183 بار دیکھا گیا

67 سال قبل آج کے دن

30 نومبر 2014ء کو عمران خان نے 6 مطالبات دہرانے کے بعد اعلان کیا ”۔ ۔ ۔ ۔ میں 16 دسمبر کو پاکستان بند کر دوں گا“۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ ٹی وی پر مجیب الرحمٰن 6 مطالبات پیش کرتے ہوئے اعلان کر رہا ہے کہ ”مطالبات نہ مانے گئے تو میں پاکستان بند کر دوں گا”۔ اُس نے سونار بنگلہ بنانے کا اعلان کیا تھا پھر 16 دسمبر 1971ء کو بھارت کی مدد سے اُس نے سونار بنگلہ بنا دیا ۔ عمران خان بھی نیا پاکستان بنانے کا دعوٰی کر رہا ہے ۔ میں سوچ رہا تھا اور سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ عمران خان کس مٹی سے بنا ہے کہ اسے مُلک اور قوم کے ساتھ پیش آنے والا اتنا بڑا سانحہ بھی یاد نہیں اور اُسی تاریخ کو پاکستان کو بند کرنے کا دعوٰی کر رہا ہے

16 دسمبر 1971ء
کو میں نے بہت آنسو بہائے تھے ۔ میرے ایک پرانے کولیگ کرنل میاں محمد اسلم جو مکینیکل انجنیئر تھے نے مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کے صدمہ کے زیرِ اثر فوج سے مستعفی ہو کر داڑھی رکھ لی تھی اور اللہ اللہ میں مشغول ہو گئے تھے ۔ پوچھنے پر بتایا تھا کہ ”یہ سانحہ ہماری بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے“۔

سوچتے سوچتے پاکستان بننے کے دنوں میں پہنچ گیا ۔ مجھے آج کی تاریخ یاد آئی جب 1947ء میں اپنی 2 بڑی بہنوں (12 سال اور 15 سال) کے ساتھ گھر والوں سے پونے تین ماہ بچھڑے رہنے کے بعد ہجرت کر کے لاوارث بچوں کے قافلے میں پاکستان پہنچا تھا ۔ 18 دسمبر 1947ء سے قبل کے حالات کا خلاصہ میں مندرجہ ذیل تاریخوں کو شائع کر چکا ہوں
میرا بچپن ۔ 14 مارچ 2011ء کو شائع ہوا
قتلِ عام کی ابتداء ۔ 30 اکتوبر 2010ء کو شائع ہوا
میری ہتھیلیاں کانٹوں سے چھلنی ۔ 9 نومبر 2010ء کو شائع ہوا
6 نومبر کا قتلِ عام ۔ 6 نومبر 2014ء کو شائع ہوا

ہماری روانگی اور پاکستان آمد
ہمارے پڑوسی کرنل عبدامجید کے بھائی جموں میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ تھے ۔ نومبر 1947ء کے وسط میں وہ چھاؤنی آئے اور بتایا کہ” شیخ محمد عبداللہ کو وزیراعظم بنا دیا گیا ہے اور اُمید ہے کہ امن ہو جائے گا ۔ جموں کے تمام مسلمانوں کے مکان لوٹے جاچکے ہیں اور تمام علاقہ ویران پڑا ہے” ۔ واپس جا کر انہوں نے کچھ دالیں چاول اور آٹا وغیرہ بھجوا دیا ۔ چار ہفتہ بعد ایک جیپ آئی اور ہمارے خاندان کے چھ بچوں یعنی میں میری 2 بہنیں ۔ 2 سیکنڈ کزنز اور اُن کی پھوپھو کو جموں شہر میں کرنل ریٹائرڈ پیر محمد کے گھر لے گئی ۔ وہاں قیام کے دوران ہمیں معلوم ہوا کہ 6 نومبر کو مسلمانوں کے قافلے کے قتل عام کا منصوبہ انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا اور نشنل کانفرنس کے مسلمانوں کے عِلم میں بھی وقوعہ کے بعد آیا ۔ وہاں کچھ دن قیام کے بعد ہمیں زخمی عورتوں اور دیگر لاوارث بچوں کے ساتھ مدراسی فوجیوں کی حفاظت میں 18دسمبر 1947ء کو سیالکوٹ پاکستان بھیج دیا گیا

ہمارے بغیر ہمارے بزرگوں کی جو ذہنی کیفیت ہوئی اُس کا اندازہ اِس سے لگائیے کہ جب ہماری بس سیالکوٹ چھاؤنی آ کر کھڑی ہوئی تو میری بہنوں اور اپنی بیٹی کے نام لے کر میری چچی میری بہن سے پوچھتی ہیں “بیٹی تم نے ان کو تو نہیں دیکھا” ۔ میری بہن نے کہا “چچی جان میں ہی ہوں آپ کی بھتیجی اور باقی سب بھی میرے ساتھ ہیں”۔ لیکن چچی نے پھر وہی سوال دہرایا ۔ ہم جلدی سے بس سے اتر کر چچی اور پھوپھو سے لپٹ گئے ۔ پہلے تو وہ دونوں حیران ہوکر بولیں ” آپ لوگ کون ہیں ؟ ” پھر ایک ایک کا سر پکڑ کر کچھ دیر چہرے دیکھنے کے بعد اُن کی آنکھوں سے آبشاریں پھوٹ پڑیں ۔ کچھ دیر بعد ذرا سنبھلیں تو ہماری رجسٹریشن کروائی اور حوالگی لے کر سیالکوٹ شہر چلے گئے جہاں وہ ہمارے ایک رشتہ دار کے ہاں سکونت پذیر تھے

پاکستان پہنچ کر ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے دادا کا جوان بھتیجا جموں میں گھر کی چھت پر بھارتی فوجی کی گولی سے شہید ہوا ۔ باقی
عزیز و اقارب 6 نومبر کے قافلہ میں گئے تھے اور آج تک اُن کی کوئی خبر نہیں ۔ میں لکھ چکا ہوں کہ میرے والدین فلسطین میں تھے اور ہم دادا ۔ دادی اور پھوپھو کے پاس تھے ۔ میرے دادا ۔ دادی اور پھوپھو بھِیڑ بھاڑ سے گبھرانے والے لوگ تھے اِس لئے انہوں نے پہلے 2 دن کے قافلوں میں روانہ ہونے کی کوشش نہ کی تھی ۔ جو عزیز و اقارب پہلے 2 دن کے قافلوں میں روانہ ہوئے ان میں سے ایک بھی زندہ نہ بچا تھا

جب ہمارے بزرگ ابھی پولیس لائینز جموں میں تھے تو چند مسلمان جو 6 نومبر کے قافلہ میں گئے تھے وہ چھپتے چھپاتے کسی طرح 7 نومبر کو فجر کے وقت پولیس لائینز پہنچے اور قتل عام کا حال بتایا ۔ یہ خبر جلد ہی سب تک پہنچ گئی اور ہزاروں لوگ جو بسوں میں سوار ہو چکے تھے نیچے اتر آئے ۔ وہاں مسلم کانفرنس کے ایک لیڈر کیپٹن ریٹائرڈ نصیرالدین موجود تھے انہوں نے وہاں کھڑے سرکاری اہلکاروں کو مخاطب کر کے بلند آواز میں کہا
“پولیس لائینز کی چھت پر مشین گنیں فِٹ ہیں اور آپ کے فوجی بھی مستعد کھڑے ہیں انہیں حُکم دیں کہ فائر کھول دیں اور ہم سب کو یہیں پر ہلاک کر دیں ہمیں بسوں میں بٹھا کے جنگلوں میں لے جا کر قتل کرنے سے بہتر ہے کہ ہمیں یہیں قتل کر دیا جائے اس طرح آپ کو زحمت بھی نہیں ہو گی اور آپ کا پٹرول بھی بچےگا “۔
چنانچہ 7 اور 8 نومبر کو کوئی قافلہ نہ گیا ۔ اسی دوران شیخ عبداللہ جو نیشنل کانفرنس کے صدر تھے کو وزیراعظم بنا دیا گیا ۔ اس نے نابھہ اور پٹیالہ کے فوجیوں کو شہروں سے ہٹا کر ان کی جگہ مدراسی فوجیوں کو لگایا جو مسلمان کے قتل کو ہم وطن کا قتل سمجھتے تھے ۔ میرے دادا ۔ دادی ۔ پھوپھو اور خاندان کے باقی بچے ہوئے 3 لوگ 9 نومبر 1947ء کے قافلہ میں بسوں پر پاکستان کی سرحد سے کچھ دور پہنچے ۔ بسوں سے اتر کر کئی کلو میٹر پیدل چل کر سرحد پار کر کے سیالکوٹ چھاؤنی پہنچے تھے

205 بار دیکھا گیا

وہ میرے تھے

پھول تو دو دن کے لئے بہارِ جانفزا دکھلا گئے
حَیف ایسے غُنچوں پہ جو بِن کھِلے مُرجھا گئے

میری پیاری ماں ۔ 1965ء کے شروع میں نے سُنا تھا کہ جب آپ کسی سے کہہ رہی تھیں ”میرا بیٹا اجمل بہت صابر ہے ۔ یہ اپنی تکلیف ظاہر نہیں ہونے دیتا ۔ کتنی بھی تکلیف ہو ایک آنسو تک نہیں بہاتا ۔ میں اس کیلئے اس جیسی ہی بہو لاؤں گی“۔
پھر جب میں 1979ء میں سب سے چھوٹی بہن کی شادی پر آیا ہوا تھا تو آپ کو میری بڑی بہن سے کہتے سُنا تھا ”اب مجھے اجمل کی فکر ہے ۔ دوسروں کی خدمت میں رہتا ہے ۔ بڑی سے بڑی تکلیف برداشت کرتا ہے اور معلوم نہیں ہونے دیتا“۔
ماں ۔ آپ کا بیٹا آپ کا بھرم نہیں رکھ سکا ۔ شاید آپ میرا صبر 1980ء میں اپنے ساتھ ہی لے گئی تھیں ۔ آپ کے اچانک چلے جانے کے بعد میں کئی دن آنسو بہاتا رہا تھا ۔ اُس کے بعد کل سے پھر آنسو بہا رہا ہوں ۔ ماں ۔ میں اُن سے کبھی نہیں ملا تھا ۔ میں اُنہیں جانتا نہیں تھا مگر میں کیا کروں ماں ۔ وہ سب میرے تھے ۔ ایک نہیں ایک درجن نہیں پورے 132 گھروں کی رونقیں یکدم چلی گئیں

آہ فلک پہ جاتی ہے رحم لانے کیلئے
بادلو ہٹ جاؤ ۔ دے دو راہ جانے کیلئے
اے دعا پھر عرض کرنا عرشِ الٰہی تھام کے
پھیر دے اے خدا ۔ دن گردشِ ایام کے
اے مددگارِ غریباں ۔ اے پناہِ بے کسان
اے نصیرِ عاجزاں ۔ اے مایہءِ بے مائگاں
خلق کے راندے ہوئے دنیا کے ٹھُکرائے ہوئے
آئے ہیں آج در پہ تیرے ہاتھ پھیلائے ہوئے
خوار ہیں بدکار ہیں ۔ ڈوبے ہوئے ذلت میں ہیں
کچھ بھی ہے لیکن تیرے محبوب کی اُمت میں ہیں
اے خدا ۔ رحم کر اپنے نہ آئینِ کرم کو بھول جا
ہم تُجھے بھُولے ہیں لیکن تُو نہ ہم کو بھُول جا

264 بار دیکھا گیا

دل خون کے آنسو روتا ہے

الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ

ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ( سورۃ البقرہ ۔ آیت 56)

پشاور میں ورسک روڈ پر بہار کالونی کے قریب واقع اسکول میں صبح 10 بجے 6 سے زائد دہشتگردوں نے داخل ہو کر بچوں پر براہ راست گولیاں چلائیں اورکچھ بچوں کو یرغمال بنالیا ۔ سیکورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہو ئے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ۔ فوجی دستوں کا ریسکیو آپریشن جاری ہےاور دہشتگردوں سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے ۔ دہشت گردوں کے حملے میں 84 بچے شہید 100 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں ۔ زخمیوں میں 42 کی حالت نازک ہے ۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ۔ دہشت گردوں کے حملے میں 132 افراد شہید 140 زخمی ہوگئے ہیں جن میں بہت بھاری تعداد بچوں کی ہے

تمام پاکستانی بہنوں اور بھائیوں سے درخواست ہے کہ مندرجہ ذیل آیت کا کثرت سے ورد کریں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں

لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ

تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے (اور) بیشک میں قصوروار ہوں

114 بار دیکھا گیا 219 بار دیکھا گیا

تبدیلی نہیں آئے گی

میں نے ساڑھے تین سال قبل لکھا تھا ”انقلاب نہيں آئے گا“۔۔ 3 سال میں موسم بدل گیا ہے اسلئے اُس میں ترمیم کر کے لکھ رہا ہوں

جب تک ٹریفک رولز نہ مانیں ۔ درست ڈرائیور کو رستہ نہ دیں
تبدیلی نہیں آئے گی ۔ تبدیلی نہیں آئے گی
جب تک اپنے حقوق کا روئيں ۔ دوسرے کا حق نہ پہچانيں
تبدیلی نہیں آئے گی ۔ تبدیلی نہیں آئے گی
جب تک ہے آپا دھاپی ۔ ہر آدمی دوسرے پہ شاکی
تبدیلی نہیں آئے گی ۔ تبدیلی نہیں آئے گی
جب تک اپنے کو پڑھا لکھا ۔ دوسرے کو جاہل جانيں
تبدیلی نہیں آئے گی ۔ تبدیلی نہیں آئے گی
جب تک نظر نہ آئے اپنا شہتير ۔ دوسرے کی آنکھ کا تِنکا ناپيں
تبدیلی نہیں آئے گی ۔ تبدیلی نہیں آئے گی
جب تک چرغے کا منہ چڑھائيں ۔ کے ايف سی کو بھاگے جائيں
تبدیلی نہیں آئے گی ۔ تبدیلی نہیں آئے گی
جب تک کراچی حلوے کو حقير جانیں ۔ پیٹ بھر کر والز کھائيں
تبدیلی نہیں آئے گی ۔ تبدیلی نہیں آئے گی
جب تک کہیں چپل کباب بُرا ۔ ميکڈانلڈ پر رال ٹپکائیں
تبدیلی نہیں آئے گی ۔ تبدیلی نہیں آئے گی
جب تک چھوڑ کر سجّی ۔ بھاگے وِليج اور سب وے جائيں
تبدیلی نہیں آئے گی ۔ تبدیلی نہیں آئے گی
جب تک بھول کے قومی مفاد ۔ کھوليں گے انفرادی محاذ
تبدیلی نہیں آئے گی ۔ تبدیلی نہیں آئے گی
جب تک شرم و حياء کو بھُولیں ۔ لڑکا لڑکی برملا ناچيں
تبدیلی نہیں آئے گی ۔ تبدیلی نہیں آئے گی
جب تک چھوڑ ذاتی بکھيڑے ۔ سب پاکستانی نہ ہو جائيں
تبدیلی نہیں آئے گی ۔ تبدیلی نہیں آئے گی

135 بار دیکھا گیا 279 بار دیکھا گیا

پیار کا تیسرا رُخ ۔ میری بڑی پوتی

میں چھوٹی پوتی ھناء اور پوتے ابراھیم کے متعلق لکھ چکا ہوں

میری بڑی پوتی مِشَیل ماشاء اللہ 10 سال 4 ماہ کی ہونے کو ہے ۔ مِشَیل میرے بڑے بیٹے زکریا کی بیٹی ہے ۔ اتفاق سے آج زکریا کا یومِ پیدائش ہے ۔ مِشَیل کا مطلب ہے ۔ خدا داد ۔ مبارک ۔ مقدس ۔ متبرک ۔ معظم ۔ جنتی ۔ پاک
میں ھناء کے معنی لکھنا بھول گیا تھا ۔ ھناء کے معنی ہیں ۔ خوشی ۔ خوش نصیبی ۔ اقبال مند ۔ چَین 557945_10151296964466082_1711616824_n
مِشَیل دسمبر 2005ء میں پاکستان آئی اور ہمیں پہلی بار دیکھا ۔ خیال تھا ہم سے ڈرے گی ۔ ہم اسلام آباد ایئر پورٹ پر گئے ہوئے تھے ۔ میں نے دیکھ کر بُلایا ۔ جواب میں مسکراہٹ ملی تو حوصلہ ہوا ۔ سبحان اللہ ۔ اللہ کیسے بچے کے دل میں اُس کے اپنوں کی پہچان ڈال دیتا ہے ۔ ایک دو دن میں ہم سے مانوس ہو گئی

پیار کا اظہار اس طرح تھا کہ مشل چھُپے اور میں اُسے تلاش کروں ۔ پھر یہ شروع کیا کہ کارڈلیس ٹیلیفون لے جا کر چھُپ جاتی اور آواز دیتی ”دادا“۔ اُن دنوں شاید یہی ایک لفظ سیکھا تھا ۔ سب کو دادا کہہ کر بُلاتی تھی
429497_10150620312113264_619028263_9226412_1441397003_n
واپس جانے کے بعد جب باتیں سیکھیں تو ہم سے ٹیلیفون پر لمبی باتیں کرتی ۔ ایک تو مدھم آواز میں بولتی دوسرے کچھ اپنی ہی زبان بولتی چنانچہ ہمیں خال خال ہی سمجھ آتی

پھر اس نے بچوں والی نظمیں یاد کر لیں اور وہ ہمیں ٹیلیفون پر سناتی رہتی

جب سکائپ چالو ہوا تو بھاگ کر کمپیوٹر کے کیمرے کے سامنے سے گذر جاتی یا پھر اپنے کھلونے اور چیزیں یا انعامات کیمرے کے سامنے رکھ کر دکھاتی لیکن خود سامنے نہیں آتی تھی
1902769_10152250239996082_4869228153671232468_n
یہ طریقہ ابھی تک جاری ہے ۔ اتنا فرق پڑا ہے کہ اب بیٹھ کر ہمارے ساتھ باتیں بھی کرتی ہے ۔ اپنی پھوپھو کے ساتھ دوستی ہے اُس کے ساتھ بہت باتیں کرتی ہے اور مجھ سے زیادہ اپنی دادی کے ساتھ باتیں کرتی ہے

ماشاء اللہ پڑھائی میں اور کھیلوں میں بھی انعامات لیتی ہے

زکریا نے مِشَیل کو ای میل اکاؤنٹ بنا دیا تو سال بھر مجھے ای میلز بھیجتی رہی

اسلام آباد 3 بار آئی ہے ۔ جب یہاں آتی ہے تو زیادہ وقت سیر و سیاحت میں ہی گذرتا ہے ۔ ہمارے ساتھ بہت خوش رہتی ہے