What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ ۔ ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي



تختۂ کار

تلاشِ گُمشُدہ

44 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Feb 09 2010

میں ہوں اجنبی اپنے ہی شہر میں
ڈھُونڈتا پھر رہا ہوں تُجھے
مجھ کو آواز دے ۔ مجھ کو آواز دے

” اے بھائی ۔ کس کو ڈُھونڈے ہے”
” بھائی ۔ مسلمان کو ڈھونڈوں ہوں”
” پاگل ہے کیا رے ؟ یہاں تو سب مسلمان ہوویں”
” چل ایک سے ملا دے”
” اس سے ملو ۔ یہ بڑا اچھا دکاندار ہے”
“یہ تو کم تولے ہے ۔ مسلمان تو پورا تولیں”
“چل اس سے بات کر ۔ یہ تو نہیں تولے ہے”
“یہ تو نقلی مال اصلی کہہ کے بیچے ہے ۔ مسلمان تو دھوکہ نہیں دیوے”
“اچھا چل اس سے مل لے ۔ یہ صاف ستھرا آدمی ہے دفتر میں کام کرے ہے”
“یہ تو بغیر پیسے کام نہ کرے ۔ پار سال اپنے بھائی بھی کا مال کھا گیا ۔ مسلمان تو نہ رشوت لیوے اور نہ کسی کا مال کھائے”
“تجھے کوئی پسند ہی نہ آوے ۔ اچھا لے اس سے مل۔ یہ سوشل ورکر ہے”
“کل اس کے گھر میں گیا تو اس نے بچے کو کہہ بھیجا کہ گھر میں نہیں ۔ مسلمان تو کبھی جھوٹ نہ بولے”
“اچھا ۔ دیکھ اُس دکان پر گاہکوں کی بہت بھیڑ ہے ۔ یہ آڑھتی ہے ضرور اچھا آدمی ہو گا ”
“ارے اس نے تو گئے سال 5000 کلو گرام چینی 18 روپے کے حساب خرید کر چھُپا دی ۔ اب 65 روپے بیچے ہے ۔ مسلمان تو زیادہ منافع کمانے کیلئے ذخیرہ نہیں کرے”
” جا جا تیری پسند کا مسلمان ادھر نہیں ہے ۔ کہیں اور جا کے تلاش کر”

میں ہوں اجنبی اپنے ہی شہر میں
ڈھُونڈتا پھر رہا ہوں تُجھے
مجھ کو آواز دے ۔ مجھ کو آوااااز دےےےےے

زمرہ : روز و شب, معاشرہ | 3 تبصرے »

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ فاتح

117 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Feb 07 2010

انجنیئرنگ کالج لاہور میں ہمارا ہمجماعت ” ز ” تھا ۔ اُس کا خاندان 1947ء میں یوپی سے ہجرت کر کے آیا تھا اور کراچی میں رہائش اختیار کی تھی ۔ لڑکا شریف اور محنتی تھا ۔ اُس کے متعلق مشہور تھا کہ اُس سے بحث میں سب ہار جاتے ہیں

ہمارا آخری سال شروع ہونے والا تھا گرمیوں کی چھٹیاں گذار کر واپس ہوسٹل پہنچے تھے ۔ پڑھائی دو دن بعد شروع ہونا تھی ۔ میرے کمرے میں دس بارہ ہمجماعت کرسی میز اور چارپائی پر بیٹھے تھے اور خوش گپیاں ہو رہی تھیں
ایک بولا ” ‘ ز ‘ یار اب آخری سال شروع ہو رہا ہے ۔ راز تو بتاؤ تم سب کو بحث میں کیسے مات دیتے ہو ؟”
پھر کيا تھا سب باری باری مطالبہ کرنے لگے ۔ ایک ساتھی بولا ” یہ کراچی کی ٹریننگ ہے ”
آخر ” ز ” کہنے لگا ” سُنو ۔ اس کا کراچی سے کوئی تعلق نہیں ۔ تم سب بیوقوف ہو ”
اس پر شور مچ گیا ۔ میں نے سب کو چُپ کرایا اور کہا ” یار پوچھتے ہو تو پھر سُنو بھی ”
سب خاموش ہو گئے تو ” ز ” نے کہا ” میں یہ کہا چاہ رہا تھا کہ سب کو بیوقوف سمجھو اور بولتے جاؤ ۔ دوسرے کو بولنے کا موقع نہ دو ۔ اگر کوئی لاہور کی بات کرے کراچی کی بات کرو ۔ کراچی کی بات شروع کرے تو پشاور کی بات شروع کر دو ”

پچھلے دو تین ماہ سے مجھے ” ز ” بہت یاد آ رہا ہے ۔ کیسی پتے کی بات کی تھی اُس نے

زمرہ : روز و شب, مزاح | 3 تبصرے »

اطلاع عام

155 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Feb 06 2010

میں بروز جمعہ 5 فروری اپنے گھر اسلام آباد آیا ہوں اور ان شاء اللہ سات آٹھ دن یہاں رہوں گا ۔ میرا کمپیوٹر لاہور میں ہے اس لئے اردو لکھنے میں دقت ہے

زمرہ : گذارش | 6 تبصرے »

یومِ یکجہتیءِ کشمیر

216 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Feb 05 2010

انشاء اللہ العزيز
سِتم شَعَار سے تُجھ کو چھُڑائيں گے اِک دن
ميرے وطن تيری جنّت ميں آئيں گے اِک دن
ميرے وطن ۔ ميرے وطن ۔ ميرے وطن
ہم کيا چاہتے ہيں ؟ آزادی آزادی آزادی

آج یومِ یکجہتیءِ کشمیر ہے ۔ یہ دن پہلی مرتبہ 5 فروری 1990 کو منایا گیا

انتباہ ۔ کوئی کراچی یا اسلام آباد میں رہتا ہے یا پشاور یا لاہور یا کوئٹہ میں بالخصوص وہ جو جموں کشمیر کی جد وجہد آزادی میں کوشاں لوگوں کو انتہاء پسند یا دہشتگر کہتا ہے دماغ کی کھڑکی اور آنکھیں کھول کر پڑھ لے اور یاد رکھے کہ تحریک آزادی جموں کشمیر انسانی حقوق کی ایسی تحریک ہے جو نہ صرف اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے بلکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی تین قرار دادوں اور جنرل اسمبلی کی کئی قرار دادوں کے مطابق ہے

یومِ یکجہتیءِ کشمیر کیوں اور کیسے
آج یومِ یکجہتیءِ کشمیر ہے ۔ یہ دن پہلی مرتبہ 5 فروری 1990ء کو منایا گیا ۔ میں نے اپنے دوسرے بلاگ پر ستمبر 2005ء میں کہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے دوسری مسلح جدوجہد 1989ء میں شروع ہوئی ۔ اس تحریک کا آغاز کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ کسی باہر کے عنصر کی ایما پر شروع کی گئی تھی ۔ بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہر دن کے مظالم سے مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمان تنگ آ چکے تھے اور سب سے مایوس ہونے کے بعد پاکستان سے بھی مایوسی ہی ملی – بےنظیر بھٹو نے 1988ء میں حکومت سنبھالتے ہی بھارت سے دوستی کی خاطر نہ صرف جموں کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ دغا کیا بلکہ بھارت کے ظلم و ستم کے باعث سرحد پار کر کے پاکستان آنے والے بے خانماں کشمیریوں کی امداد بند کر دی ۔ اِس صورتِ حال کے پیشِ نظر پاکستان کی چند سیاسی جماعتوں نے جن میں جماعتِ اسلامی پیش پیش تھی جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ ہمدردی کے اِظہار کے لئے 5 فروری 1990ء کو یومِ یکجہتیءِ کشمیر منانے کا فیصلہ کیا جو اُس وقت کی حکومت کی مخالفت کے باوجود عوام نے بڑے جوش و خروش سے منایا ۔ بعد میں نواز شریف کی حکومت نے 5 فروری کو چھٹی قرار دیا اور اسے سرکاری طور پر منایا اور آج تک 5 فروری کو چھٹی ہوتی ہے

اہل کشمیر سے یکجہتی کا اظہار محض روایتی نوعیت کی اخلاقی ہمدردی کا مسئلہ نہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اسی اہمیت کی وجہ سے برطانوی حکومت نے 1947ء میں پاکستان اور بھارت کی آزاد مملکتوں کے قیام کے ساتھ ہی پوری منصوبہ بندی کے تحت یہ مسئلہ پیدا کیا۔ قیام پاکستان کے بعد کوئی ایسی دشواری نہیں تھی جو برطانوی حکومت اور برصغیر میں اس کے آخری وائسرائے نے ہمارے لئے پیدا نہ کی ہو اور سب سے زیادہ کاری ضرب جو پاکستان پر لگائی جاسکتی تھی وہ مسئلہ کشمیر کی صورت میں لگائی گئی۔ کشمیر کا مسئلہ دو مملکتوں کے درمیان کسی سرحدی تنازع کا معاملہ نہیں بلکہ کشمیریوں کی ”حق خودارادیت“ کی جدوجہد پاکستان کی بقا کی جنگ ہے ۔ کشمیر کا مسئلہ برطانوی حکومت نے پیدا کرایا ۔ وہ برصغیر سے جاتے جاتے کشمیر کو بھارت کی جارحیت کے سپرد کر گئے اور اس سروے میں دلال [Middle Man] کا کردار برصغیر میں برطانیہ کے آخری وائسرائے اور آزاد بھارت کے پہلے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ادا کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی اس مملکت کے جسم پر ایک ناسور بنا دیا جائے اور اُس کے بعد بھارت محض اسلحہ کی طاقت کے زور پر کشمیریوں پر اپنی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے اور پاکستان کے تین بڑے دریا راوی چناب اور جہلم بھارت کے قبضہ میں ہیں

قوموں کی زندگی میں ایک وقت فیصلہ کا آتا ہے کہ “جھُکے سر کے ساتھ چند روز عیش قبول کرلیں” یا “سرفروشی کے ساتھ سرفرازی کی راہ اپنائیں”

جَبَر کرنے والے اذِیّتوں سے اور موت سے ڈراتے ہیں
اِیمانی توانائی موت سے نبرُد آزما ہونے کی جرأت عطا کرتی ہے۔ موت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ لذت ہوتی ہے اور جذبہءِ ایمانی کا کَیف اس لذّت کو نِکھارتا ہے
اہل جموں کشمیر اب اس لذّت سے سرشار ہو چکے ہیں ۔ یہ اللہ کا کرم ہے اہل جموں کشمیر پر اور اہل پاکستان پر بھی
اہل جموں کشمیر صرف کشمیر کیلئے حق خودارادیت کی جنگ نہیں لڑ رہے ہیں وہ پاکستان کے استحکام اور بقاء کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں
حُرِیّت کی داستانیں اِسی طرح رَقَم ہوتی ہیں ۔ بھارت کی جارحانہ طاقت اس جذبے کا مقابلہ کب تک کرے گی ؟
بھارتی فوج پوری طرح مسلح ہے لیکن وہ انسانی قدروں سے نہ صرف محروم بلکہ ان سے متصادم ہے اس لئے ناکامی اِن شاء اللہ اس کا مقدر ہے

بھارت جموں کشمیر کے لوگوں کی حقِ خودارادیت کے حصول کی جنگ کو ”دہشت گردی“ کہتا ہے جبکہ خود بھارت انسانیت کو پامال کر رہا ہے

بدقسمتی ہے میرے اُن ہموطنوں کی جنہیں اپنی آزادی کی جد و جہد کرنے والے بھی دہشتگرد دِکھتے ہیں ۔ شاید اُن کی آنکھوں پر خودغرضی کا پردہ پڑا ہے یا اُن کا ذہن ابلیس کے قبضہ میں ہے

جموں کشمیر کی جد و جہد آزادی کا مختصر جائزہ لینے کیلئے یہاں کلِک کیجئے

زمرہ : تاریخ | 8 تبصرے »

کیا امریکا میں انصاف ملتا ہے ؟

314 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Feb 04 2010

ہاں لیکن صرف اُن لوگوں کو جو مسلمان نہ ہوں اور اگر مسلمان ہوں تو صرف نام کے عملی طور پر نہیں

پاکستان میں اگر ملزم جائے واردات پر ہی گرفتار ہو جائے تو اس سے ہتھیار لے کر اُسے مخصوص تھیلے میں ڈال کر سِیل کر دیا جاتا ہے ۔ اس ہتھیار کو ہاتھ نہیں لگایا جاتا بلکہ سوتی نرم کپڑے سے پکڑا جاتا ہے ۔ موقع سے چلے ہوئے کارتوسوں کے خول تلاش کر کے وہ بھی اسی طرح سِیل کئے جاتے ہیں اور دیگر طيعی شواہد بھی اکٹھے کئے جاتے ہیں

پاکستان میں پولیس نے کتنا ہی مضبوط کیس بنایا ہو اور گواہیاں اپنے کیس کے حق میں اکٹھی کی ہوں اگر قتل میں استعمال ہونے والے پستول یا بندوق پر ملزم کی انگلیوں کے نشانات موجود نہ ہوں اور چلائے جانے والے کارتوسوں کے خول موقع سے برآمد نہ ہوں یا عدالت میں پیش نہ کئے جائیں تو عدالت ملزم کو بری کر دیتی ہے

امریکا میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران استغاثہ نے خود اس بات کو قبول کیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے جس رائفل سے امریکی اہلکاروں پر حملہ کیا تھا اس رائفل کے چلے ہوئے کارتوسوں کے خول بھی نہیں ملے اور رائفل پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے انگلیوں کے نشانات بھی نہیں مل سکے ۔ اس کے علاوہ استغاثہ نے خود بھی یہ قبول کیا تھا کہ یہ رائفل واردات کے بعد نشانات کے معائنے کیلئے محفوظ نہیں کی گئی تھی بلکہ افغان جنگ میں یہ استعمال بھی ہوچکی تھی

مندرجہ بالا حقائق کے باوجود ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو مُجرم قرار دے دیا گیا جس سے ایک بار پھر امریکی حکومت اور عدالتوں کی منافقت اور مُسلم دُشمن پالیسی کھُل کر سامنے آ گئی ہے ۔ اور ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے کہ امریکا کی نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ دراصل ایک مُسلم کُش جنگ ہے

زمرہ : خبر, منافقت | 13 تبصرے »

کراچی ۔ تازہ ترین

128 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Feb 03 2010

تین دن سے جاری ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے بعد گذشتہ رات رینجرز کو کراچی کے 26 تھانوں کی حدود میں کارروائی کااختیار دیا گیا تھا ۔ کچھ دیر قبل رینجرز کو پورے کراچی میں کارروائی کے اختیار دے دیئے گئے ہیں جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے ۔ یہ اختیار ملنے کے بعد رینجرز پولیس کے طرح ملزمان کو گرفتار کرکے ان سے تفتیش کرسکے گی ۔ مزید براں کراچی میں دفعہ144نافذ کرکے اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی بھی عائد کردی گئی ہے ۔ بمطابق جنگ اس سے قبل تیس سال پہلے رینجرز کو اس طرح اختیارات دئیے گئے تھے

زمرہ : خبر | 2 تبصرے »

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ ایک ٹیلیفون کال

170 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Feb 03 2010

ہاں ۔ ایک ٹیلیفون کال جو میں آج تک نہیں بھُلا سکا ۔ محمد خُرم بشیر بھٹی صاحب نے پردیسی کی روداد بیان کی ۔ غیر ملک میں ایک پاکستانی کی کیفیت کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے

یہ واقعہ ہے 1983ء یا 1984ء کا ہم لبیا سے واپس آ چکے تھے اور راولپنڈی سیٹیلائیٹ ٹاؤن اپنے گھر میں رہائش پذیر تھے ۔ میں روزانہ راولپنڈی سے واہ نوکری پر جاتا اور آتا تھا کیونکہ واہ میں ابھی سرکاری رہائشگاہ نہ ملی تھی ۔ عید کا دن تھا ۔ نماز پڑھ کر واپس آیا ہی تھا کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بجی ۔ ٹیلیفون اُٹھا کر السلام علیکم کہا تو آواز آئی “میں بہت دیر سے لاہور ٹیلیفون کر رہا ہوں”
میں نے بات کاٹ کر کہا “یہ تو راولپنڈی ۔۔۔”
ابھی میرا فقرہ پورا نہ ہوا تھا کہ اس نے منت کے لہجہ میں کہا ” ٹیلیفون بند نہ کریں ۔ میں امریکہ سے بول رہا ہوں ۔ میرا گھر لاہور میں ہے ۔ آج عید ہے میرا بہت دل چاہا کہ اپنے شہر کے کسی آدمی سے بات کروں ۔ کئی گھنٹے کوشش کے باوجود کسی سے بات نہ ہو سکی پھر میں نے یونہی یہ نمبر ملایا تو مل گیا ۔ بس آپ باتیں کیجئے اور مجھے میرے وطن اور میرے شہر کا بتایئے”

میں اس کے ساتھ کافی دیر باتیں کرتا رہا ۔ بالآخر میں نے اُسے کہا ” مجھے لاہور اپنے گھر کا ٹیلیفون نمبر یا پتہ لکھا دیں ۔ میں آپ کے گھر والوں کو آپ کا سلام اور عید مبارک پہنچا دوں گا ”

وہ کہنے لگا ” میرے والدین اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں اور میرا کوئی سگا بہن بھائی نہیں ۔ میں کس کو پیغام بھیجوں ؟ اپنے شہر کے کسی آدمی سے باتیں کرنا چاہتا تھا ۔ آپ سے باتیں کر کے میرے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے اور میرے وطن کو بھی سلامت رکھے”

زمرہ : آپ بيتی, مجبوری, یادیں | 8 تبصرے »

پانچواں ستون ۔ معاشرت

126 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Feb 01 2010

رُکن اور ستون ” ۔ پہلا ستون ” ایمان ” دوسرا “اخلاق” تیسرا ” انصاف” اور چوتھا “معیشت” کا بیان پہلے ہو چکا ہے
عام طور پر معاشرہ ویسا ہی ہو گا جیسا اس کی اکثریت چاہے گی ۔ معاشرہ میں بہتری لانے کیلئے دو عوامل ضروری ہیں ایک تحریک اور دوسرا رہنما ۔ اگر تحریک کو غلط رہنما مل جائے تو ساری محنت ضائع ہو جاتی ہے ۔ اگر تحریک مفقود ہو تو عام طور پر اچھے سے اچھا سربراہ بھی ناکام رہتا ہے ۔ بعض اوقات کوئی واقعہ یا حادثہ تحریک کا سبب بن جاتا ہے لیکن کبھی کبھی قوموں کو ایسے باکردار رہنما بغیر تحریک کے مل جاتے ہیں جو انہیں اندھیروں سے نکال کر اُجالوں میں لیجاتے ہیں لیکن پھر بھی قوم میں تحریک پیدا نہ ہو یا پیدا ہو کر پانی کے بُلبلے کی طرح جلد ختم ہو جائے تو قوم پھر سے اندھیروں میں بھٹکنے لگتی ہے

اسلام نے معاشرہ کے کچھ بنیادی اصول وضع کئے ہیں جو پہلے چار ستونوں پر تعمیر ہوتے ہیں یعنی ایمان ۔ اخلاق ۔ انصاف اور معیشت ۔
معاشرت کے دو پہلو ہیں ایک عمومی اور دوسرا انتظامی ۔ عمومی کا تعلق ہر فرد سے ہے اور انتظامی کا تعلق صرف منتظمین سے ہے

عمومی

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے اس سلسلہ میں واضح ہدایات اپنی کتاب میں دی ہیں جن میں سےچند یہ ہیں

سورت ۔ 4 ۔ النسآ ۔ آیت 36 ۔ اور اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ اللہ (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا
سورت ۔ 4 ۔ النسآ ۔ آیت 86 ۔ اور جب تم کو کوئی احترام کے ساتھ سلام کرے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) سلام کرو یا انہی لفظوں سے سلام کرو بےشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے
سورت ۔ 4 ۔ النسآ ۔ آیت 148 ۔ اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو اعلانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور اللہ (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے

سورت ۔ 49 ۔ الحجرات ۔ آیت 11 ۔ مومنو! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں) ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہوں۔ اور اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کا برا نام رکھو۔ ایمان لانے کے بعد بُرا نام (رکھنا) گناہ ہے۔ اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں

سورت ۔ 60 ۔ الممتحنہ ۔ آیت 3 ۔ قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناتے کام آئیں گے اور نہ اولاد۔ اس روز وہی تم میں فیصلہ کرے گا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھتا ہے

انتظامی
معاشرہ کوئی بھی ہو اس کی حوصلہ افزائی یا مایوسی کا انحصار اس کی انتظامیہ کے گفتار اور عمل میں مماثلت پر ہوتا ہے ۔
اسلامی نظام کی بہت سی مثالیں تاریخ میں مرقوم ہیں جن میں سے دو بطورِ نمونہ پیش ہیں

عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ ہے ریاست 23 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے ۔ لشکرِ اسلام کی کمان خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہے جو صحابی رسول بھی ہیں اور ايک سو سے زائد جنگوں میں حصہ لے چکے ہیں ۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک بڑے معرکہ سے واپس آ رہے ہیں ۔ لوگ ان سے بخشیش مانگتے ہیں ۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ دس ہزار درہم تقسیم کر تے ہیں ۔ اس کی اطلاع خلیفہ دوئم عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کو ملتی ہے ۔ خلیفہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو حُکم دیتے ہیں کہ جا کر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے کمان لے لیں اور ساتھ پیغام دیا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو کہیں “اگر دس ہزار درہم موسم گرما کی خوراک سے دیا ہے تو خیانت کی ہے اور اگر اپنے پاس سے دیئے ہیں تو یہ اعتدال کی حد کو چھوڑنا ہے”۔ جب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچے تو عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ۔ عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شاعر کا یہ قول پڑھا “تو نے ایک کام کیا ہے اور کسی کام کرنے والے نے تمہاری طرح کام نہیں کیا اور لوگ کچھ نہیں کرتے اللہ ہی کرتا ہے”۔ پھر فرمایا “اللہ کی قسم آپ مجھے بڑے ہی عزیز اور محبوب ہیں اور آج کے بعد کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے مجھ پر کچھ واجب ہو جائے”

جب عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ابو موسٰی رضی اللہ عنہ کو بصرہ کا امیر بنا کر بھیجا تو ان کے ہاتھ اہلِ بصرہ کے نام یہ پیغام بھیجا ” میں نے ابو موسٰی کو آپ کا امیر مقرر کیا ہے جو تمہارے طاقتور سے تمہارے کمزور کیلئے لیں گے اور تمہارے ساتھ مل کر تمہارے دشمن سے جنگ کریں گے اور تمہارے فرض کو ادا کریں گے اور تمہاری غنیمت کو تمہارے لئے اکٹھا کریں گے پھر اُسے تمہارے درمیان تقسیم کریں گے”
سورت ۔ 3 ۔ آل عمران ۔ آیت 31 ، 32 ۔ (اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔کہہ دو کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اگر نہ مانیں تو اللہ بھی کافروں کو دوست نہیں رکھتا

سورت ۔ 4 ۔ النسآء ۔ آیت 59 ۔ مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحبِ حکومت ہیں ان کی بھی ۔ اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں اللہ اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے

سورت ۔ 6 ۔ الانعام ۔ 164 ، 165 ۔ کہو کیا میں اللہ کے سوا اور پروردگار تلاش کروں اور وہی تو ہر چیز کا مالک ہے اور جو کوئی (بُرا) کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی کو ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا ۔ اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تمہاری آزمائش ہے بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب دینے والا ہے اور بےشک وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے

زمرہ : دین, روز و شب, معلومات | 4 تبصرے »

غریبوں کو کیوں مروایا جا رہا ہے ؟

219 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Jan 31 2010

کراچی میں 36 گھنٹوں میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 12 ہوگئی جبکہ 15 افراد زخمی ہیں۔ اورنگی ٹاؤن اور قصبہ کالونی سے متصل علاقوں میں جمعہ کی رات سے شروع ہونے والا فائرنگ کا سلسلہ تاحال وقفے وقفے سے جاری ہے۔پولیس کے مطابق قصبہ کالونی میں جمعہ کی شب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک سیاسی جماعت کے کارکن سمیت 2 افراد کو ہلاک کر دیا تھا ۔ جس کے بعد حالات کشیدہ ہوئے اور علاقے میں شدید فائرنگ کی گئی۔ جس کی زد میں آکر 8 افرادزخمی ہو گئے ۔ ہنگامہ آرائی کا سلسلہ ہفتے کو بھی جاری رہا ۔ جس میں اورنگی ٹاؤن ۔ سلطان آباد ۔ منگھو پیر ۔ پاپوش نگر اور نارتھ ناظم آباد میں ڈینٹل کالج کے قریب فائرنگ کے واقعات میں مزید 8 افراد ہلاک ہو گئے ۔ اس دوران نامعلوم افراد نے اورنگی ٹاؤن اور مومن آباد میں ایک بس سمیت دو گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا ۔ نارتھ ناظم آباد میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو ہلاک کردیا جبکہ شریف آباد میں فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ان واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ جبکہ آئی جی سندھ صلاح الدین بابر خٹک نے ان واقعات کو سیاسی جماعتوں میں تصادم قرار دیا

زمرہ : روز و شب, سیاست, منافقت | 12 تبصرے »

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ خطرناک مرض

267 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Jan 30 2010

ہمارے مُلک میں ایک خطرناک مرض نفوذ ہو کر وباء کی طرح پھیل چکا ہے ۔ مزید خطرناک یہ کہ جو لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں انہیں اس کا احساس نہیں اور وہ اسے مزید پھیلانے کا مُوجب بن رہے ہیں ۔ اَن پڑھ اور پڑھے لکھے ہونے کی تمیز کے بغیر یہ مرض سب کو اپنے قابو میں لے چکا ہے ۔ مرض ہے ۔ “کوئی کچھ نہیں کرتا” ۔ “یہاں کچھ نہیں ہو سکتا” ۔ “پاکستان ہے ہی ایسا”۔ کہنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ کہہ کر فرض پورا ہو گیا ۔ سوچنا یہ ہے کہ بہتری کیسے آئے گی ؟ ایسا کہنے والے لوگ خود تو تعمیرِ ملت کیلئے ایک تِنکا بھی نہیں توڑتے لیکن تقریروں اور تحریروں میں کسی سے پیچھے نہیں ۔ تھوڑا سا گھُوم پھر کر تحقیق کی جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہ استدلال حقیقی کم اور تخیّلاتی زیادہ ہے

میری عادت ہے کہ کوئی ميری کتنی ہی حوصلہ شکنی کرے میں اپنی کی سی کوشش ضرور کرتا ہوں اور اکثر اللہ سُبحانُہُ و تعالیٰ مجھے کامیاب کرتا ہے ۔ میں صرف پچھلے تین ماہ میں وقوع پذیر ہونے والی دو مثالیں بیان کروں گا

جولائی 2009ء میں ہم نے لاہور آ کر جس علاقے میں رہائش اختیار کی اُس کا پہلے کوئی عِلم نہ تھا نہ کوئی جاننے والا وہاں رہتا تھا ۔ اکتوبر کے مہینے میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی تھی کہ ہماری رہائشگاہ کی بجلی بار بار بند ہونے اور چلنے لگی ۔ محلے میں کسی سے پوچھا کہ واپڈا کا کمپلینٹ آفس کہاں ہے ؟ جواب ملا “ہم تو کبھی گئے ہی نہیں وہاں کوئی کام تو ہوتا نہیں”۔ میں نے گھر واپس آ کر بجلی کا بِل نکالا اور اُس پر پتہ ڈھونڈنے لگا کہ میری نظر پڑی لکھا تھا “بجلی کی شکائت کے سلسلہ میں اس نمبر پر اطلاع کریں”۔ میں نے ٹیلیفون کیا ۔ دو بار نمبر مصروف ملنے کے بعد مل گیا ۔ السلام علیکم کہنے کے بعد اپنا مسئلہ بتایا تو جواب ملا کہ ابھی آدمی دوسرے کمپلینٹ پر گیا ہوا ہے ایک ڈیڑھ گھنٹہ تک آپ کے پاس پہنچ جائے گا ۔ جب آدمی تین گھنٹے تک نہ آیا تو میں گاڑی لے کر نکلا ۔ قریب ہی ایک دفتر تھا وہاں جا کر پوچھا کہ واپڈا کا کمپلینٹ آفس کہاں ہے ؟ جواب پہلے والا ہی ملا ۔ اسرار کرنے پر کہا کہ ” اُدھر ڈیفنس میں کہیں ہو گا “۔ میں ڈیفنس کی طرف چل پڑا اور پوچھتے پوچھتے لیسکو [LESCO] کے دفتر پہنچ گیا ۔ وہاں کمرہ شکایات میں جا کر مدعا بیان کیا تو بتایا گیا کہ ” آدمی جا چکا ہے آپ کے گھر پہنچنے والا ہو گا” اور مجھے اُس کا موبائل فون نمبر لکھ کر دے دیا ۔ میں نے گھر پہنچ کر جب دیکھا کہ وہ نہیں پہنچا تو اُسے ٹیلیفون کیا ۔ اُس نے کہا “بس میں اِدھر سے فارغ ہو گیا ہوں اور اب آپ کے پاس ہی آ رہا ہوں”۔ پانچ منٹ میں وہ پہنچ گیا اور ہمارے گھر کی بجلی درست کر کے چلا گیا

جنوری 2010ء شروع ہوتے ہی بہت سردی شروع ہو گئی ۔ قدرتی گیس کا پریشر جو پہلے ہی زیادہ نہ تھا اتنا کم ہو گیا کہ روٹی پکنا مُشکل ہو گیا ۔ میں نے گیس کا بل نکالا اور وہاں لکھے نمبر پر ٹیلیفون کرنا شروع کیا ۔ چوتھی بار نمبر مل گیا اور کمپیوٹر کی ریکارڈڈ آواز ڈیڑھ منٹ تک سنتا رہا پھر ایک لڑکا بولا “سر”۔ میں نے السلام و علیکم کہہ کر اپنی ببتا بیان کی ۔ اُس نے کہا اپنا کنزیومر نمبر بتایئے”۔ میرے بتانے پر اُس نے کہا آدمی 24 سے 48 گھنٹے کے درمیان پہنچ جائے گا اور ساتھ مجھے میرا شکائت نمبر لکھوا دیا ۔ ہفتہ کا دن تھا صبح کے 9 بجے تھے میں نے سوچا اتوار کی چھُٹی ہے آدمی پیر کو ہی آئے گا مگر اتوار کو شام 5 بجے گھنٹی بجی میں باہر نکلا تو ایک آدمی کہنے لگا “آپ نے گیس کا کمپلینٹ کیا تھا ۔ چیک کریں پریشر ٹھیک ہو گیا ہے”۔ میں نے بھاگ کر کوکنگ رینج کے پانچوں چولہے جلا دیئے اوردرست پاکر اُس شخص کا شکریہ ادا کیا

زمرہ : روز و شب, معاشرہ | 14 تبصرے »