جب اللہ چاہے

یہ واقعہ ایک رسالے میں 2 دہائیاں قبل پڑھا تھا ۔ بطور سچا واقعہ لکھا تھا
رات کے ساڑھے 11 بجے تھے ۔ تیز طوفانی بارش تھی ایسے میں ایک شاہراہ کے کسی ویران حصّے میں ایک کار خراب ہوگئی ۔ اسے ایک ادھڑ عمر خاتون چلا رہی تھی جو اکیلی تھی ۔ وہ خاتون کار سے باہر نکل کر شاہراہ کے کنارے کھڑی ہوگئی تا کہ کسی گذرنے والی گاڑی سے مدد لے سکے ۔

اتفاق سے ایک البیلا جوان اپنی عمدہ نئی کار چلاتے جا رہا تھا کہ اس کی نظر اس بھیگی ہوئی خاتون پر پڑی ۔ نجانے وہ کیوں اپنی عادت کے خلاف رُک گیا اور تیز بارش اور گاڑی گندی ہونے کی پروا کئے بغیر باہر نکل کر خاتون کا بیگ اٹھایا اور خاتون کو اپنی کار میں بٹھا کر چل پڑا ۔ آبادی میں پہنچ کر اسے ٹیکسی پر بٹھا کر رخصت کیا ۔ خاتون بہت پریشان اور جلدی میں تھی ۔ اس جوان کا پتہ نوٹ کیا اور شکریہ کہہ کر رخصت ہوئی ۔

ہفتہ عشرہ بعد اس جوان کے گھر کی گھنٹی بجی ۔ باہر نکلا تو ایک کوریئر کا ٹرک کھڑا تھا اس میں سے ایک شخص نکلا اور کہا “جناب آپ کا ٹی وی “۔ جوان حیران ہو ہی رہا تھا کہ کوریئر والے نے اسے ایک خط دیا ۔ جلدی سے کھولا ۔ لکھا تھا ” میں آپ کی بہت مشکور ہوں ۔ آپ نے آدھی رات کے وقت شاہراہ پر میری مدد کی جس کے باعث میں اپنے قریب المرگ خاوند کے پاس اس کی زندگی میں پہنچ گئی اور اس کی آخری باتیں سن لیں ۔ میں آپ کی ہمیشہ مشکور رہوں گی ۔ اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے اور آپ دوسروں کی بے لوث خدمت کرتے رہیں ۔ آمین ۔ آپ کی ممنون ۔ بیگم ۔ ۔ ۔ “

ہم بھی ترقی یاقتہ ہو گئے

چھوڑ کر کتاب ہم نے Mobile Phone تھام لئے
گھٹتی رہی عمر ہماری اور ہم post کرتے رہے
بھیج کر ہم message خود کو دِیندار سمجھتے رہے
غافل رہے قرآن سے اور حدیث share کرتے رہے
آتی رہی پانچوں وقت مسجد سے اذان کی آواز
ہم Facebook پر شام و برما کے ظُلم share کرتے رہے

محبت کا صلہ

جب کسی سے آپ بے پناہ محبت کریں
ضروری نہیں کہ وہ آپ سے محبت کرنے لگے
محبت کے بدلے میں محبت کی امید نہ رکھیئے
اس کے دل میں محبت جاگنے کا انتظار کیجئے
اس کے دل میں نہ بھی جاگے تو کم از کم آپ کے دل میں تو پیدا ہوئی
اور یہی آپ کی محبت کا صلہ ہے

آج کا دن اہم کیوں ؟

آج 24 اکتوبر ہے ۔ يہ دن کيوں اہم ہے ؟ اس کا پس منظر اور پيش منظر ميں اِن شاء اللہ ايک ہفتہ تک بيان کروں گا آج کی تحرير صرف 24 اکتوبر کے حوالے سے

ٹھیک آج سے 64 سال قبل جموں کشمیر کے مسلمانوں نے اپنے وطن پر بھارت کے طاقت کے زور پر ناجائز قبضہ کے خلاف اعلانِ جہاد کیا جو کہ ایک لاکھ سے زائد جانوں کی قربانی دینے کے باوجود آج تک جاری ہے ۔ انشاء اللہ یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی

کہتے ہیں ہر دم یہ جموں کشمیر کے مسلماں
اے وطن تیری آزادی تک چین سے نہ بیٹھیں گے

اعلانِ جہاد ۔ بھارتی فوج اور برطانوی فضائیہ کے حملے

راشٹريہ سيوک سنگ ۔ ہندو مہاسبھا اور اکالی دَل نے ضلع جموں کے مضافات اور دو دوسرے ہندو اکثريتی اضلاع ميں مسلمانوں کا قتلِ عام اور اُن کی فصلوں اور گھروں کو جلانا تو پہلے ہی شروع کر رکھا تھا ۔ اکتوبر 1947ء کے شروع ہی ميں اُن کی طرف سے يہ اعلان بر سرِ عام کيا جانے لگا کہ “مُسلے [مسلمان] عيد پر جانوروں کی قربانی کرتے ہيں ۔ ہم اس عيد پر مُسلوں کی قربانی کريں گے”۔ چنانچہ جمعہ 24 اکتوبر 1947ء کو جس دن سعودی عرب میں حج ہو رہا تھا جموں کشمیر کے مسلمانوں نے اپنے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جہاد کا اعلان کر دیا اور مسلح تحریک آزادی شروع ہو گئی ۔ مجاہدین نے ایک ماہ میں مظفرآباد ۔ میرپور ۔ کوٹلی اور بھمبر آزاد کرا کے جموں میں کٹھوعہ اور کشمیر میں سرینگر اور پونچھ کی طرف پیشقدمی شروع کر دی ۔ یہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے چوتھی مگر پہلی مسلح تحریک تھی

ان آزادی کے متوالوں کا مقابلہ شروع میں تو مہاراجہ ہری سنگھ کی ڈوگرہ فوج سے تھا مگر اکتوبر کے آخر میں بھارتی فوج بھی ان کے مقابلے پر آ گئی اور ہندوستان کے برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے فضائی حملوں کے لئے برطانوی فضائیہ کو برما سے جموں کشمیر کے محاذ پر منتقل کروا دیا ۔ برطانوی فضائیہ کی پوری کوشش تھی کہ کشمير کو پاکستان سے ملانے والا کوہالہ پُل توڑ دیا جائے لیکن اللہ سُبْحَانہُ وَ تعالٰی کو یہ منظور نہ ہوا اور بمباری کے باوجود پُل محفوظ رہا

اس جنگ آزادی میں حصہ لینے والے کچھ مسلمان دوسری جنگ عظیم میں یا اس کے بعد برطانوی یا مہاراجہ کی فوج میں رہ چکے تھے اور جنگ کے فن سے واقف تھے ۔ باقی عام شہری تھے ۔ ان کے پاس زیادہ تر پہلی جنگ عظیم میں استعمال ہونے والی طرّے دار بندوقیں تھیں اور دوسری جنگ عظیم کے بچے ہوئے ہینڈ گرنیڈ تھے ۔ توپیں وغیرہ کچھ نہ تھا جبکہ مقابلہ میں بھارتی فوج ہر قسم کے اسلحہ سے لیس تھی اور برطانوی فضائیہ نے بھی اس کی بھرپور مدد کی

بے سروسامانی کی حالت میں صرف اللہ پر بھروسہ کر کے شہادت کی تمنا دل میں لئے آزادی کے متوالے آگے بڑھنے لگے ۔ وزیرستان کے قبائلیوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کی امداد کے لئے جہاد کا اعلان کر دیا اور ان کے لشکر جہاد میں حصہ لینے کے لئے جموں کشمیر کے آزاد کرائے گئے علاقہ ميں پہنچنا شروع ہوگئے ۔ چند پاکستانی فوجی بھی انفرادی طور پر جہاد میں شامل ہو گئے ۔ اللہ کی نُصرت شامل حال ہوئی اور ڈوگرہ اور بھارتی فوجیں پسپا ہوتی گئيں یہاں تک کہ مجاہدین پونچھ کے کافی علاقہ کو آزاد کرا کے پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف پیشقدمی کرتے ہوئے کٹھوعہ کے قریب پہنچ گئے

نغمہ ميرے وطن
پاکستان ريڈيو سے روزانہ سُنايا جانے والا نغمہ جو پچھلے 10 سال سے نہيں سُنايا جا رہا ۔ سُنئے پہلی اور اصل حالت ميں [The original version]جموں کشمير کے مناظر کے ساتھ

کرِيو مَنز جِرگاز جائے چمنو
ستم شعار سے تجھ کو چھڑائیں گے اک دن
میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن

ملکوں اور اداروں میں جب کرپشن کا دور دورہ ہو اور سربراہ نااہل ہوں تو تباہی کس طرح آتی ہے

ایک دن حکمران محل میں بیٹھا تھا کہ محل کے باہر سیب فروش کو آواز لگاتے ہوئے سنا ”سیب لے لو ۔ سیب“۔
حاکم نے دیکھا کہ دیہاتی گدھے پر سیب لادے جارہا ہے۔ وزیر سے کہا ” خزانے سے 5 سونے کے سکےلو اور ایک سیب لاؤ“۔
”یہ 4 سونے کے سکے لیں اور ایک سیب لائیں“۔ وزیر نے خزانے سے 5 سکے نکالے اور اپنے معاون سے کہا
” سونے کے یہ 3 سکے لیں اور ایک سیب لائیں”۔ معاون وزیر نے محل کے منتظم کو بلایا اور کہا
منتظم نےچوکیداری منتظم کو بلایا اور کہا ” یہ 2 سونے کے سکے لیں اور ایک سیب لائیں“۔
چوکیداری کے منتظم نے گیٹ سپاہی کو بلایا اور کہا ” یہ ایک سونے کا سکہ لو اور ایک سیب لاؤ“۔

سپاہی سیب والے کے پیچھے گیا اور اسے گریبان سے پکڑ کر کہا ”دیہاتی انسان ۔ تم اتنا شور کیوں کر رہے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم کہ یہ بادشاہ کا محل ہے اور تم نے دل دہلا دینے والی آوازوں سے بادشاہ کی نیند میں خلل ڈالا ہے۔ اب مجھے حکم ہے کہ تجھ کو قید کر دوں“۔
سیب فروش محل کے سپاہی کے قدموں میں گر گیا اور کہا ” میں نے غلطی کی جناب ۔ اس گدھے کا بوجھ میری محنت کے ایک سال کا نتیجہ ہے ۔ یہ لے لو لیکن مجھے قید کرنے سے معاف رکھو“۔
سپاہی نے سیب لئے اور آدھے اپنے پاس رکھے اور باقی اپنے منتظم افسر کو دے دیئے۔ منتظم افسر نے بقیہ میں سے آدھے رکھے اور آدھے اُوپر کے افسر کو دے دیئے
افسر نے ان سیبوں کا آدھا حصہ محل کےمنتظم کو دیا
محل کے منتظم نے باقی باقیہ سیبوں کے آدھے سیب اپنے لئے رکھے اور آدھے اسسٹنٹ وزیر کو دیئے
اسسٹنٹ وزیر نے اُن مین سے آدھے سیب اٹھائے اور وزیر کے پاس جا کر کہا ” ان سیبوں کی قیمت 4 سونے کے سکے ہیں“۔
وزیر نے اُن میں سے آدھے سیب اپنے لئے رکھے اور اس طرح صرف پانچ سیب لے کر حکمران کے پاس گیا اور کہا ” یہ 5 سیب ہیں جن کی مالیت 5 سونے کے سکے ہیں“۔

حاکم نے سوچا کہ اس کے دور حکومت میں لوگ واقعی امیر اور خوشحال ہیں
کسان نے 5 سیب 5 سونے کے سکوں کے عوض فروخت کئے
یعنی ایک سونے کے سکے کا ایک سیب اور لوگ ایک سونے کے سکے کے عوض ایک سیب خریدتے ہیں
یعنی وہ امیر ہیں
اس لئے بہتر ہے کہ ٹیکس میں اضافہ کیا جائے اور محل کے خزانے کو بھر دیا جائے
نتیجہ یہ ہوا کہ عوام میں غربت اور بڑھ گئی

(فارسی ادب سے ماخوذ)