائر رہتی ہے،قرآن کریم میں آیا ہے  انا انزلناہ فی لیلت القد“کہ بیشک ہم نے قرآن پا ک شب قدر میں اتارا ہے۔یعنے قرآن شریف کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا پراس رات میں اتارا ہے،یہ ہی بات اس رات کیلئے کافی فضیلت تھی کہ قرآن جیسی عظمت والی کتاب اس میں نازل ہوی چہ جائیکہ اس میں اور بہت سے برکات وفضائل شامل ہوگئے۔
  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے کہ شب قدر میں جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کے ایک گروہ کے ساتہ اتر تے ہیں ،اور جس شخص کو ذکر عبادت میں مشغول دیکھتے ہیں اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں 
مفسر قرآن علا مہ ابن کثیرومشقی فرماتے ہیں کہ اس کو پوشیدہ رکھنے میں حکمت یہی ہے کہ اس میں طالب،طلب وشوق سے پورے رمضان میں عبادتوں کا اہتمام کریں گے ۔
   شب قدر کے بارے میں قطعی خبر اس لئے انہیں دیگئی کہ کو ئی شخص اس رات پر ہی بھروسہ نہ کر لے،اور ایس نہ کہے کہ میں نے اس رات میں جو عمل کر لیا وہ ہزار مہینے سےبہتر ہے،چنانچہ اللہ تبارک وتعا لی نے مجھکو بخش دیا،مجھے درجہ عطا ہوا میں جنت میں داخل جاؤنگا ایسا خیال اسے سست نہ بنادے،اور وہ اللہ سے غافل نہ ہو جائے اور ایسا کرنے سے دینا وی امیدیں اس پر غلبہ پالیں گی اور وہ اسے ہلاک کردینگی  یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے لوگوں کو عمر کے بارے میں بے خبر رکھا ۔
   اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو پانچ چیزوں  سے پوشیدہ رکھا گیا ہے۔  لوگوں کی عبادت پر اللہ تعالی نے اپنی رضامندی ظاہر کرنے کو۔  گناہ پر اپنے غضب اور غصہ کے ظاہر کرنے کو،وسطی نماز کو دوسری نمازوں سے ،اپنی دولت کوعام لوگوں کی نگاہوں سے، اور رمضان کے مہینے میں شب قدر کو۔
   شب قدر کی رات بڑی قدر کی رات ہوتی ہے، بزرگ حضرات، والدین اپنے اپنے حلقے میں  نوجوان بچوں کو اور صر دنیا کی تعلیم میں مگن طالب علم بچوں کو اس رات کی اہمیت کو واضح کریں اور اس بارےمیںضروری ہدایتیں اور مشورے دیں کہ اس رات کو جاگ کر کیا کرنا ہے ،کیسے عبادت کرنا ہ کیاکیا مانگنا اورکس طرح توبہ کر کے اپنے آپ کو یقین کی حد تک کہ اپنا دل بھی عبادت اور ریاضت میں مشغول ہوجائے کہ یہ رات پھر ہم کو نصیب ہوگی کہ نہیں!
اس بارے میں ذرا غور تو کیجئے۔ 
                     تنویر عالم قاسمی
tanveeralamqasmi@yahoo.co.in
جاری کردہ:ہیڈآفس   www.inikah.com
#42,Nandi durga road, Bangalore,46-India
cell:9945631954</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://www.inikah.com" rel="nofollow">http://www.inikah.com</a>  کی پیشکش</p>
<p>         شب قدر کی عظمت اور ہماری ذمہ داریاں</p>
<p>     حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتی ہیں کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو، ایک دوسری حدیث میں حضرت ابو زر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورپر نور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا شب قدرنبی کے زمانے کے ساتھ رہتی ہے یا بعد میں بھی ہوتی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت تک رہیگی،میں نے عرض کیا رمضان کے کس حصہ میں ہوتی ہے آپ نے فرمایا کہ عشرہ اول وعشرہ آخر میں تلاش کرو،پھر میں نے عرض کیا کہ یہ تو بتادیجئے کہ عشرہ کو کون سے حصہ میں ہوتی ہے،حضور نے فرمایا کہ جس میں خفگی تھی مہینے کے آخر کی سات راتوں مین تلاش کرو،بس اس کے بعد کچھ نہ پوچھو۔<br />
    امام ابو حنیفہ کا قول ہے کہ شب قدرتمام رمضان میں دائر رہتی ہے،قرآن کریم میں آیا ہے  انا انزلناہ فی لیلت القد“کہ بیشک ہم نے قرآن پا ک شب قدر میں اتارا ہے۔یعنے قرآن شریف کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا پراس رات میں اتارا ہے،یہ ہی بات اس رات کیلئے کافی فضیلت تھی کہ قرآن جیسی عظمت والی کتاب اس میں نازل ہوی چہ جائیکہ اس میں اور بہت سے برکات وفضائل شامل ہوگئے۔<br />
  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے کہ شب قدر میں جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کے ایک گروہ کے ساتہ اتر تے ہیں ،اور جس شخص کو ذکر عبادت میں مشغول دیکھتے ہیں اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں<br />
مفسر قرآن علا مہ ابن کثیرومشقی فرماتے ہیں کہ اس کو پوشیدہ رکھنے میں حکمت یہی ہے کہ اس میں طالب،طلب وشوق سے پورے رمضان میں عبادتوں کا اہتمام کریں گے ۔<br />
   شب قدر کے بارے میں قطعی خبر اس لئے انہیں دیگئی کہ کو ئی شخص اس رات پر ہی بھروسہ نہ کر لے،اور ایس نہ کہے کہ میں نے اس رات میں جو عمل کر لیا وہ ہزار مہینے سےبہتر ہے،چنانچہ اللہ تبارک وتعا لی نے مجھکو بخش دیا،مجھے درجہ عطا ہوا میں جنت میں داخل جاؤنگا ایسا خیال اسے سست نہ بنادے،اور وہ اللہ سے غافل نہ ہو جائے اور ایسا کرنے سے دینا وی امیدیں اس پر غلبہ پالیں گی اور وہ اسے ہلاک کردینگی  یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے لوگوں کو عمر کے بارے میں بے خبر رکھا ۔<br />
   اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو پانچ چیزوں  سے پوشیدہ رکھا گیا ہے۔  لوگوں کی عبادت پر اللہ تعالی نے اپنی رضامندی ظاہر کرنے کو۔  گناہ پر اپنے غضب اور غصہ کے ظاہر کرنے کو،وسطی نماز کو دوسری نمازوں سے ،اپنی دولت کوعام لوگوں کی نگاہوں سے، اور رمضان کے مہینے میں شب قدر کو۔<br />
   شب قدر کی رات بڑی قدر کی رات ہوتی ہے، بزرگ حضرات، والدین اپنے اپنے حلقے میں  نوجوان بچوں کو اور صر دنیا کی تعلیم میں مگن طالب علم بچوں کو اس رات کی اہمیت کو واضح کریں اور اس بارےمیںضروری ہدایتیں اور مشورے دیں کہ اس رات کو جاگ کر کیا کرنا ہے ،کیسے عبادت کرنا ہ کیاکیا مانگنا اورکس طرح توبہ کر کے اپنے آپ کو یقین کی حد تک کہ اپنا دل بھی عبادت اور ریاضت میں مشغول ہوجائے کہ یہ رات پھر ہم کو نصیب ہوگی کہ نہیں!<br />
اس بارے میں ذرا غور تو کیجئے۔<br />
                     تنویر عالم قاسمی<br />
<a href="mailto:tanveeralamqasmi@yahoo.co.in">tanveeralamqasmi@yahoo.co.in</a><br />
جاری کردہ:ہیڈآفس   <a href="http://www.inikah.com" rel="nofollow">http://www.inikah.com</a><br />
#42,Nandi durga road, Bangalore,46-India<br />
cell:9945631954</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>

