استقلال کامیابی کی چابی ہے

آج آپ بھلائی کریں
ہو سکتا ہے وہ کل کلاں بھُلا دی جائے
پھر بھی بھلائی کرتے رہیئے
آپ کے بھلائی کرنے پر
ہو سکتا ہے لوگ الزام لگائیں کہ اس کا مُحرّک خودغرضی اور پوشیدہ عزائم ہیں
پھر بھی بھلائی کرتے جایئے
دیانت داری آپ کو مخدُوش کر سکتی ہے
پھر بھی آپ دیانت دار ہی رہیئے
آپ نے جو سالوں میں بنایا وہ لمحوں میں تباہ کیا جا سکتا ہے
پھر بھی آپ بناتے جایئے

مٹی کا انسان

گا میرے مَن وا گاتا جا رے ۔ جانا ہے ہم کا دُور
ٹھُمک ٹھُمک ناہیں چل رے بَیَلّ وا اپنی ڈگریا ہے دُور
دُکھ سُکھ ساتھی ہیں جیون کے ۔ نہ گھبراؤ پیارے
آج نہیں تو کل جاگیں گے ۔ سوئے بھاگ ہمارے
جھُوٹے ناتے ہیں اِس جَگ کے سوچ ارے ناداں
جانا ہوگا تَوڑ کے اِک دن دنیا کے دَستُور
رہ جائے گا پِنجرہ خالی مٹی کے انسان
مالک پہ تُو چھوڑ دے ڈَوری جو اُس کو منظُور

بڑائی کِس میں ہے؟

بڑائی اِس میں ہے کہ
آپ نے کِتنے لوگوں کو اپنے گھر میں خوش آمدَید کہا۔ نہ کہ آپ کا گھر کِتنا بڑا ہے۔
آپ نے کِتنے لوگوں کو سواری مہیّا کی۔ نہ کہ آپ کے پاس کِتنی اچھی سواری ہے
آپ کِتنی دولت دوسروں پر خرچ کرتے ہیں۔ نہ کہ آپ کے پاس کِتنی دولت ہے
آپ کو کِتنے لوگ دوست جانتے ہیں۔ نہ کہ کِتنوں کو آپ دوست سمجھتے ہیں
آپ سب سے کِتنا اچھا سلوک کرتے ہیں۔ نہ کہ کِتنے عالِیشان محلہ میں رہتے ہیں
آپ نے کِتنا سچ بولا اور کِتنے وعدے پورے کئے۔ نہ کہ آپ نےکِتنے لوگوں کو بُرے ناموں سے پُکارا

دنیا اور آخرت ۔ دونوں ہی جنّت

اگر ہم اپنے چھوٹے چھوٹے دُکھ بھُلا دیں اور اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں یاد رکھیں
اگر ہم اپنے چھوٹے چھوٹے نقصان بھلا دیں اور جو فائدے پائے ان سب کو یاد رکھیں
اگر ہم لوگوں میں عیب ڈھونڈنا چھوڑ دیں اور ان میں خُوبیاں تلاش کر کے یاد رکھیں
کتنی آرام دہ ۔ خوش کُن اور اطمینان بخش یہ دنیا بن جائے اس معمولی کوشش سے اور الله کی مہربانی سے آخرت میں بھی جنّت مل جائے