دِل کی بات

32 بار دیکھا گیا

کچھ نہیں مانگتے ہم لوگ بجز اِذن کلام
ہم تو انسان کا بے ساختہ پن مانگتے ہیں
فقط اِس جرم میں کہلائے گنہ گار کہ ہم
بہر ناموسِ وطن ۔ جامہ تن مانگتے ہیں
لمحہ بھر کو تو لبھا جاتے ہیں نعرے لیکن
ہم تو اے اہلِ وطن ۔ دردِ وطن مانگتے ہیں
احمد ندیم قاسمی

قرآن شریف یا آپ ؟ ؟ ؟

66 بار دیکھا گیا

اہم یہ نہیں ہے کہ آپ قرآن شریف کی تعلیم میں کہاں تک پہنچے ہیں
بلکہ اہم یہ ہے کہ قرآن شریف نے آپ کے اندر کتنا گھر کیا ہے

اہم یہ نہیں کہ آپ نے کتنی بار قرآن شریف پڑھا
اہم یہ ہے کہ لوگوں کو قرآن شریف آپ کے عمل میں نظر آئے
اور وہ اس طرح کہ
جن کے پاس کپڑے نہیں ہیں اُنہیں کپڑے پہنائیں
جو بھوکے ہیں ، اُنہیں کھانا کھلائیں
یتیموں اور مُفلِسوں کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں
جو آپ کو تکلیف پہنچائے اُسے معاف کر دیں
جو آپ کی مدد کرے اُسے یاد رکھیں
اپنے والدین کی خدمت کریں اور اُن کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں

دبئی ہسپتال کا ایک منظر

72 بار دیکھا گیا

یہ تصویر سعودی جرمن ہسپتال ۔ دبئی کے وی آئی پی مریضوں کیلئے ایک کمرے کے اندر سے لی گئی ہے
hospital-window
کیسی خوبصورت ہریالی ہے ؟
۔
۔
۔
۔
۔
دھوکہ کھا گئے نا ؟
جناب ۔ کھڑی سے باہر ساتھ والے بلاک کی چھت ہے
یہ کھڑکی کے شیشے پر پینٹنگ ہے

باپ

57 بار دیکھا گیا

ماں کی متعلق بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے اور درست بھی ہے
باپ کے بارے میں بہت کم کہا یا لکھا گیا ہے
چند شعر باپ کے متعلق

باپ ہے تو روٹی ہے کپڑا ہے مکان ہے
باپ ننھے سے پرندے کا بڑا آسمان ہے
باپ سے ماں کی چوڑی ۔ بندیا اور مان ہے
باپ ہے تو گھر ہے اور گھرانے کا سامان ہے
باپ ہے تو بچوں کے سارے سَپنے اپنے ہیں
باپ ہے تو بازار کے سارے کھلونے اپنے ہیں

خوشیاں حاصل کرنے کا طریقہ

116 بار دیکھا گیا

ایک سیمینار میں 50 لوگ شریک تھے ۔ مقرر نے سب کو ایک ایک غبارہ دے کر کہا ”سب اپنے اپنے غبارے پر اپنا نام لکھیں”۔
جب سب نے نام لکھ لئے تو سارے غبارے ایک کمرے میں ڈال دیئے گئے اور سب کو 5 منٹ میں اپنا اپنا غبارہ تلاش کر کے لانے کا کہا گیا
سب اپنے غبارے تلاش کرنے میں لگ گئے ۔ اس بھگدڑ میں کئی غبارے پاؤں کے نیچے آ کر پھٹ گئے اور 5 منٹ میں کسی کو اپنا غبارہ نہ ملا

یہی عمل دوہرایا گیا لیکن اس بار یہ کہا گیا کہ ”جو غبارہ کسی کے ہاتھ میں آئے وہ اس پر نام دیکھ کر جس کا وہ ہے اُسے دے دے”۔
اس طرح 5 منٹ میں سب کو اپنے اپنے غبارے مل گئے

مقرر نے سب کو مخاطب کر کے کہا ” اسی طرح ہماری زندگی ہے ۔ ہم اپنی خوشیاں تلاش کرتے ہوئے افراتفری میں دوسروں کی خوشیاں پاؤں کے نیچے کُچل دیتے ہیں ۔ ہم لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ ہماری خوشیاں دوسروں کے ساتھ وابسطہ ہیں ۔ ہم دوسروں کو اُن کی خوشیاں دیں گے تو ہمیں ہماری خوشیاں بھی مِل جائیں گی اور یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے“۔

مزید زندگی کا مقصد جاننے کیلئے یہاں کلِک کیجئے

انسانی بوالعجمیاں

83 بار دیکھا گیا

یہ کیا کہ سورج پہ گھر بنانا اور اُس پہ چھاؤں تلاش کرنا
کھڑے بھی ہونا تو دَلدَلوں پہ ۔ پھر اپنے پاؤں تلاش کرنا
نِکل کے شہر میں آ بھی جانا چمکتے خوابوں کو ساتھ لیکر
بلند و بالا عمارتوں میں ۔ پھر اپنے گاؤں تلاش کرنا
کبھی تو بیعت فروخت کر دی ۔ کبھی تمثیلیں فروخت کر دیں
میرے وکیلوں نے میرے ہونے کی سب دلیلیں فروخت کر دیں
وہ اپنے سورج تو کیا جلاتے ۔ میرے چراغوں کو بیچ ڈالا
فراک اپنے بچا کے رکھے ۔ میری سبیلیں فروخت کر دیں
خدا ہیں لوگ گناہ و ثواب دیکھتے ہیں
ہم تو روز ہی روز حساب دیکھتے ہیں
کُچل کُچل کے فُٹ پاتھ کو ۔ نہ چلو اِتنا
یہاں پہ مزدور رات کو خواب دیکھتے ہیں
(کلام ۔ سلمان)

قارئین سے درخواست

91 بار دیکھا گیا

میں مکمل سنجیدگی کے ساتھ یہ درخواست کر رہا ہوں
تمام قارئین سمجھدار ہیں اس لئے اُن سے سنجیدہ جوابات کی اُمید رکھتا ہوں

میں نے آپ کا حق مارا ہو یا آپ کا حق ادا نہ کیا ہو یا آپ کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہو
یا آپ کے عَلم میں ہو کہ میں نے کسی کے ساتھ ایسا کیا تھا
تو
از راہ کرم مجھے مطلع فرمایئے تاکہ میں اس کا ازالہ کر سکوں
میں آپ کا مشکور ہوں گا