What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

لاجواب يا لاثانی ؟ ؟ ؟

74 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Jan 27 2012

1 ۔ صوبہ سندھ کے سرکاری ملازمين ؟

صوبہ سندھ جس ميں عوام دوست ہونے کی دعويدار پی پی پی ۔ ايم کيو ايم اور اے اين پی کی حکومت ہے کے کُل401388 سرکاری ملازمين ہيں ۔ ان کی پڑتال کے پہلے مرحلے ميں معلوم ہوا ہے کہ 108545 يعنی 27 فيصد سے زائد بھوت پريت [Ghost] ہو سکتے ہيں مگر انسان نہيں
اس طرح قوم کا 100000000 [10 ارب] روپيہ سالانہ ضائع ہو رہا ہے
دوسرے مرحلے ميں کيا ہو گا کچھ کہا نہيں جا سکتا

ابتدائی مرحلے کی تفصيل کچھ يوں ہے

ابتدائی مرحلے ميں 21438 افراد کا کمپيوٹر اندراج [کمپيوٹرائزڈ ڈيٹا] جعلی [Bogus] نکلا

دستور العمل [Manual] ميں 20456 ملازمين کا اندراج [Registration] ہی نہيں ملا

381 ايسے ملازمين ہيں جو انتقال کرگئے ليکن ان کی تنخواہيں دی جارہی ہيں

1264 ملازمين دوہری ملازمت يعنی ايک وقت ميں 2 ملازمتيں کر رہے ہيں

60000 سے 65000 ملازمين نے ملازمت کيلئے اپنی عمريں غلط لکھوائی ہوئی ہيں

يہ سب کچھ حکومتِ سندھ کی وزير شازيہ مری نے بتايا ہے کسی پنجابی نے نہيں بتايا :lol:

2 ۔ بينظير بھٹو انکم سپورٹ پروگرام

بينظير انکم سپورٹ فنڈ کے تحت مستحق افراد کو 1000 روپيہ ماہانہ ديا جاتا ہے ۔ اس کيلئے کچھ رقم يو ايس ايڈ ديتا ہے ۔ يو ايس ايڈ نے آڈيٹ کيا تو معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو ماہانہ 1000 روپيہ ادا کيا جا رہا ہے ان ميں سے 4200000 [42 لاکھ] کا اس دنيا ميں وجود ہی نہيں ۔ اس طرح صرف پچھلے ايک سال ميں 50400000000 [50 ارب 40 کروڑ] روپے مستحقين کے نام پر خُرد بُرد کئے گئے يعنی پيپلز پارٹی کی حکومت کے پچھلے ساڑھے 3 سالوں ميں 176400000000 [1 کھرب 76 ارب 40 لاکھ] روپے خُرد بُرد کئے گئے

زمرہ : روز و شب, معاشرہ, معلومات | ابھی تک ایک تبصرہ ہوا ہے »

عورتيں کيوں روتی ہيں ؟

179 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Jan 24 2012

ايک بچہ اپنی ماں سے “آپ روتی کيوں ہيں ؟”
ماں “کيونکہ ايسی ضرورت پڑتی ہے”
بچہ ” مجھے سمجھ نہيں آئی”
ماں نے بچے کو سينے سے لگا کر پيار کرتے ہوئے کہا “تمہيں سمجھ آئے گا بھی نہيں”

پھر بچے نے اپنے باپ سے سوال کيا “ماں بغير وجہ کيوں روتی ہے ؟”
باپ نے لاپرواہی سے جواب ديا “سب عورتيں بلاوجہ روتی ہيں”
بچہ مخمصے ميں رہا ۔ کچھ دن بعد بچے کی ايک عالِم سے ملاقات ہوئی ۔ بچے نے سوچا “سب لوگ عالِم سے عِلم حاصل کرتے ہيں ۔ انہيں ضرور پتہ ہو گا کہ عورتيں کيوں روتی ہيں”
بچہ نے عالِم سے کہا “يا شيخ ۔ عورتيں اتنی آسانی سے کيوں رونے لگ جاتی ہيں ؟”

عالِم نے جواب ديا
“جب اللہ نے عورت کو بنايا تو اس پر خاص توجہ دی
اللہ نے عورت کے کندھے اتنے مضبوط بنائے کہ وہ دنيا کا وزن اُٹھا سکيں اور ساتھ اتنے نجيب کہ آرام پہنچا سکيں
اللہ نے عورت ميں اندرونی طاقت اتنی بھری کہ بچے کے حمل سے لے کر اُس ناپسنديدگی کو برداشت کر سکے جو بعض اوقات اُس کی اپنی اولاد ہی کی طرف سے ہوتی ہے
اللہ نے عورت کو کڑاپن عطا کيا کہ جب باقی سب ہار جاتے ہيں وہ بغير شکائت اپنے خاندان کی بيماری اور مشکلات کے دوران ديکھ بھال کرتی رہتی ہے
اللہ نے عورت ميں اپنے بچوں سے محبت کا احساس رکھا کہ وہ اُن سے ہر حال ميں محبت کرتی ہے خواہ بچے اُسے دُکھ ہی ديں
اللہ نے عورت کو طاقت بخشی ہے کہ اپنے خاوند کی تمامتر خاميوں کے ساتھ گذر کرتی ہے ۔ اور اللہ نے اسے مرد کی پسلی سے اُس کے دل کی حفاظت کيلئے پيدا کيا ہے
اللہ نے عورت ميں جاننے کی عقل رکھی ہے کہ اچھا خاوند بيوی کو دُکھ نہيں ديتا بلکہ اللہ کبھی کبھار خاوند کا ساتھ دينے ميں عورت کی مضبوطی اور قوتِ ارادی کا امتحان ليتا ہے
اور سب سے بڑھ کر اللہ نے عورت کو آنسو عطا کئے جو عورت کا طُرّہ امتياز ہيں جنہيں وہ جب چاہے جہاں چاہے بہائے ۔ اس کيلئے کسی وضاحت کی ضرورت نہيں کيونکہ يہ اُس کی خاص ملکيت ہيں
ديکھا بيٹا ۔ عورت کا حُسن اُن کپڑوں ميں نہيں جو وہ پہنتی ہے ۔ نہ اُس کے چہرے کی رنگت يا خد و خال ہيں ۔ نہ اُس کے بال ہيں ۔
بلکہ عورت کا حُسن اُس کی پرہيزگاری ہے جو اُس کی آنکھوں سے جھلکتی ہے کيونکہ وہی دل کی راہداری ہيں ۔ دِل جس ميں محبت گھر کرتی ہے”

زمرہ : روز و شب, طور طريقہ | 4 تبصرے »

کيا ہر کام کيلئے امريکا جانا پڑتا ہے

142 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Jan 21 2012

کہيں وسليے کی شکائت ہے تو کہيں دولت کی کمی کی ليکن اصل بات ہے ہمت اور محنت کی مگر حرام سے بچتے ہوئے ۔ پاکستان بلند ترين گليشيئروں ۔ بلند ترين پہاڑوں ۔ درميانے پہاڑوں ۔ سطح مرتفع ۔ ميدان اور صحرا کا مجموعہ ہے اور اس کے بطن ميں چٹيل پہاڑ ۔ سرسبز پہاڑ ۔ صحرا اور سرسبز ميدان پائے جاتے ہيں ۔ ايسے جغرافيے اور ايسی آب و ہوا والا قطع زمين ہو تو اس ميں بسنے والے ذہين اور جفاکش ہوتے ہيں ہماری خود غرضی اور نا اتفاقی نے ہميں ناکارہ بنا ديا ہے ۔ پھر بھی “ذرا نم ہو تو يہ مٹی بڑی زرخيز ہے ساقی” کے مصداق غبار ميں چھپے لعل گاہ بگاہ اپنی چمک دکھاتے رہتے ہيں

زمرہ : روز و شب, سبق, معاشرہ | ابھی تک ایک تبصرہ ہوا ہے »

کيا ارفع کريم والدين کی طفيلی تھی

367 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Jan 18 2012

خاور کھوکھر صاحب نے قوم کی حالت زار پر لکھتے ہوئے دنیا کی کم ترین عمر کی مائیکروسوفٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ارفع کریم رندھاوا نامی لڑکی کا حوالہ ديا ۔ خاور کھوکھر صاحب کے بلاگ پر اظہارِ خيال کرنا شروع کيا جو طوالت پکڑ رہا تھا چنانچہ اسے اپنے بلاگ پر منتقل کرنے کا فيصلہ کيا ۔ اس کا اضافی فائدہ يہ ہو گا کہ زيادہ خواتين و حضرات اسے پڑھ سکيں گے اور ہر دو خيالات پر اپنی رائے کا اظہار بھی کر سکيں گے

اوّل بات يہ ہے کہ ہم الحمدللہ مسلمان ہيں اسلئے ہميں اللہ کے فرمودات کو کبھی نہيں بھولنا چاہيئے بلکہ ان پر عمل پيرا ہونا چاہيئے

سورت 3 ۔ آلِ عِمرَان ۔ آيت 26 ميں اللہ کا ايک فرمان رقم ہے
قُلِ اللَّھُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَی كُلِّ شَیْءٍ قَدِيرٌ
ترجمہ ۔ آپ کہہ دیجئے اے اللہ ۔ اے تمام جہان کے مالک ۔ تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور جس کو چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے ۔ تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں ۔ بیشک تو ہرچیز پر قادر ہے‏

سورت 13 الرعد ۔ آیت 11 ۔ إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ
ترجمہ ۔ اللہ اس کو جو کسی قوم کو حاصل ہے نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت کو نہ بدلے

سورت 53 ۔ النّجم ۔ آیت ۔ 39 ۔ وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَی
ترجمہ ۔ اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی

ارفع کے والدين کی مالی حالت اور خواہش کے بغير ارفع کا يہ اعزاز حاصل کرنا مشکل تھا ليکن زيادہ سبب ارفع کی شب و روز محنت اور اساتذہ کی رہنمائی اور تدريسی قابليت ہے ۔ اپنے ہموطنوں کا رويّہ اپنی جگہ ليکن ذہانت اللہ کی دين ہے اور ذہانت کو مؤثر بنا کر اس سے اچھا نتيجہ حاصل کرنا آدمی کی اپنی محنت اور طريقہءِ کار پر منحصر ہے ۔ جہاں تک ارفع کا تعلق ہے [جو اس فانی دنيا سے رُخصت ہو چکی ہے] وہ ايک ريٹائرڈ ليفٹننٹ کرنل [Liutinant Colonel] کی بيٹی تھی ۔ ليفٹننٹ کرنل کوئی بڑی بلا نہيں ہوتا اور پھر جو ريٹائر ہو چکا ہو اُسے ہمارے معاشرے ميں عام طور پر اچھا مقام نہيں ديا جاتا ۔ ميں ايسے ذہين اور کامياب طُلباء کو جانتا ہوں جن کی مالی حالت کو مدِ نظر رکھا جاتا تو وہ 10 جماعتيں بھی نہ پڑھ پاتے ليکن وہ انجيئر بنے ۔ ميرا ايک ہمجماعت جو اليکٹريکل انجيئر بنا اُس کی والدہ نے لوگوں کے کپڑے سی کر اور برتن دھو کر اُسے پالا اور پڑھايا تھا ۔ اُس نے پہلا ميرٹ کا وظيفہ ميٹرک کے امتحان ميں ليا اور پھر ہر امتحان ميں وظيفہ حاصل کرتا رہا ۔ ايسے کچھ اور لڑکوں کو بھی ميں جانتا ہوں

ميں کسی دنياوی وسيلے والے کی حمائت نہيں کرنا چاہتا ۔ ميں نے زندگی کی 6 سے زائد دہائياں اس ملک پاکستان ميں گذاری ہيں ۔ اس ميں سے جو وقت ملک کے باہر گذارا وہ 8 سال سے کم ہے اور اُس ميں سے بھی ساڑھے 7 سال حکومت کے حُکم کے تحت ملک سے باہر گيا اور وہاں رہا ۔ اصول پسندی اور سچ کا ساتھ دينے کے نتيجہ ميں نہ صرف بڑی کرسی والوں نے بلکہ ساتھيوں اور ماتحتوں نے بھی مجھے اتنا تنگ کيا کہ بالآخر 60 سال کی عمر پوری کرنے کی بجائے پونے 52 سال کی عمر ميں ريٹائرمنٹ مانگ لی جبکہ کہ روزگار کا کوئی اور دنياوی وسيلہ نہ تھا

پاکستان بننے کے بعد 1953ء تک والد صاحب کو محنت کا پھل ملتا رہا پھر دنياوی وسيلے والوں کا دور شروع ہوا اور ہماری تنگدستی کے دن . نوبت يہاں تک پہنچی کہ جب ميں انجنيئرنگ کالج لاہور ميں پڑھتا تھا تو ميرے پاس سستے کپڑے کی 2 پتلونيں 2 قميضيں 2 قميض پاجامے اور ايک بغير آستين کا سويٹر تھا ۔ ايک سال اسی طرح گذارا پھر ايک لنڈے کا کوٹ ليا ۔ ميں نے ان حالات ميں انجيئرنگ پاس کی اور بعد ميں بچت کر کے وہ قرض اُتارا جو ميری انجيئرنگ کالج کی پڑھائی کے آخری سال ميں لينا پڑا تھا ۔ انجنيئر بن کے افسر لگنے کے بعد بھی 3 سال لنڈے کا کوٹ پہنا ۔

ہماری قوم کا الميہ نہ فوج ہے نہ تاجر اور نہ حکمران ۔ ان بُرے حکمرانوں کو ہم ہی ووٹ دے کر حکمران بناتے ہيں اور ووٹ دينے والوں ميں 90 فيصد وہی ہوتے ہيں جو بعد ميں نان نُفقے کو ترستے ہيں ۔ اصل مسئلہ ہماری قوم کی غلط سوچ اور بُری عادات ہيں ۔ ہم لوگ اپنے ملک کے اندر رہتے ہوئے محنت کرنے سے کتراتے ہيں ۔ اپنے گھر يا دفتر ميں جھاڑو دينا اپنی توہين سمجھتے ہيں ليکن برطانيہ جا کر بيت الخلا صاف کرنا گوارا ہوتا ہے ۔ ہم لوگ اپنی ہر غلطی کا سبب دوسرے کو ٹھہراتے ہيں ۔ اپنے آپ کو درست کرنے کے روادار نہيں البتہ دوسروں ميں ہميں عيب ہی عيب نظر آتے ہيں

دراصل ہميں اللہ پر زبانی يقين ہے مگر عملی طور پر نہيں ہے ۔ ہم اللہ کو ماننے کا دعوٰی کرتے ہيں ليکن اللہ کی کوئی بات ماننے کو تيار نہيں ہيں ۔ جب ہم من حيث القوم اللہ پر يقين کامل کرتے ہوئے حق حلال کمانے کيلئے محنت شروع کريں گے اور ناحق کی کھانا چھوڑ ديں گے تو يہی ملک پاکستان دن دُونی رات چوگنی ترقی کرنے لگے گا اور دنيا کی ہر آسائش ہميں ميسّر ہو جائے گی

زمرہ : روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ | 13 تبصرے »

نتھی کر ديا گيا

185 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Jan 16 2012

ميں اپنے احساسات کو چھپائے پھر رہا تھا ليکن خرم شہزاد خرم صاحب نے نتھی کر ديا اور کچھ کہنا پڑ ہی گيا

2012ء میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟
نيا اُسے کہتے ہيں جو پہلے نہ ہوا ہو ۔ وہ تو ايک ہی ہے ” آخری سفر”

2012ء میں کس واقعہ کا انتظار ہے؟
نيکی کے فرشتے کا ۔ بصورتِ ديگر اللہ کے قہر کا

2011ء کی کوئی ایک کامیابی؟
بقائمی ءِ ہوش و حواس اللہ پر يقين کے ساتھ زندہ رہنا ميرے نزديک بہت بڑی کاميابی ہے

2011ء کی کوئی ایک ناکامی؟
وہی جو کئی سال سے ہوتی چلی آ رہی ہے ۔ ہموطنوں کی عقلوں پر پڑے پردے اُٹھا نہ سکنے کی

2011ء کی کوئی ایک ایسی بات جو بہت یادگار یا دل چسپ ہو؟
موٹر سائيکلس سوار کا مجھے تيز رفتاری سے ٹکر مارنے کے بعد موٹر سائيکل کے ساتھ اس طرح گھسيٹنا کہ ميرا سر سڑک پر ہتھوڑے کی طرح ٹکراتا رہے ۔ جو بقيہ زندگی کيلئے ميری ياد داشت مجروح کر گيا اور قوتِ شامہ سے محروم کر گيا

سال کے 2012ء کے آغاز پر کیسا محسوس کررہے ہیں؟
انسان کو عمر نہيں ملکی حالات بوڑھا کر ديتے ہيں ۔ اس جمہوريت سے لبيا ميں معمر قذافی کی آمريت اچھی تھی جہاں انسانی حقوق سب کے يکساں تھے اور سب کو ملتے تھے

کوئی چیز یا کام جو 2012ء میں سیکھنا چاہتے ہوں؟
وہ علم يا عمل جس سے منافق ننگے نظر آئيں

ميں کسی اور کو نتھی نہيں کر رہا جس کيلئے خرم شہزاد خرم صاحب سے درگذر کا طلبگار ہوں

زمرہ : روز و شب | 5 تبصرے »