2.2۔سقوطِ ڈھاکہ ۔ پروپیگنڈہ اور حقائق

دو سوال عام طور سے پوچھے جاتے ہیں
1 ۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی مشرقی پاکستان سے کس مطالبے نے جنم لیا ؟
2 ۔ شیخ مجیب کے 6 نقاط میں سے وہ نقطہ جس کی وجہ سے سقوط ڈھاکہ کا سانحہ ہوا

یہ بات بھی کی جاتی ہے کہ قائد اعظم نے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا جس نے بنگلہ دیش کی بنیاد رکھ دی جو کہ سراسر بے بنیاد الزام ہے ۔ اس سلسلہ میں معروف صحافی حامد میر نے تاریخی حقائق تحریر کیئے ہیں جو میری اس تحریر کے آخر میں من و عن نقل کر دیئے گئے ہیں

ميں نے پاکستان آرڈننس فيکٹريز ميں يکم مئی 1963ء کو ملازمت شروع کی تو جو جملہ پہلی ہی ديد پر ميرے ذہن ميں بيٹھ گيا اور آج تک ميں نہ صرف اسے بھولا نہيں بلکہ اس پر عمل بھی کيا وہ ہے ہر ڈرائينگ شيٹ کے کنارے پر انگريزی ميں لکھا يہ فقرہ
اگر شک ہو تو پوچھو [If in doubt, Ask ]

گو کہ میں تاریخ دان نہیں ہوں لیکن پاکستان کا شہری ہوں جس سے مجھے شروع دن سے محبت ہے ۔ اسی جذبہ کے تحت قیام پاکستان کے وقت ایک بچے کی حیثیت سے لے کر بوڑھا ہونے تک میں نے اس میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات پر نہ صرف نظر رکھی بلکہ ان کے اسباب کی جستجو میں رہا

يہ ايک بہت بڑا قومی سانحہ ہے جس کے متعلق بجا طور پر جواں نسل کی اکثريت جاننا چاہتی ہو گی مگر اُنہوں نے وہ ڈرائينگ شيٹس نہيں ديکھی ہوں گی جن پر لکھا تھا ” اگر شک ہو تو پوچھو” چنانچہ ميں نے اپنے مشاہدات پر مبنی صورتِ حال اپنے بلاگ پر لکھنے کا فيصلہ کيا ۔ بلاگ پر لکھنے کا دوسرا سبب يہ ہے کہ اس طرح تبصروں کی وساطت سے ممکن ہے مشاہدات کی وضاحت ہو يا ميری معلومات ميں اضافہ ہو

پہلے سوال کا جواب

جہاں تک ميرا علم اور ياد داشت کام کرتی ہے پاکستان بننے کے فوری بعد مشرقی پاکستان ميں کسی مطالبے نے جنم نہيں ليا تھا ۔ اگر ايسا ہوتا تو حسين شہيد سہروردی صاحب پاکستان کا پہلا آئين منظور ہونے کے بعد ستمبر 1956ء ميں وزيرِ اعظم نہ بنتے ۔ خيال رہے کہ حسين شہيد سہروردی صاحب اُس عوامی ليگ کے صدر تھے جس ميں شيخ مجيب الرحمٰن تھا ۔ بنگاليوں کا دشمن دراصل بنگالی بيوروکريٹ سکندر مرزا تھا جس نے کراچی کے سيٹھوں کے زيرِ اثر مشرقی پاکستان کو اس کا مالی حق دينے کی کوشش پر حسين شہيد سہروردی صاحب پر بہت دباؤ ڈالا اور اس ڈر سے کہ اُنہيں برخاست ہی نہ کر ديا جائے وہ اکتوبر 1957ء ميں مستعفی ہو گئے ۔ يہ وہ وقت ہے جب مشرقی پاکستان ميں نفرت کی بنياد رکھی گئی

اس سے قبل محمد علی بوگرہ صاحب جو بنگالی تھے 1953ء ميں وزيرِ اعظم بنے تھے اور انہيں بھی سکندر مرزا نے 1955ء ميں برخواست کيا تھا
اس سے قبل 1953ء ميں خواجہ ناظم الدين صاحب کی کابينہ کو اور 1954ء ميں پاکستان کی پہلی منتخب اسمبلی کو غلام محمد نے برخواست کر کے پاکستان کی تباہی کی بنياد رکھی تھی

حقیقت یہ ہے کہ مشرقی پاکستان ميں بنگالی بھائيوں کے دُشمن وہی تھے جو مغربی پاکستان ميں پنجابيوں ۔ سندھيوں ۔ پٹھانوں اور بلوچوں کے دشمن رہے ہيں يعنی بيوروکريٹ خواہ وہ سادہ لباس ميں ہوں يا وردی ميں

دوسرے سوال کا جواب

شيخ مجيب الرحمٰن کے 6 نقاط تھے جن میں مندرجہ ذیل 3 ناقابلِ قبول اور پاکستان توڑنے کے مترادف تھے
1 ۔ خارجہ پاليسی ميں خود مُختاری
2 ۔ دفاع ميں خود مُختاری
3 ۔ کرنسی ميں خود مُختاری

سُنا گيا تھا کہ آخری ملاقات ميں باقی 3 نقاط پر اس وقت کے صدر محمد يحیٰ خان راضی ہوگئے تھے اور مجيب الرحمٰن مندرجہ بالا 3 نقاط کو ملتوی کرنے پر راضی ہو گئے تھے ۔ اِن نقاط سے قطع نظر کرتے ہوئے ميں صرف وہ کچھ مختصر طور پر لکھوں گا جو ميرے علم ميں ميرے ذاتی ذرائع سے آيا مگر ذرائع ابلاغ ميں کم ہی آيا
مناسب ہے کہ پہلے ميں اپنے ذرائع (الف) کا ذکر کروں پھر معلومات (ب) کا جو مجھے ان ذرائع سے حاصل ہوئيں ۔ آخر ميں اِن شاء اللہ اپنا مشاہدہ اور تجزيہ پيش کروں گا

(الف) ۔ ذرائع

الف ۔ 1 ۔ کسی بنگالی سے ميرا رابطہ پہلی بار 1957ء ميں بلال مسجد ۔ باغبان پورہ لاہور ميں ہوا جہاں انجنيئرنگ کالج کے ہم کچھ طلباء ہر جمعرات کو مغرب اور عشاء کی نمازيں چند ماہ پڑھتے رہے اور ان نمازوں کے درميان تقارير بھی سُنتے تھے جو دين اسلام ۔ دين پر عمل اور دين کيلئے سفر کرنے کے تجربات پر عمدہ عِلم کا ذريعہ ہوتی تھيں
الف ۔ 2 ۔ ميرا دوسرا واسطہ 2 بنگالی بھائيوں سے 1963ء ميں پڑا جب ميں نے پاکستان آرڈننس فيکٹريز کی ملازمت اختيار کی اور ان کے ساتھ ميرے بہت دوستانہ تعلقات بن گئے
پھر 1967ء ميں 3 بنگالی مکينيکل انجينئر ہماری فيکٹری [ويپنز فيکٹری] ميں تعينات کئے گئے جنہيں ميں نے سکھانا اور تربيت دينا تھی تاکہ وہ اُس کارخانے کو چلا سکيں جو ڈھاکہ کے قريب غازی پور ميں بنايا جا رہا تھا
ميں چونکہ ايک اہم پروجيکٹ پر کام کر رہا تھا اسلئے مغربی پاکستان کے رہائشی ميرے ايک سينيئر اور کچھ جونيئر ساتھيوں کو 3 سال کيلئے مشرقی پاکستان بھيجا گيا تاکہ وہ غازی پور (ڈھاکہ) میں مجوزہ کارخانہ کو قائم کر سکيں جو اواخر 1970ء ميں مکمل ہو گيا تھا
الف ۔ 3 ۔ پاکستان پی ڈبليو ڈی ميں کام کرنے والے ميرے ايک دوست سِول انجنيئر کو 1966ء ميں 3 سال کيلئے مشرقی پاکستان بھيجا گيا جس نے ڈھاکہ کے مضافات ميں ديہاتی علاقوں کے ڈويلوپمنٹ پروجيکٹ پر کام کيا
الف ۔ 4 ۔ ميرا ايک دوست جو وفاقی وزارتِ ماليات ميں اسسٹنٹ فناشل ايڈوائزر تھا اُسے 1968ء ميں 3 سال کيلئے مشرقی پاکستان بھيجا گيا
الف ۔ 5 ۔ ميں جب 1976ء ميں لبيا گيا تو بنگلہ ديش سے ڈيپوٹيشن پر آئے ہوئے ايک بنگالی آرتھوپيڈک سرجن سے دوستی ہو گئی اور يہ دوستی 1981ء ميں اس کی بنگلہ ديش واپسی تک جاری رہی
الف ۔ 6 ۔ سرکاری عہديدار ہونے کے ناطے مختلف متعلقہ حلقوں ميں جانے سے ميرے علم ميں آنے والے ايسے حقائق جو وقتاً فوقتاً اخبار ميں شائع ہوئے
جيسا کہ ميں کہہ چکا ہوں موضوع طويل عبارت کا حامل ہے ۔ ميں اسے کوزے ميں بند کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اس سے زيادہ اختصار مضمون کا مقصد کھو دے گا

(ب) معلومات

ب ۔ 1 ۔ جن بنگالی پروفيسر صاحبان سے ميری 1957ء ميں ملاقات رہی مشرقی پاکستان کی جامعات کے پروفيسر صاحبان تھے جو لندن سے سائنس ميں پی ايچ ڈی کی اسناد يافتہ تھے ۔ يہ لوگ بہت مُشفق ۔ مُنکسر اور مُحِبِ وطن پاکستانی تھے ۔ ہم نے ان سے اچھے آداب ۔ تعليم سے لگن اور مُلک و قوم کيلئے محنت کا سبق سيکھا
ب ۔ 2 ۔ جن 2 بنگالی صاحبان کے ساتھ 1963ء میں واسطہ ہوا ۔ وہ نظریہ پاکستان یعنی پاکستان میں اسلامی فلاحی مملکت کے حامی تھے
بنگالی انجنيئر جو ميرے زيرِ تربيت رہے محبِ وطن پاکستانی تھے اور محنت سے کام سيکھتے تھے ۔ وہ 1970ء ميں واپس مشرقی پاکستان چلے گئے تھے ۔ جب مُکتی باہنی کا شور شرابا زوروں پر تھا ان ميں سے ايک پر مُکتی باہنی کی طرف سے الزام عائد کيا گيا کہ وہ غدار ہے اور اگر نہيں تو بنگلا ديش کا جھنڈا اُٹھا کر جلوس کے آگے چلے ۔ وہ شادی شدہ اور ايک چند ماہ کے بچے کا باپ تھا ۔ مُکتی باہنی کے لوگوں سے ڈر کر ايک جلوس ميں جھنڈہ اُٹھا ليا ۔ اس کی بناء پر ايک فوجی افسر نے اُسے اُس کی بيوی چند ماہ کے بچے اور فيکٹری کے افسران کے سامنے گوليوں کی بوچھاڑ سے ہلاک کروا ديا ۔ اُس کی بيوی نے فوجی افسر کے پاؤں پکڑ کر رو کر فرياد کی کہ ميرے خاوند کو نہ مارو ۔ مجبور انسان کو مت مارو ۔ مگر گولی چلانے کا حکم دے ديا گيا ۔ ديکھنے والے افسران ميں مغربی پاکستان سے گئے ہوئے سويلين افسران بھی موجود تھے وہ خاموش رہے ۔ يہ واقعہ اُنہوں نے ہی مجھے سنايا
ب ۔ 3 ۔ ميرے دوست سِول انجينئر نے بتايا کہ مشرقی پاکستان ميں ساہوکاروں کا راج تھا جن کی بھاری اکثريت ہندو تھی ۔ بھارت سے آئے ہوئے بہاری مسلمان جو مالدار تھے ہندو ساہوکاروں سے پيچھے نہ تھے ۔ مچھيرے جو ساری زندگی مچھلياں پکڑ کر ساہوکاروں کی تجورياں بھرتے تھے اُنہيں مچھلی پکڑنے کی اجازت تھی کھانے کی نہيں ۔ مچھيروں کی کشتياں ساہوکار کی ملکيت تھيں ۔ ساہوکاروں کا قرض کبھی ختم نہيں ہوتا تھا ساری عمر سود ادا کرتے بيت جاتی تھی
ڈھاکہ يونيورسٹی ميں ہندو پروفيسر کافی تھے اور بارسوخ تھے ۔ وہ جو زہر بنگالی مسلمان نوجونوں کے کانوں ميں گھولتے رہے اس نے اُنہيں اپنے ہی ملک سے متنفّر کيا ہوا تھا مگر انتظاميہ اپنی عياشيوں ميں مگن تھی ۔ اُس کے سنائے ہوئے واقعات ميں سے 2 لکھ رہا ہوں ۔ ميرے دوست نے بتايا “ميں مشرقی پاکستان پہنچنے کے بعد ڈھاکہ کے ايک ہوٹل ميں ٹھہرا تھا ۔ اگلے روز ايک درميانی عمر کا آدمی اپنے ساتھ ايک جوان لڑکی لئے ہوئے آيا اور بولا ۔ ‘صاب ۔ يہ لڑکی آپ کا سب کام کرے گی ۔ ہر قسم کا کام ۔ آپ کے پاس ہی رہے گی ۔ ميں نے اُسے ٹال ديا ۔ بات ميری سمجھ ميں آ گئی تھی ۔ ميں نے وہاں فيلڈ ايريا يعنی ديہات ميں ديکھا کہ عام عورتوں کے پاس ايک چادر جسے وہ ساڑھی کی طرح باندھ ليتيں تھيں کے علاوہ پہننے کو کوئی اور لباس نہ تھا اور نہ دھونے کيلئے صابن ۔ وہ جوہڑ يا دريا ميں گھس کر ساڑھی اُتار ديتيں اور پانی ميں مَل کر پھر وہی گيلی ساڑھی زيبِ تن کر کے باہر نکل آتيں”۔
ب ۔ 4 ۔ ميرے دوست نائب مشرِ ماليات جو 1968ء ميں مشرقی پاکستان گئے تھے 3 سال بعد وسط 1971ء ميں واپس آئے ۔ اُنہوں نے بتايا “مشرقی پاکستان ميں سير اور اپنی اصلاح کی غرض سے تبليغ والوں کے ساتھ جانا شروع کيا اور بہت علاقوں کے متعلق معلومات حاصل ہوئيں ۔ ” ايک گھنٹہ سے زيادہ متواتر بولتے ہوئے جو کچھ اُنہوں نے بتايا تھااُس کا خلاصہ يہ ہے

ڈھاکہ يونيورسٹی ميں کچھ ہندو پروفيسر تو 1947ء سے ہی موجود تھے مگر 1965ء کے بعد مزيد ہندو نمعلوم کہاں سے آتے رہے اور پروفيسر تعينات ہوتے رہے ۔ يہ لوگ ناپُختہ ذہن طلباء ميں بنگالی قوميت جگاتے اور مغربی پاکستان کے خلاف رائے ہموار کرتے ۔ شيرِ بنگال ٹيپو سلطان کی جگہ رابندر ناتھ ٹيگور کی مداح سرائی کرتے اور علامہ اقبال کی جگہ ايک شاعر کی حُبُ البنگلہ کو اُجاگر کرتے ہوئے بنگالی قوميت اُبھاری جاتی تھی ۔ 1970ء کے شروع سے ہی محبِ وطن بنگالی مسلمانوں نے آواز اُٹھانا شروع کی کہ ڈھاکہ يونيورسٹی ميں اسلحہ اکٹھا کيا جا رہا ہے ۔ وہ 1971ء کے شروع ميں خود کچھ طلباء کے ساتھ ڈھاکہ يونيورسٹی ہوسٹل گئے جہاں کے رہائشی طلباء نے بڑے وثوق سے کہا کہ “فلاں فلاں کمروں ميں بہت اسلحہ اکٹھا کيا جا رہا ہے ۔ اُن کی شکائت پر يونيورسٹی انتطاميہ نے کچھ نہيں کيا ۔ ايسا کيوں ہو رہا ہے ؟ اُن کی سمجھ ميں نہيں آرہا تھا ۔ ڈھاکہ کی انتظاميہ اور حکومت مشرقی پاکستان بھی اس کی طرف کوئی توجہ نہيں دے رہی تھی”۔
مشرقی پاکستان کی بھارت کے ساتھ سرحد جنگلوں ۔ نديوں اور دلدلوں کی زمين ہے جہاں سے سرحد پار کرنے والے کو روکنا ناممکن ہے ۔ 1966ء سے بھارت نے تربيت يافتہ جنگجو خُفيہ طور پر مشرقی پاکستان ميں داخل کرنا شروع کر ديئے تھے جسے مُکتی باہنی کا نام ديا گیا مشرقی پاکستان کے مسلمان بہت کم تھے

ان صاحب نے کئی چشم ديد واقعات سنائے جن ميں سے ايک يہ ہے ۔ جب وہ سلہٹ ميں تھے تو فوجی ايک آدمی کی تلاش ميں وہاں پہنچے جس کا اُنہيں صرف نام معلوم تھا چنانچہ وہ اس نام کے ايک جوان کو گرفتار کرنے اُس کے گھر پہنچ گئے ۔ محلہ والوں نے لاکھ سمجھايا کہ يہ جوان تو شريف اور محنتی ہے ۔ گھر سے باہر کبھی نہيں رہا تو دوسرے شہر جا کے اس نے کيسے کاروائی کی ؟ مگر فوجی نہ مانے اور اُسے پکڑ کر لے گئے جس کے بعد اُس کا سراغ نہ ملا ۔ بعد ميں انہی ميں سے ايک فوجی نے آ کر دُکھ کا اظہار کيا کہ اُن سے غلطی ہوئی مگر کمانڈر کا حُکم تھا ہم مجبور تھے

ب ۔ 5 ۔ ميں 1976ء ميں لبيا گيا تھا ۔ وہاں اپنے دوست بنگالی ڈاکٹر سے استفسار کرتا رہتا تھا ۔ اُس نے جو واقعات مجھے کئی ملاقاتوں کے دوران سنائے اُن سے اُوپر ب ۔ 3 کے تحت بيان کی گئی باتوں کی تصديق ہوئی مزيد کا خلاصہ يہ ہے
ہندو ساہوکار وں اور ڈھاکہ يونيورسٹی کے پروفيسروں نے پاکستان بننے کے بعد بھارت کو ہجرت نہ کی بعد ميں ہندو پروفيسروں کی تعداد ميں اضافہ ہوتا رہا
پھر 1969ء ميں خبر عام ہوئی کہ کچھ سالوں سے مشرقی پاکستان ميں بہت سے ايسے لوگ آ کر رہائش پذير ہو رہے ہيں جو کہ بنگالی بولتے ہيں مگر وہ مشرقی پاکستان کے رہنے والے نہيں ہيں ۔ يہ باتيں زبان زدِ عام تھيں اور عوام پريشان تھے مگر انتظاميہ ان سے قطع نظر اپنے آپ ميں مگھن تھی
مُکتی باہنی کے لوگ جن ميں مشرقی پاکستان کے لوگ بہت کم تھے بنگالی قوميت اُبھارتے ۔ مغربی پاکستان کے خلاف پنجابی کہہ کر پروپيگنڈا کرتے اور اس سلسلہ ميں اشتہار لگاتے اور بانٹتے تھے جن ميں10 بے بنياد دعوے تھے ۔ اس وقت مجھے ان دعوں ميں سے يہ ياد ہيں
1 ۔ افسر سب پنجابی ہيں جن کا مغربی پاکستان سے تعلق ہے
2 ۔ چاول سارا بنگال ميں پيدا ہوتا ہے اور اس ميں سے آدھا مغربی پاکستان کو بھيج ديا جاتا ہے جس کے بدلے وہاں سے کچھ نہيں آتا
3 ۔ پاکستان کا سارا زرِ مبادلہ صرف پٹ سن کی برآمد سے حاصل کيا جاتا ہے اور اسے مغربی پاکستان کی ترقی پر خرچ کيا جاتا ہے
4 ۔ مغربی پاکستان والے بنگاليوں کو اچھوت سمجھتے ہيں

مجيب الرحمٰن نے اس پروپيگنڈے سے اور ديہات کے غريب عوام کو دھمکياں دے کر ہی اليکشن جيتا تھا۔ اگر اليکشن سے قبل انتظاميہ اپنا فرض ادا کرتی تو مجيب الرحمٰن مشرقی پاکستان ميں اکثريت حاصل نہيں کر سکتا تھا

يہاں ميں يہ حقيقت بيان کر دوں کہ ايوب خان کی حکومت نے شروع ہی ميں يہ قانون بنايا تھا کہ
1 ۔ جو مغربی پاکستان کا رہنے والا مشرقی پاکستان ميں ملازمت کرے گا يا مشرقی پاکستان کا رہنے والا مغربی پاکستان ميں ملازمت کرے گا اُسے ماہانہ الاؤنس ديا جائے گا جو خاصہ تھا 20 يا 30 فيصد ۔ اس کے علاوہ ہر 3 سال کی ملازمت کے بعد ايک ماہ کی چھُٹی اور پورے خاندان کا ہوائی جہاز اور ريل کے سفر کا کرايہ ديا جائے گا
2 ۔ اسی طرح جو مغربی پاکستان کا رہنے والا مشرقی پاکستان کی لڑکی سے شادی کرے گا يا مشرقی پاکستان کا رہنے والا مغربی پاکستان کی لڑکی سے شادی کرے گا اُسے سپيشل الاؤنس ديا جائے گا
3 ۔ مشرقی پاکستان کے ايل ايس ايم ايف ڈاکٹر کو فوج ميں اُسی طرح بھرتی کيا جائے گا جس طرح مغربی پاکستان کے ايم بی بی ايس ڈاکٹر کو بھرتی کيا جاتا ہے

1970ء ميں يہ خبر پھيل گئی تھی کہ ڈھاکہ يونيورسٹی ميں مکتی باہنی کے نام کی ايک خفيہ جماعت قائم ہو چکی ہے اور يونيورسٹی کے فلاں ہوسٹل ميں اسلحہ اکٹھا کيا جا رہا ہے مگر نہ يونيورسٹی کی انتظاميہ نے اور نہ مشرقی پاکستان کی انتظاميہ نے اس پر کوئی توجہ دی ۔ اس کے نتيجہ ميں مختلف يونيورسٹيوں اور کالجوں کے محبِ وطن طلباء نے شمس اور بدر کے نام سے دو جماعتيں مُکتی باہنی کا مقابلہ کرنے کيلئے بنائيں ۔ 1971ء ميں جب مُکتی باہنی نے دھونس دھاندلی اور محبِ وطن بنگاليوں کا قتل شروع کيا تو شمس اور بدر کے جوانوں نے مُکتی باہنی کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پيش کيا جس کے نتيجہ ميں طلباء کے ساتھ دوسرے محبِ وطن بنگالی جوان بھی شامل ہونا شروع ہوئے ۔ جب فوجی کاروائی شروع ہوئی تو بجائے اس کے کہ شمس و بدر سے مدد لی جاتی يا اُن کی حوصلہ افزائی کی جاتی اُن کے ساتھ بھی وہی سلوک کيا گيا جو مُکتی باہنی کے ساتھ ہونا چاہيئے تھا

لبيا ميں ميرے ايک پاکستانی ساتھی کو بھارتی ہندو ڈاکٹر نے ايک وڈيو دی تھی ۔ اس ميں دکھايا گيا تھا کہ ڈھاکہ ميں دوسری منزل کے ايک کمرے ميں خون آلود لاشيں پڑی ہيں اور خون بہتا ہوا سيڑھيوں سے نيچے تک چلا گيا ہے مگر لاشيں گرانے والے جو وہاں سے نکل رہے تھے اُن کے چہرے نہيں دکھائے گئے تھے ۔ ميں نے بنگالی دوست سے اس کا ذکر کيا تو اُس نے کہا “جس علاقے ميں کُشت و خون ہوا وہاں مجيب الرحمٰن کے مخالف لوگ رہتے تھے اور اس علاقہ ميں مکتی باہنی والوں نے قتلِ عام کيا تھا ۔ ايسی وڈيوز ميں دراصل محبِ وطن بنگاليوں کی لاشيں دکھا کر اُنہی کے خلاف پروپيگنڈا کيا گيا تھا

ميں نے پوچھا کہ انتظاميہ اور فوج کيا کر رہے تھے ؟ تو جواب ملا کہ انتظاميہ تو لگتا تھا کہ بزدل تھی اور فوجی اندھا دھند کاروائی کرتے تھے ۔ مجرم تو کاروائی کر کے بھاگ جاتے تھے اور بے قصور ہلاک ہوتے تھے جس سے عوام ميں بھی فوج کے خلاف بد دلی پيدا ہوئی

مجيب الرحمٰن کے بنگلہ ديش بنانے کے بعد بھی بنگاليوں کی اکثريت کی خواہش تھی کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہی رہيں جس کا ثبوت وہ قرار داد ہے جو لاکھوں بنگاليوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو بھيجی تھی کہ بنگلہ ديش کو منظور نہ کيا جائے

ب ۔ 6 ۔ حمودالرحمٰن کميشن بنايا گيا جس نے اپنی رپورٹ براہِ راست ذوالفقار علی بھٹو کو دينا تھی ۔ رپورٹ دی گئی ۔ اس کا کچھ حصہ ذوالفقار علی بھٹو نے جلا ديا اور باقی رپورٹ بھی بغير کسی اور کے ديکھے غائب ہو گئی

سقوطِ ڈھاکہ کے وقت جو صاحب وہاں کمشنر تھے ۔ بھارت کی قيد سے رہائی پانے کے بعد جب وہ بقيہ پاکستان ميں پہنچے تو اُنہوں نے ايک کتاب سانحہ مشرقی پاکستان اور اس کی وجوہات پر لکھی ۔ شائع کرنے کی اجازت کيلئے اس کتاب کا مسؤدہ اُنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو ديا ۔ جو اُنہيں نہ واپس ملا اور نہ پتہ چلا کہ وہ کہاں گيا

دسمبر 1971ء کے آخری دنوں ميں ايک اعلٰی سرکاری عہديدار سے معلوم ہوا کہ 16 دسمبر 1971ء کو سکوتِ ڈھاکہ سے 2 دن قبل جنرل امير عبداللہ خان نیازی بار بار ٹيليفون کرتے رہے کہ اُس کی جنرل يحیٰ خان سے بات کرائی جائے مگر يحیٰ خان کا ٹيليفون ايک عورت اُٹھاتی جس کا لہجہ پاکستانی نہيں تھا وہ انگريزی ميں کہتی کہ يحیٰ خان کوئی کال لينا نہيں چاہتے
ميں دسمبر 1971ء کے شروع ميں ايک اہم قومی کام کے سلسلہ ميں پروازيں بند ہونے کے باعث ٹرين پر راولپنڈی سے کراچی روانہ ہوا ۔ ٹرين ڈھائی دن بعد کراچی پہنچی ۔ ميرا قيام فوج کے ٹرانزٹ کيمپ ميں رہا جہاں فوجی افسران کے ساتھ تبادلہ خيال ہوتا رہا ۔ اپنی 15 دسمبر کو واپسی سے قبل مگر 12 دسمبر کے بعد ميں نے ٹرانزٹ کيمپ کراچی ميں بھی فوجی افسران کو پريشانی سے ايک دوسرے سے استفسار کرتے سُنا تھا کہ “چيف کہاں ہے ؟”

جيسا کہ اوپر ب ۔ 5 ميں ذکر ہے لاکھوں محبِ وطن بنگاليوں کے دستخطوں سے قراداد بذريعہ برطانيہ پاکستان ميں ذوالفقار علی بھٹو کو بنگلہ ديش نامنظور کرنے کيلئے بھيجی گئی تھی ۔ يہ قراداد ملنے کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور ميں پيپلز پارٹی کے ايک بہت بڑے جلسے کا اہتمام کيا ۔ جلسہ شروع ہونے سے پہلے ہی پيپلز پارٹی کے کارکنوں ميں يہ خبر پھيل گئی کہ بنگلہ ديش منظور کيا جائے گا ۔ پيپلز پارٹی کی اکثريت کو يہ منظور نہ تھا ۔ بھٹو صاحب جلسہ گاہ ميں پہنچ گئے مگر حاضريںِ جلسہ نے اُنہيں تقرير نہ کرنے دی ۔ احتجاج ہوتا رہا ۔ 45 منٹ سے زائد کوشش کرنے کے باوجود بھٹو صاحب تقرير نہ کر سکے

اس کے بعد اسلامک کانفرنس کے اجلاس کا پاکستان ميں اہتمام کر کے بھٹو صاحب نے اس ميں بنگلا ديش منظور کرا ليا

مشاہدہ

1970ء کے اليکشن ميں ذولفقار علی بھٹو کی پيپلز پارٹی اکثريت حاصل نہيں کر سکی تھی اور اس نے مغربی پاکستان ميں سادہ اکثريت حاصل کی تھی جو مغربی پاکستان کے کُل ووٹوں کے 33 فيصد کی حامل تھی اور مغربی پاکستان کی بقيہ 67 فيصد ووٹ لينے والی آدھی درجن جماعتوں کا اتحاد ٹوٹنے کا نتيجہ تھيں

مجيب الرحمٰن کی عوامی ليگ جو مشرقی پاکستان بھاری اکثريت سے جيتی تھی نے قومی سطح پر بھی اکثريت حاصل کر لی تھی اسلئے قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس مشرقی پاکستان ميں بُلايا گيا تھا مگر ذوالفقار علی بھٹو نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور جلسہ عام ميں کہا تھا کہ “جو مشرقی پاکستان اسمبلی کے اجلاس ميں شريک ہونے کيلئے جائے گا ہم اُس کی ٹانگيں توڑ ديں گے”۔ اور مزيد کہا تھا “اُدھر تم اور ادھر ہم”۔

جب يحیٰ خان تنازعہ کے حل کيلئے مشرقی پاکستان ميں مجيب الرحمٰن سے بات چيت کر کے واپس آ رہے تھے تو ڈھاکہ ايئر پورٹ پر اُنہوں نے واضح الفاظ ميں کہا تھا کہ
”ميں مجيب الرحمٰن کو حکومت بنانے کی دعوت دوں گا“۔

مغربی پاکستان پہنچنے پر يحیٰ خان ذوالفقار علی بھٹو سے ملے ۔ اس کے بعد مشرقی پاکستان ميں فوجی کاروائی شروع ہو گئی جو ناقابلِ فہم تھی

ميں دسمبر 1971ء ميں کراچی ٹرانزٹ کیمپ میں قیام کے دوران ميرے پاس ايک اچھی قسم کا ٹرانسسٹر ريڈيو ساتھ تھا جس پر ميں صبح 6 بجے سے رات 12 بجے تک خبريں سُنتا رہتا تھا ۔ اعلان ہوا کہ 12 دسمبر کو صدرِ پاکستان محمد يحیٰ خان قوم سے خطاب کريں گے ۔ نہ صدر کی تقرير نشر ہوئی اور نہ کسی نے تقرير نشر نہ کرنے کے متعلق کوئی اعلان کيا مگر ڈھاکہ پر 16 دسمبر کو بھارت کا قبضہ ہونے کے بعد صدر يحیٰ خان کی ايک تقرير نشر کی گئی جو حالات سے کوئی مطابقت نہ رکھتی تھی ۔ اس ميں يہ بھی کہا گيا تھا کہ ”پاکستان کے دفاع کيلئے ہم خون کا آخری قطرہ تک بہا ديں گے“۔ اگر اس تقرير کو 16 دسمبر سے قبل يا يوں کہيئے کہ جيسا کہ اعلان ہوا تھا 12 دسمبر کو ہی نشر کيا جاتا تو يہ تقرير وقت کے مطابق نہائت موزوں ہوتی

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے نمائندہ کے طور پر اقوامِ متحدہ ميں جنگ بند کروانے کيلئے گئے مگر زکام کا بہانہ کر کے ہوٹل ميں پڑے رہے
اقوامِ متحدہ ميں شايد پولينڈ نے ايک قراداد پيش کی تھی جو پاکستان کے حق ميں تھی ۔ ذوالفقار علی بھٹو اجلاس ميں گئے بھی تو اداکاری کرتے ہوئے ايسے ہی کوئی کاغذ پھاڑ کر يہ تاءثر ديا کہ اُنہوں نے قرارداد پھاڑ دی ہے اور غصہ دکھاتے ہوئے اجلاس سے باہر نکل گئے ۔ اگر وہ قرارداد منظور ہو جاتی تو بھارت کو مشرقی پاکستان سے اپنی فوجیں نکالنا پڑتیں

يہاں ذکر کرنا بيجا نہ ہو گا کہ کچھ سالوں سے وطنِ عزيز ميں بڑے ماہرانہ انداز ميں ڈھاکہ يونيورسٹی کے طلباء سے خطاب کے حوالے سے ايک غلط واقعہ پھيلايا جا رہا ہے جو کہ کبھی ہوا ہی نہيں کہ “مشرقی پاکستان کی عليحدگی کا عمل تو اُس وقت شروع ہو گيا تھا جب محمد علی جناح نے بنگاليوں پر اُردو زبان تھوپ دی تھی”۔

يہ يقينی طور پر پاکستانيوں کو گمراہ کرنے کی معاندانہ کوشش ہے ۔ حقيقت يہ ہے کہ پاکستان بننے سے قبل ہی بنگال سے چوٹی کے 3 رہنما قائد اعظم کے پاس بمبئی ميں پہنچے اور اُن سے درخواست کی کہ وفاق کو مضبوط رکھنے کيلئے يہ ضروری ہے کہ اُردو کو قومی زبان بنايا جائے کيونکہ يہی ايک زبان ہے جسے مسلمانانِ ہند کے مجوّزہ وطن کے تمام علاقوں ميں سمجھا جاتا ہے ۔ ميں اس وقت متعلقہ دستاويزات پيش نہيں کر سکتا ۔ اتنا ضرور کہوں گا کہ اس سلسلہ ميں مولانا محمد علی جوہر کا ايک مضمون بھی ہے جو 1970ء کی دہائی اور 1980ء کی دہائی ميں بھی اُردو کے تعليمی نصاب کا حصہ تھا ۔

تجزيہ

گرچہ بُت ہيں جماعت کی آستينوں ميں
مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ الاللہ

ذوالفقار علی بھٹو صاحب کا کہنا “جو مشرقی پاکستان اسمبلی کے اجلاس ميں شريک ہونے کيلئے جائے گا اُس کی ہم ٹانگيں توڑ ديں گے” اور “اُدھر تم اور ادھر ہم”۔ کيا ہر قيمت پر بادشاہ بننے کی خواہش نہ تھی ؟
يحیٰ خان شرابی اور زانی تھا ايک الگ بات ہے ليکن اُسے جاننے والوں اور 2 بار ميرا اُن سے سرکاری طور پر واسطہ پڑا کے مطابق وہ بھولنے والا شخص نہيں تھا اور بات کا پکّا تھا ۔ جب اس نے اعلان کر ديا تھا کہ “ميں مجيب الرحمٰن کو حکومت بنانے کی دعوت دوں گا” تو پھر اپنا قول نبھانے کی بجائے مشرقی پاکستان ميں فوجی کاروائی کيوں کی ؟ اس کا جواب صرف مجبوری ہی ہو سکتا ہے

ذوالفقار علی بھٹو کی اتنی زيادہ بات کيوں مانی گئی ؟ ظاہر ہے کہ اُس کے پيچھے کوئی ايسی طاقت تھی جس نے يحیٰ خان جيسے آدمی کو قابو کيا ہوا تھا ۔ آخر وہ کون تھا يا تھے؟

12 دسمبر کے بعد صدرِ پاکستان اور افواجِ پاکستان کے کمانڈر اِن چيف يحیٰ خان کہاں تھے ؟ خيال رہے چيف آف آرمی سٹاف کے ماتحت صرف آرمی ہوتی ہے جبکہ کمانڈر اِن چِيف کے ماتحت تمام افواجِ پاکستان ہوا کرتی تھيں
جيسا کہ ب ۔ 6 سے بھی اخذ کيا جا سکتا ہے واضح طور پر يحیٰ خان 12 دسمبر 1971ء سے صدر نہيں رہے تھے
يحیٰ خان کو 12 دسمبر کو گرفتار کر ليا گيا تھا ۔ گرفتار کرنے والے 6 سِنيئر جرنيل تھے [4 آرمی کے اور 2 ايئر فورس کے] ۔ يہ سب مرزائی تھے ۔

ذوالفقار علی بھٹو کو اقوامِ متحدہ کے اجلاس کيلئے صدر يحیٰ خان نے نہيں بلکہ ان قابض جرنيلوں نے بھيجا تھا
بھٹو صاحب امريکا پہنچ کر زکام کے بہانے ہوٹل ميں اسلئے پڑے رہے کہ ڈھاکہ پر بھارت کا قبضہ ہو جانے تک اقوامِ متحدہ کی کاروائی نہ ہو سکے ۔ بعد ميں جب اجلاس ميں قرارداد پيش کی گئی جس کی ايک شق يہ تھی کہ فوجيں اپنی حدود ميں جائيں پھر بنگلہ ديش کا حل تلاش کيا جائے تو بھٹو صاحب گرمی دکھا کر اجلاس سے باہر نکل آئے تاکہ بنگلہ ديش کا معاملہ پکا ہو جائے اور اُن کو آدھے پاکستان کی بادشاہی مل سکے

انہی جرنيلوں نے بعد ميں ذوالفقار علی بھٹو [ايک سوِلين] کو ملک کا چيف مارشل لاء ايڈمنسٹريٹر بنايا جو کسی قانون کے مطابق جائز نہ تھا

اگر بھٹو سانحہ مشرقی پاکستان ميں ملوّث نہيں تھے تو حمود الرحمٰن کميشن رپورٹ اور کمشنر ڈھاکہ کی کتاب کا مسؤدہ کيوں ضائع کئے ؟

سانحہ مشرقی پاکستان کا آخر کوئی تو ذمہ دار تھا ۔ ذمہ دار فوجی يا سويلين کے خلاف کاروائی کيوں نہ کی گئی ؟

ميرے متذکرہ بنگالی دوست آرتھوپيڈک سرجن تھے اور 1971ء ميں پاکستان آرمی ميں ميجر تھے اور جنوری 1972ء سے بنگلہ ديش آرمی ميں ۔ ميرے اس بنگالی دوست نے مجھے 1978ء ميں کہا تھا “مشرقی پاکستان کو بنگلہ ديش بنانے کی سازش ميں 3 ليڈر شريک تھے ۔ ايک کو اُس کے گارڈ نے ہلاک کر ديا [اندرا گاندھی] ۔ دوسرے کو اُس کی فوج کے ميجر نے ہلاک کر ديا [شيخ مجيب الرحمٰن] اور تيسرے کا حال اِن شاء اللہ ان سے بھی بُرا ہو گا”
ميں نے پوچھا “تيسرا کون ہے ؟”
جواب ملا “ذوالفقار علی بھٹو”۔
آج ميں سوچتا ہوں کہ بنگالی ڈاکٹر نے درست پيشين گوئی کی تھی

ذرا غور فرمايئے
ذوالفقار علی بھٹو کو بطور قاتل پھانسی ہوئی
چھوٹا بيٹا اچانک کيسے مر گيا آج تک واضح نہيں ہوا
بڑے بيٹے کو اس کے اپنے بہنوئی اور ذوالفقار علی بھٹو کے داماد نے ہلاک کروا ديا
بڑی بيٹی کو اس کے خاوند [ذوالفقار علی بھٹو کے داماد] کی ملی بھگت سے ہلاک کر ديا گيا
بیوی کو سونے کيلئے ٹيکے سالہا سال لگائے جاتے رہے بالآخر وہ اس دنيا کو چھوڑ کر سُکھی ہوئی
چھوٹی بيٹی باپ کی جائيداد سے محروم پرديس ميں بيٹھی بمشکل اپنے اور اپنے بچوں کے اخراجات پورے کر رہی ہے
پوتی اور پوتا دادا کی ہر قسم کی وراثت سے محروم خوف ميں زندگی بسر کر رہے ہيں

اصل اعداد شمار اور پروپیگنڈا

سانحہ مشرقی پاکستان 1971ء کے متعلق جو اعداد و شمار اور واقعات ذرائع ابلاغ کے ذریعہ پھیلائے گئے ہیں وہ اتنے غلط ہیں کہ جتنا زیادہ کوئی جھوٹ بول سکے ۔ درست اعداد و شمار قارئین تک پہنچانے کیلئے میں اپنے ذہن کو مجتمع کرنے کی تگ و دو میں تھا کہ ایسے ایسے مضامین نظر سے گذرے اور ٹی وی پروگرام و مذاکرے دیکھنے کو ملے کہ ذہن پریشان ہو کر رہ گیا

ہمارا ملک پاکستان معرضِ وجود میں آنے کے بعد صرف ایک نسل گذرنے پر صورتِ حال کچھ ایسی ہونا شروع ہوئی کہ میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ ”کیا آزادی اس قوم کو راس نہیں آئی جو ہر دم اور ہر طور اس سلطنتِ خدا داد کے بخیئے اُدھیڑنے کے در پئے رہتی ہے“۔ اب تو حال یہاں تک پہنچا ہے کہ بھارت کو بہترین دوست اور شیخ مجیب الرحمٰن کو محبِ پاکستان ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے

مارچ سے دسمبر 1971ء تک مشرقی پاکستان میں جو ہلاکتیں ہوئیں اور ان کے اسباب کے متعلق غلط اور انتہائی مبالغہ آمیز اعداد و شمار زبان زد عام رہے ہیں ۔ پچھلی 4 دہائیوں میں غیر جانب دار لوگوں کی تحریر کردہ کُتب اور دستاویزات سامنے آ چکی ہیں ۔ جن کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے

شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کے حواریوں کا پروپیگنڈہ تھا کہ فوج نے 30 لاکھ بنگالیوں کو ہلاک کیا ۔ فوجی کاروائی ڈھاکہ اور اس کے گرد و نواح میں 26 مارچ 1971ء کو شروع ہوئی اور 16 دسمبر 1971ء کو پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈال دیئے ۔ چنانچہ یہ ہلاکتیں 265 دنوں میں ہوئیں ۔ اس طرح ہر ماہ 339630 یا ہر روز 11321 بنگالی ہلاک کئے گئے ۔ ایک سرسری نظر ہی اس استلال کو انتہائی مبالغہ آمیز یا جھوٹ قرار دینے کیلئے کافی ہے

حمود الرحمٰن کمیشن کو فوج کے نمائندہ نے بتایا تھا کہ فوجی کاروائی کے دوران 26000 بنگالی ہلاک ہوئے لیکن کمیشن نے اس تعداد کو بہت مبالغہ آمیز قرار دیا تھا

شرمیلا بوس نے اپنی کتاب میں لکھا

“The three million deaths figure is so gross as to be absurd … [it] appears nothing more than a gigantic rumour. The need for ‘millions’ dead appears to have become part of a morbid competition with six million Jews to obtain the attention and sympathy of the international community.”

(ترجمہ ۔ تین ملین کا ہندسہ اتنا بھاری ہے کہ سرِ دست لغو لگتا ہے ۔ ۔ ۔ یہ ایک قوی ہیکل افواہ سے زیادہ کچھ نہیں ۔ ملینز کی تعداد چھ ملین یہودیوں کے ہمعصر ہونے کی ایک بھونڈی کوشش لگتی ہے تاکہ بین الاقوامی توجہ اور ہمدردی حاصل کی جا سکے)

مشرقی پاکستان میں موجود مغربی پاکستان کے لوگوں میں پنجابی ۔ پٹھان ۔ کشمیری ۔ سندھی ۔ بلوچ اور اُردو بولنے والے شامل تھے ۔ ان میں سرکاری محکموں ۔ سکولوں ۔ کالجوں ۔ بنکوں اور دیگر اداروں کے ملازم ۔ تاجر ۔ کارخانہ دار اور مزدور شامل تھے ۔ ان کارخانہ داروں میں سہگل ۔ آدم جی ۔ بھوانی اور اصفہانی قابلِ ذکر ہیں ۔ بھارت کی تشکیل کردہ اور پروردہ مُکتی باہنی والے مشرقی پاکستان میں موجود مغربی پاکستان کے تمام لوگوں کو پنجابی کہتے تھے اور یہی تخلص زبان زدِ عام ہوا

جونہی فوجی کاروائی شروع ہوئی مُکتی باہنی اور اس کے حواریوں نے غیر بنگالیوں کی املاک کی لوٹ مار اور نہتے بوڑھوں عورتوں اور بچوں کے ساتھ زیاتی اور قتلِ عام شروع کر دیا ۔ عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں مغربی پاکستان کے ذرائع یا اس سے بے خبر تھے یا بیہوش پڑے تھے

یہ حقیقت بھی بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کے نائبین پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ جمعہ 26 مارچ 1971ء کی صبح منظم مسلح بغاوت شروع کر دی جائے گی ۔ اس تیاری کیلئے بہت پہلے سے ڈھاکہ یونیورسٹی کو مکتی باہنی کا تربیتی مرکز بنایا جا چکا تھا

فوجی کاروائی 26 مارچ کو شروع ہوئی تھی ۔ مکتی باہنی نے یکم سے 25 مارچ تک ہزاروں مغربی پاکستان سے گئے ہوئے لوگ ہلاک کئے ۔ مُکتی باہنی کے ہاتھوں قتل و غارت کے غیر ملکی ذرائع کے شائع کردہ محتاط اعداد و شمار بھی رونگٹے کھڑے کر دیتے ہیں

بین الاقوامی ذرائع کے مطابق 200000 تک مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
امریکی کونسل کے مطابق 66000 مغربی پاکستانی ڈھاکہ اور گرد و نواح میں ہلاک کئے گئے
خود بنگالی ذرائع نے ڈھاکہ اور گرد و نواح میں 30000 سے 40000 مغربی پاکستانی ہلاک ہونے کا اعتراف کیا تھا
شروع مارچ 1971ء میں صرف بوگرہ میں 15000 مغربی پاکستانیوں کو ہلاک کیا گیا
وسط مارچ کے بعد چٹاگانگ میں 10000 سے 12000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
جیسور میں 29 اور 30 مارچ کو 5000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
دیناج پور میں 28 مارچ سے یکم اپریل تک 5000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
میمن سنگھ میں 17 اپریل سے 20 اپریل تک 5000 کے قریب مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے

اس کے بعد مکتی باہنی نے قتل و غارتگری کا بازار پوری شدت کے ساتھ گرم کیا ۔ اس طرح کہ اعداد و شمار بتانے والا بھی کوئی نہ رہا

پاکستان کے فوجیوں کی تعداد جو زبان زدِ عام ہے صریح افواہ کے سوا کچھ نہیں ۔ جن 93000 قیدیوں کا ذکر کیا جاتا ہے ان میں فوجیوں کے علاوہ پولیس ۔ سویلین سرکاری و غیر سرکاری ملازمین ۔ تاجر ۔ عام مزدور ۔ دکاندار وغیرہ اور ان سب کے خاندان عورتوں اور بچوں سمیت شامل تھے ۔ ان قیدیوں میں درجنوں میرے ساتھی یعنی پاکستان آرڈننس فیکٹریز واہ کینٹ کے سویلین ملازمین اور ان کے اہلَ خانہ بھی تھے جنہیں 6 ماہ سے 3 سال کیلئے پاکستان آرڈننس فیکٹری غازی پور (ڈھاکہ) میں مشینیں سَیٹ کرنے اور مقامی لوگوں کی تربیت کیلئے بھیجا گیا تھا

مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کی تعداد 20000 تھی جن میں پولیس ۔ میڈیکل اور دوسری نہ لڑنے والی نفری ملا کر کل تعداد 34000 بنتی تھی ۔ یہ پاکستانی فوج 9 ماہ سے مکتی باہنی کے 100000 جنگجوؤں سے گوریلا جنگ لڑتے لڑتے بے حال ہو چکی تھی ۔ ایسے وقت میں بھارت کی ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس 3 ڈویژن تازہ دم فوج سے مقابلہ کرنا پڑا ۔ پاکستانی فوج کی ہلاکتیں 4000 کے قریب ہوئیں ۔ بقول بھارتی لیفٹننٹ جنرل جے ایف آر جیکب بھارتی فوج کی ہلاکتیں 1477 اور زخمی 4000 ہوئے تھے

شیخ مجیب الرحمٰن کو اس کے خاندان سمیت 15 اگست 1975ء کو ہلاک کر دیا گیا ۔ ہلاک کرنے والے بنگلا دیش ہی کے فوجی تھے جو نہ پنجابی تھے نہ بہاری ۔ صرف ایک بیٹی حسینہ بچی جو ملک سے باہر تھی

مشرقی پاکستان شیخ مجیب الرحمٰن اور بھارت کی تیار کردہ مکتی باہنی کو پذیرائی نہ ملتی اگر حکومتِ پاکستان نے مشرقی پاکستان کی معیشت و معاشرت کی طرف توجہ دی ہوتی اور بے لگام بیورو کریسی کو لگام دے کر اُن کے فرض (عوام کی بہبود) کی طرف متوجہ کیا ہوتا ۔ پچھلے کم از کم 5 سال میں جو ملک کا حال ہے ۔ دل بہت پریشان ہے کہ کیا ہو گا ۔ اللہ محبِ وطن پاکستانیوں پر اپنا کرم فرمائے اور اس ملک کو محفوظ بنائے

مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کی بڑی تعداد اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتی تھی جس کے نتیجہ میں مغربی پاکستانیوں کے ساتھ وہ بھی مکتی باہنی کا نشانہ بنے ۔ نہ صرف یہ بلکہ بنگلا دیش بننے کے بعد جن لوگوں نے وحدتِ پاکستان کے حق میں آواز اٹھائی تھی انہیں طرح طرح سے تنگ کیا گیا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے گئے ۔ بہاریوں کو نہ شہریت دی اور نہ مہاجرین کا درجہ ۔ وہ ابھی تک کس مپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔ جماعتِ اسلامی کے دلاور حسین سیّدی سمیت 6 لیڈر ابھی بھی بغاوت کے مقدمات بھگت رہے ہیں

یہ حقیقت ہے کہ اب بھی بنگلا دیش کے عوام کی اکثریت کے دل پاکستانی ہیں ۔ اس کا ایک ادنٰی سا مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں مدِ مقابل ہوتی ہیں ۔ بنگلا دیش کے عوام جوش و خروش کے ساتھ پاکستانی ٹیم کے حق میں بول رہے ہوتے ہیں

حامد میر لکھتے ہیں

”میں نے عطا ربانی صاحب کی کتاب پڑھی ہے۔ انہوں نے واقعی یہ لکھا ہے کہ قائداعظم نے مارچ 1948ء میں اپنے دورۂ مشرقی پاکستان کے دوران مشرقی بازو کی قیادت کو اعتماد میں لئے بغیر ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا جو محض دو فیصد آبادی کی زبان تھی اور وہاں ہنگامہ ہوگیا جس میں تین طلبہ مارے گئے

قائداعظم بھی ایک انسان تھے اور انسان سے غلطی ہوسکتی ہے لیکن عطا ربانی صاحب نے جو لکھا وہ حقیقت کے منافی ہے۔ میں ربانی صاحب کی بہت عزت کرتا ہوں وہ میرے عزیز دوست میاں رضا ربانی کے والد تھے لیکن وہ ڈھاکہ کے اس جلسے میں بطور اے ڈی سی قائداعظم کے ساتھ نہیں تھے۔ وہ سات ماہ قائداعظم کے ساتھ رہے۔ 19 مارچ 1948ء کو واپس ائرفورس میں چلے گئے جبکہ قائداعظم نے ڈھاکہ کے جلسے سے 21 مارچ 1948ء کو خطاب کیا۔ اس جلسے میں کوئی ہنگامہ نہیں ہوا تھا

قائداعظم کی اس جلسے میں تقریر کا پس منظر اور پیش منظر منیر احمد منیر صاحب نے اپنی کتاب ’’قائداعظم، اعتراضات اور حقائق‘‘ میں بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ قائداعظم نے ڈھاکہ میں جو اعلان کیا وہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا اکثریتی فیصلہ تھا۔ 25 فروری 1948ء کو کراچی میں دستور ساز اسمبلی میں مشرقی پاکستان سے کانگریس کے ہندو رکن دھرنیدر ناتھ دتہ نے بنگالی کو پاکستان کی قومی زبان قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ قائداعظم نے اسمبلی کے سپیکر کے طور پر اس مطالبے کو رد کرنے کی بجائے اس پر بحث کرائی۔
کانگریسی رکن اسمبلی نے کہا ”ریاست کے 6 کروڑ 80 لاکھ باشندوں میں سے 4 کروڑ 40 لاکھ باشندے بنگالی بولتے ہیں اس لئے قومی زبان بنگالی ہوگی“۔ ایک اور کانگریسی رکن پریم ہری ورما نے اس مطالبے کی حمایت کی ۔ لیکن مشرقی پاکستان کے بنگالی ارکان مولوی تمیز الدین اور خواجہ ناظم الدین نے اس مطالبے کی مخالفت کی۔ لیاقت علی خان نے وضاحت کی کہ ہم انگریزی کی جگہ اردو کو لانا چاہتے ہیں اس کا مطلب بنگالی کو ختم کرنا نہیں۔ کافی بحث کے بعد یہ مطالبہ مسترد کردیا گیا اور مطالبہ مسترد کرنے والوں میں بنگالی ارکان حسین شہید سہروردی ۔ نور الامین ۔ اے کے فضل الحق ۔ ڈاکٹر ایم اے مالک اور مولوی ابراہیم خان بھی شامل تھے ۔ اردو کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ قائداعظم کا نہیں دستور ساز اسمبلی کا فیصلہ تھا

قائداعظم نے 21 مارچ 1948ء کی تقریر میں یہ بھی کہا تھا آپ اپنے صوبے کی زبان بنگالی کو بنانا چاہتے ہیں تو یہ آپ کے نمائندوں کا کام ہے ۔ بعدازاں صوبائی حکومت نے اردو کے ساتھ بنگالی کو بھی قومی زبان قرار دینے کا مطالبہ کیا تو یہ مطالبہ تسلیم کر لیا گیا لیکن تاخیر سے کیا گیا اور اس تاخیر کا پاکستان کے دشمنوں نے خوب فائدہ اٹھایا

بنگالی عوام قائداعظم سے ناراض ہوتے تو 2 جنوری 1965ء کے صدارتی انتخاب میں جنرل ایو ب خان کے مقابلے پر قائداعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت نہ کرتے ۔ فاطمہ جناح ڈھاکہ میں جیت گئی تھیں کیونکہ ڈھاکہ میں ان کا چیف پولنگ ایجنٹ شیخ مجیب الرحمان تھا“۔

معروف تاریخ دان ڈاکٹر صفدر محمود لکھتے ہیں ”سانحہ مشرقی پاکستان کی بنیادی وجہ“۔

سوال یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے سانحے کا ’’ڈائریکٹر کون تھا مشرقی پاکستان کی علیحدگی کس کی سرپرستی مدد اور مداخلت سے عمل میں آئی؟ اس کا ہرگز مطلب اپنی سیاسی غلطیوں، کوتاہیوں، مختلف حکومتوں، حکمرانوں اور فوجی راج کے پیدا کردہ احساس محرومی پر پردہ ڈالنا نہیں کیونکہ وہ سب کچھ بہرحال تلخ حقیقتیں ہیں اور انہیں تسلیم کرنا پڑے گا

اسی سے دوسرا سوال جنم لیتا ہے کہ کیا اس قسم کی محرومیاں ،کوتاہیاں، غیر دانشمندانہ پالیسیاں اور بے انصافیاں صرف پاکستان میں ہی روا رکھی گئیں؟ کیا صوبائی کشمکش علاقائی آزادی کی تحریکیں اور نفرتیں صرف پاکستان کی سیاست کا ہی حصہ تھیں؟ نہیں ہرگز نہیں،

اسی طرح کی صورتحال بہت سے نوآزاد یا ترقی پذیر ممالک کے علاوہ بعض ترقی یافتہ ممالک میں بھی موجود ہے۔ وہاں بھی وفاقی یا مرکزی حکومت پر بے انصافی کے الزامات لگے رہتے ہیں، بہت سے نو آزاد ممالک کے صوبوں میں رسہ کشی اور نفرت بھی رنگ دکھاتی ہے، بعض اوقات حکمران اور حکومتیں غلط فیصلے بھی کرتی ہیں لیکن ان تمام عوامل کے باوجود وہ ممالک اندرونی طور پر تقسیم ہونے کے باوجود ٹوٹتے نہیں۔ ان کے کچھ علاقے یا صوبے آزادی کا نعرہ بھی لگاتے ہیں، علیحدگی کا مطالبہ بھی کرتے ہیں جیسا کہ خود ہندوستان میں کوئی درجن بھر علیحدگی کی تحریکیں جاری و ساری ہیں لیکن کبھی یہ نہیں ہوا کہ کسی علاقے کو فوجی قوت کی بناء پر الگ ہونے کی اجازت دی جائے۔ ہندوستان کے کئی صوبوں میں علیحدگی پسندی اور آزادی کی تحریکوں کے ساتھ ساتھ گوریلا جنگ بھی جاری ہے، حکومت کی بعض علاقوں میں رٹ بھی موجود نہیں لیکن اس کے باوجود وہاں کوئی صوبہ یا علاقہ نہ ہندوستان سے علیحدہ ہوا ہے اور نہ ہی آزاد۔ سکھوں نے آزادی کی تحریک چلائی تو ہندوستان نے اسے کچل کر رکھ دیا مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے پہاڑ تو ڑے جارہےہیں پھر پاکستان ہی کو کیوں اس قیامت صغریٰ سے گزرنا پڑا؟

ایک بار پھر میں ببانگ دہل تسلیم کرتا ہوں کہ مشرقی پاکستان سے بے انصافیاں ہوئیں، ان کا معاشی حصہ انہیں اس قدر نہ ملا جس قدر ان کا حق تھا،مشرقی پاکستان آبادی میں 56 فیصد تھا اس لئے جمہوری اصولوں کی روشنی میں پیرٹی یا برابری بھی ان کے ساتھ زیادتی تھی۔

یہ الگ بات کہ ہمارے وہ دانشور جو آئین میں پیرٹی پر احتجاج کرتے اور اسے ہمالیہ جیسی غلطی قرار دیتے ہیں جذبات کی رومیں بہہ کر یہ بھول جاتے ہیں کہ جغرافیائی فاصلے کو حقیقت تسلیم کرتے ہوئے برابری یا پیرٹی کا اصول سب سے پہلے محمد علی بوگرہ کے آئینی فارمولے میں آیا تھا جس کی بنیاد پر 1954ء میں دستور بنایا جانا تھا لیکن غلام محمد نے اسمبلی برخاست کرکے دستور سازی کی بساط لپیٹ دی

اس سے قبل خواجہ ناظم الدین فارمولے میں بھی برابری کا مقصد ایک اور طریقے سے حاصل کیا گیا تھا جس کی تفصیل میری کتاب ”پاکستان تاریخ و سیاست“ میں موجود ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آئین میں برابری کا اصول بنگالی یاستدانوں نے خوش دلی سے تسلیم کیا تھا۔ سولہ دسمبر کے حوالے سے پروگراموں میں1956ء کے آئین میں طے کردہ پیرٹی کے اصول کو خوب رگڑا دیا گیا۔ رگڑا دینے والوں کو علم نہیں تھا کہ1956ء کا آئین جناب حسین شہید سہروردی کا کارنامہ تھا اور وہ نہ ہی صرف بنگالی تھے بلکہ شیخ مجیب الرحمن کے استاد، سیاسی رہنما اور گُرو بھی تھے

دراصل اب یہ ساری باتیں خیال رفتہ (After thought) ہیں، اگر مشرقی پاکستان بنگلہ دیش نہ بنتا پھرتو یہ باتیں کسی کو یاد بھی نہ ہوتیں اور نہ ہی موضوع گفتگو ہوتیں۔ یہ بھی درست ہے کہ مشرقی پاکستان میں سیاسی احساس محرومی کو ایوبی مارشل لاء اور فوجی طرز حکومت نے ابھارا اور اسے باقاعدہ ایک تحریک کی شکل دی۔ پارلیمانی جمہوریت میں بنگالیوں کو اقتدار ملنے کی توقع تھی، وہ جانتے تھے کہ کسی بھی چھوٹے صوبے کو ساتھ ملا کر پیرٹی کے باوجود وہ اقتدار حاصل کرسکیں گے لیکن ایوبی مارشل لاء نے ان کی امید کی یہ شمع بھی بجھا دی اور انہیں یقین دلادیا کہ اب کبھی بھی ان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا، پھر ایوبی مارشل لاء کی آمرانہ سختیوں، میڈیا، سوچ اور اظہار پر شدید پابندیوں اور سیاسی مخالفوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی کارروائیوں نے بنگالیوں پر یہ بھی واضح کردیا کہ ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہے۔’’پاکستان سے بنگلہ دیش‘‘ نامی کتاب میں سابق بنگالی سفیر اور کرنل شریف الحق نے بالکل درست لکھا ہے کہ شیخ مجیب الرحمن نے1969ء میں علیحدگی کا فیصلہ کرلیا تھا۔ کرنل شریف الحق بنگلہ دیش کی تحریک آزادی اور 1971ء کی جنگ کے ہیرو ہیں۔ وہ بنگلہ دیش کے سابق سفیر اور شیخ مجیب الرحمن کے خلاف بغاوت کرنے والوں میں شامل تھے، چنانچہ ان کا لکھا ہوا مستند ہے ۔ شیخ مجیب الرحمن جب 1972ء میں رہائی پاکر لندن پہنچا تو اس نے بی بی سی کے انٹرویو میں یہ تسلیم کیا کہ وہ عرصے سے بنگلہ دیش کے قیام کے لئے کام کررہا تھا

16 نومبر2009ء کو بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی حسینہ واجد نے انکشاف کیا کہ وہ 1969ء میں لندن میں اپنے والد کے ساتھ تھی جہاں شیخ مجیب الرحمن نے ہندوستانی ایجنسی’’را‘‘ کے افسران سے ملاقاتیں کیں اور بنگلہ دیش کے قیام کی حکمت عملی طے کی۔ حسینہ واجد کا بیان عینی شاہد کا بیان ہے۔ اس پر تبصرے کی ضرورت نہیں، اس الجھی ہوئی کہانی کو سمجھنے کے لئے اس پہلو پر بھی غور کرنا ضروری ہے کہ جب 1956ء کے آئین میں بنگالی لیڈر شپ نے پیرٹی کا اصول مان لیا تھا تو پھر یحییٰ خان نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہی اس اصول کو کیوں ختم کردیا اور کس اتھارٹی کے تحت ون یونٹ ختم کرنے اور ون مین ون ووٹ کا اصول نافذ کرنے کا اعلان کیا کیونکہ یہ فیصلے تو نئی دستور ساز اسمبلی نے کرنے تھے۔ دراصل یحییٰ خان صدارت پکی کرنے کے لئے مجیب الرحمن سے ساز باز کرنے میں مصروف تھا اور یہ دو بنیادی فیصلے اسی ہوس اقتدار کے تحت کئے گئے تھے

یہ بات بھی سو فیصد درست ہے کہ انتخابات کروانے کے بعد اقتدار منتقل نہ کرنا پاکستان کو توڑنے کے مترادف تھا۔سیاسی بصیرت اور ملکی اتحاد کا تقاضا تھا کہ اقتدار اکثریتی پارٹی کے حوالے کیا جاتا۔ اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنے کے نتیجے کے طور پر مشرقی پاکستان میں بغاوت ہوئی جسے کچلنے کے لئے آرمی ایکشن کیا گیا۔ گولی سیاسی مسائل کا کبھی بھی حل نہیں ہوتی ،چاہے وہ مشرقی پاکستان ہو یا بلوچستان۔ سیاسی مسائل ہمیشہ سیاسی بصیرت سے ہی حل ہوتے ہیں۔ آرمی ایکشن نے بظاہر پاکستان کو بہت کمزور کردیا تھا

16 دسمبر کے سانحے کا تجزیہ کرتے ہوئے ہم ایک بنیادی پہلو اور اہم ترین فیکٹر کو پس پشت ڈال دیتے ہیں ”وہ بنیادی حقیقت ہے۔ بھارت کی ہمسائیگی اور بھارت کے ساتھ دو تہائی بارڈر کا مشترک ہونا“۔

فرض کیجئے کہ مشرقی پاکستان بھارت کا ہمسایہ نہ ہوتا تو کیا بنگالی برادران کو کہیں سے اتنی مالی اور سیاسی مدد ملتی، اگر وہ بڑی تعداد میں ہجرت بھی کر جاتے تو کیا دوسرا ہمسایہ ملک انہیں وہاں جلا وطن حکومت قائم کرنے دیتا، ان کے نوجوانوں کو مکتی باہنی بنا کر رات دن فوجی تربیت اور اسلحے سے لیس کرکے گوریلا کارروائیاں کرنے کی اجازت دیتا، آرمی ایکشن کی زیادتیوں کو نہایت طاقتور میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پھیلاتا اور پاکستان کی کردار کشی کرتا، روس جیسی سپر پاور کو اندرونی معاملے میں شا مل کرتا اور روس سے بے پناہ فوجی اسلحہ لے کر اپنے ہمسایہ ملک پر چڑھ دوڑتا۔ اگر یہ مکتی باہنی کی فتح تھی تو پھر پاکستان کی فوج نے ہندوستان کے سامنے ہتھیار کیوں ڈالے؟ ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ ہندوستان کا کیا دھرا تھا، ہندوستان نے بنگالیوں اور مکتی باہنی کی آڑ میں اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈی کی ورنہ آرمی ایکشن سری لنکا میں بھی ہوتے رہے، ہندوستان میں بھی سکھوں کا قتل عام ہوا کیا وہ علاقے اپنے ملکوں سے الگ ہوئے؟ اسی لئے سولہ دسمبر 1971ء کو اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ہم نے ہندوستان ماتا کی تقسیم کا بدلہ لے لیا اور نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا

بلاشبہ غلطیاں، زیادتیاں اور بے انصافیاں ہوئیں جن کا جتنا بھی ماتم کیا جائےکم ہے۔ اس طرح کی غلطیاں اور بے انصافیاں بہت سے ممالک میں ہوتی رہی ہیں لیکن ان کے استحکام پر زد نہیں پڑی۔ دراصل ہمارے اس سانحے کا ڈائریکٹر ہندوستان تھا اور یاد رکھیئے اسے آئندہ بھی موقع ملا تو باز نہیں آئے گا ۔ یہ بھی یقین رکھیئے میں نے یہ الفاظ کسی نفرت کے جذبے کے تحت نہیں لکھے بلکہ میرے ان احساسات و خدشات کے سوتے ملک کی محبت سے پھوٹے ہیں۔ میں ہمسایہ ممالک بشمول ہندوستان سے اچھے دوستانہ روابط قائم کرنے کے حق میں ہوں جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں۔ امن ہماری ضرورت ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ تاریخ کو بھلادیا جائے کیونکہ جو قومیں اپنی تاریخ فراموش کردیتی ہیں ان کا جغرافیہ انہیں فراموش کردیتا ہے

ایک بہار سے ہجرت کر کے آنے والے صحافی سیّد سعید اختر پیامی جو 1931ء میں پیدا ہوئے اور 8 اپریل 2013ء کو وفات پائی نے 25 مارچ 2004ء کے ڈان اخبار میں لکھا تھا ”بنگلہ دیش ۔ پہلی گولی کس نے چلائی

BD: who cast the first stone?
The sky lit up with fire-balls amidst the deafening sound of gun-shots. The dark night was pierced by multi-coloured searchlight leaving no room even for a shadow to escape.
Simultaneously, microphones blared to announce that an indefinite curfew had been imposed on the unfortunate city of Dhaka. It was a full-fledged battle against invisible enemies. Nobody cared to count the dead. This happened about the midnight of March 25, 1971. The following day, on March 26, the independence of Bangladesh was proclaimed by word of mouth and through a clandestine radio broadcast. This was the beginning of the end.

It is not yet known who cast the first stone. Sheikh Mujibur Rahman’s daughter and former prime minister of Bangladesh, Sheikh Hasina, claims that the announcement was contained in a hand- written press statement by the Sheikh himself.

Thereafter copies of the statement were distributed all over East Pakistan. On the other hand, General Ziaur Rahman’s party, the Bangladesh Nationalist Party, maintains that it was the general who proclaimed independence.

It is one of those secrets with which Pakistan’s chequered history is littered. It is not yet clear who drafted the Lahore Resolution which is a major historical document.

Chaudhry Khaliquzzaman and Nawab Ismail are said to be the two persons who generally drafted all resolutions of the All-India Muslim League. But none of them was present when the resolution was for the first time presented before the March 23 meeting in Lahore.

It is still believed by some that the term ‘states’ mentioned in the original resolution was a typographical mistake which was later corrected by Muslim League legislators in 1946. But were the legislators competent to amend a resolution adopted by the Muslim League Council? This is another story.
Similarly the authorship of Sheikh Mujib’s famous Six Points is still shrouded in mystery. Several unconfirmed stories are in circulation. The text of the Six Points was amended several times as tension mounted in the unhappy relationship between East Pakistan and the Central government.

The Awami League leaders insisted on maximum autonomy for the eastern wing. Even at that stage when a revolutionary situation was already in the making nobody talked of independence. Sheikh Mujib’s famous speech of March 7 at the Race Course ground fell short of a call for independence.
But it would be presumptuous to think that the people of the former East Pakistan had launched a movement for the implementation of the Lahore Resolution.

The issue was never raised by the leading politicians of the eastern wing. They had their own grievances, some of which were genuine and should have been thoroughly examined. At a much later stage, however, the Lahore Resolution did provide an impetus to the people of East Pakistan in their struggle for independence.

When the people and the rulers were locked in confrontation and all top leaders of the Awami League had left for Calcutta where they had formed a government in exile, Sheikh Mujib chose to stay back in his Dhanmandi house. He waited for the Pakistan Army and offered no resistance. He was promptly arrested and taken to West Pakistan.

The widely reported famous dialogue between Zulfikar Ali Bhutto and Mujib further strengthens the argument that Mujib believed in the federal structure of Pakistan and sought constitutional remedy of the problem. When Bhutto informed the Sheikh (he had been in solitary confinement for a long time) that he (Bhutto) was the president of Pakistan, Mujib replied: “How can you be the president of Pakistan? I am the leader of the majority party.” Till that moment, it can be argued, Mujib had faith in the unity of the country and did not know that Bangladesh had already emerged as an independent state.

Although Mujib was personally grateful to India for all the assistance that it had offered to his people in their hour of trial, in his heart of hearts, he nursed a feeling of bitterness for New Delhi. He had told some trusted journalists that he could easily achieve freedom with India’s support, “but I would never go to a banya (trader).”

Even after liberation, there were fewer Hindu ministers in his first cabinet than were in the Pakistan days. The Indian army, after its victory, had plans for a longer stay in Bangladesh. But Mujib felt the pulse of the people who were opposed to the presence of the conquering army.

He rushed to New Delhi, met Mrs Indira Gandhi and expedited an early withdrawal of Indian troops. Even when National Awami Party leader Maulana Abdul Hamid Khan Bhashani had strongly advocated complete independence, the Awami League did not endorse his views. Maulana Bhashani had a much better understanding of the people’s choice.

He knew that in this unpredictable situation, nothing less than independence would satisfy them. It was a struggle against the injustices meted out to the people of the eastern wing over more than two decades. It is a fact that they suffered neglect and apathy at the hands of those who wielded power in West Pakistan.

On one occasion when East Pakistan chief minister Ataur Rahman Khan returned from Rawalpindi, he told correspondents at Dhaka airport that he could not get approval for an important project from the central government “as it was easy to convince the minister but difficult to please the section officer.” Such was the hostile relationship between the administrations in the two wings.

It was only during the brief period of General Yahya Khan that some measures were contemplated and taken for ameliorating the conditions of East Pakistan. The headquarters of several government corporations were shifted to Dhaka. A few promotions were made in the superior services cadre. But these measures were much too late and could not serve any purpose.

The army action of March 25 put the final seal on the fate of united Pakistan. It created a bitterness which was not easy to remove. In that hostile environment, it was impossible to think that the situation would improve with the help of any military intervention. Even at that time many sensible people had warned the authorities against taking harsh actions.

The situation needed political measures. Instead a harsh policy was devised. The only political step taken was to hold by- elections for the seats vacated en masse by the elected representatives of the people in East Pakistan. It was indeed a futile exercise as the voters completely boycotted it.
When a full-scale war began in December 1971, the Pakistan Army had to confront the entire population of East Pakistan. And those who did not join the “rebels” were termed collaborators by the new power wielders of the eastern wing and “Muslims of Indian origin” by successive governments in Pakistan.

آخر ميں يہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ میرے ہموطنوں نے اس اتنے بڑے سانحہ سے کوئی سبق نہيں سيکھا ۔ لوگ آج کہيں سندھی ۔ کہيں پختون ۔ کہيں پنجابی ۔ کہيں مہاجر ۔ کہيں خدائی خدمتگار ۔ کہيں آزاد خيال ۔ کہيں لاشاری ۔ کہيں بھٹو ۔ کہيں سيّد ۔ کہيں گوجر ۔ کہيں طالبان ۔ کہيں کسی اور قوميت کا رولا رَپا ڈالے ہوئے ہيں
کوئی پاکستانی خال خال ہی نظر آتا ہے
کيا يہ لوگ مُلکی حالات کو سابق مشرقی پاکستان کے حالات سے زيادہ خراب نہيں کر چکے ؟
کسی سيانے کہا تھا
عقلمند دوسروں کے تجربہ سے سبق ليتا ہے
عام آدمی اپنے تجربہ سے سبق ليتا ہے
احمق اپنے تجربہ سے بھی سبق نہيں ليتا

ميرے ہموطن فلمی کہانيوں اور ناولوں پر تو يقين کر ليتے ہيں ۔ سيانوں کی باتوں کو قابلِ غور نہيں سمجھتے

دعا

اے ميرے اللہ تو ہی ہے بنانے والا ۔ امان دینے والا ۔ پناہ میں لینے والا۔ زبردست دباؤ والا۔ صاحب عظمت ۔ ميرے اور ميرے ہموطنوں کے دل سے فانی طاقتوں کا خوف نکال کر اپنی اطاعت بھر دے
اے ميرے اللہ مہربان رحم کرنے والے ۔ قادر و کريم ۔ تو ہی بادشاہ ہے اور پاک سب عیبوں سے ۔ ميرے اور ميرے ہموطنوں کے دل ميں مادی محبت کی جگہ اپنے رسول کی محبت بھر دے
اے ميرے اللہ تو ہی صورت گری کرنے والا اور زبردست حکمتوں والا ہے اور جانتا ہے جو پوشیدہ ہے اور جو ظاہر ہے ۔ ميرے اور ميرے ہموطنوں کے دل سے نفاق کو نکال کر اللہ کے بندوں کی محبت بھر دے
اے ميرے اللہ ميرے اور کُل کائنات کے خالق ۔ مالک ۔ رازق اور حازق ۔ سب کی دعائيں سننے والے ۔ ميری اور ميرے ہموطنوں کی تمامتر خاميوں سے درگذر فرماتے ہوئے يہ عاجزانہ عرض سُن لے
ميرے اور ميرے ہموطنوں کے دل ميں اپنے اس وطن کی جو آپ ہی نے عطا کيا تھا خدمت کا جذبہ پھر سے جگا دے

One thought on “2.2۔سقوطِ ڈھاکہ ۔ پروپیگنڈہ اور حقائق

  1. Muhammad Arshad

    اسلام علیکم بھائی آپ نے بہت اچھی باتیں لکھی ہیں دراصل بھارت 1965 کی جنگ ہارنے کے بعد اس نے پاکستان توڑنے کی سازش تیار کر لی تھی اس نے اس وقت بھی پاکستانی لیٹر خریدے تھے اور آب بھی ہی کر رہا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)