لیاقت علی خان پر بہتان ۔ اور حقیقت ۔ قسط ۔ 1

ایک حقیقت جو شاید دورِ حاضر کی پاکستانی نسل کے علم میں نہ ہو یہ ہے کہ محمد علی جوہر اور ساتھیوں کی کاوش سے مسلم لیگ 1906ء میں وقوع پذیر ہوئی اور علامہ محمد اقبال اور نوابزادہ لیاقت علی خان کی مسلسل محنت و کوشش نے اِسے پورے ہندوستان کے شہر شہر قصبے قصبے میں پہنچایا ۔ اسی لئے قائد اعظم کے علاوہ نوابزادہ لیاقت علی کو بھی معمار پاکستان کہا جاتا تھا اور اب بھی کہنا چاہیئے
کچھ لوگوں کا مؤقف بے بنیاد ہے کہ شہدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی کو نوابزادہ کہنا بلاجواز ہے ۔ شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کو پنجاب کے علاقہ کرنال کے ایک زمیندار اور نواب رُستم علی خان کا بیٹا ہونے کی وجہ سے نوابزادہ کہا جاتا تھا
اگر شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان اداروں کو اپنے مفاد میں استعمال کر رہے ہوتے تو کرنال(بھارت کے حصہ میں آنے والا پنجاب) میں اپنی چھوڑی ہوئی زمینوں کے عِوض کم از کم مساوی زمین پاکستان کے حصہ میں آنے والے پنجاب میں حاصل کر لیتے اور اُن کی مالی حالت ایسی نہ ہوتی کہ جب اُن کی میّت سامنے پڑی تھی تو تجہیز و تکفین اور سوئم تک کے کھانے کیلئے احباب کو مالی امداد مہیا کرنا پڑی اور اس کے بعد ان کے بیوی بچوں کے نان و نُفقہ اور دونوں بیٹوں کی تعلیم جاری رکھنے کیلئے اُن کی بیگم رعنا لیاقت علی جو ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں کو ملازمت دی گئی جو بڑے بیٹے کے تعلیم پوری کرتے ہی بیگم رعنا لیاقت علی نے چھوڑ دی ۔ کبھی کسی نے شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی بیگم یا بچوں کا اپنی بڑھائی کے سلسلہ میں بیان پڑھا ؟
نہ تو اُردو کو قومی زبان بنانے کا نوابزادہ لیاقت علی نے قائداعظم سے کہا اور نہ یہ فیصلہ قائد اعظم نے کیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بننے سے قبل بنگال سے مسلم لیگی رہنماؤں کے وفد نے تجویز دی کہ اُردو ہی ایک زبان ہے جو پانچوں صوبوں کی اکثریت سمجھتی ہے اور مُلک کو متحد رکھ سکتی ہے لیکن قائد اعظم نے اُردو زبان کو قومی زبان قرار نہ دیا
پھر پاکستان بننے کے بعد 25 فروری 1948ء کو کراچی میں شروع ہونے والے دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں اُردو کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ ہوا

تعلیم بے کار اگر یقین نہ ہو

ہمارے بچپن کے زمانہ میں تعلیم سے زیادہ تربیت پر زور دیا جاتا تھا ۔ والدین اپنی اولاد کو تعلیم نہ دِلوا سکیں لیکن اُن کی تربیت پر توجہ دیتے تھے ۔ جب بھی تعلیم کا ذکر کیا جاتا تو ساتھ تربیت بھی کہا جاتا تھا یعنی تعلیم و تربیت ۔ تعلیم الله کی صفات بتاتی ہے اور تربیت الله میں یقین ہیدا کرتی ہے ۔ فی زمانہ تعلیم پر بہت زور ہے اور تربیت کی طرف بہت کم لوگ توجہ دیتے ہیں

میں نے کالج کے زمانہ میں ایک کہانی پڑھی تھی کہ ایک دیہاتی روزانہ فجر کے وقت گاؤں سے روانہ ہو کر شہر جاتا اور واپس مغرب کے وقت پہنچتا ۔ راستہ میں ایک ندی تھی جس کے پانی میں سے وہ گزر کر جاتا تھا ۔ کبھی ندی میں پانی زیادہ ہوتا تو وہ شہر نہ جا سکتا ۔ ندی سے پہلے راستہ میں گاؤں کی مسجد تھی ۔ فجر کے وقت جاتے ہوئے یا مغرب کے وقت واپسی پر امام مسجد سے آمنا سامنا ہو جاتا تو امام مسجد اُسے کہتے ” کبھی الله کے گھر بھی آ جایا کر ۔ یہاں سب کچھ ملتا ہے“۔

ایک صبح جب وہ جاتے ہوئے ندی کے کنارے پہنچا تو ندی چڑھی ہوئی تھی ۔ اُسے واپس آنا پڑا ۔ وہ سیدھا امام مسجد کے پاس گیا اور کہا ” مولوی صاحب آپ نے کہا تھا کہ سب کچھ ملتا ہے ۔ جب ندی میں پانی زیادہ ہوتا ہے تو میں شہر مزدوری کرنے نہیں جا سکتا ۔ میری پریشانی دُور ہو جائے تو میں روزانہ مسجد آیا کروں گا“۔
امام مسجد نے کہا ” بسمِ الله کہہ کر ندی میں کود جاؤ ۔ الله پار لگانے والا ہے“۔
اتفاق کی بات کہ اگلے روز پھر ندی میں طغیانی تھی ۔ اُس نے بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ پڑھا ۔ آنکھیں بند کر کے ندی میں کود گیا اور تیرتا ہوا دوسرے کنارے پر جا پہنچا ۔ دِل میں کہنے لگا کہ میں بیوقوف ہوں پہلے مولوی صاحب کے پاس نہ گیا ۔ وہ باقاعدگی سے فجر ۔ مغرب اور عشاء کی نمازیں گاؤں کی مسجد میں اور ظہر اور عصر کی شہر میں پڑھنے لگا

ایک دن وہ شہر سے واپس آ رہا تھا کہ گاؤں کے قریب امام مسجد سے ملاقات ہو گئی ۔ دونوں اکٹھے چلتے ندی کے کنارے پہنچے تو ندی چڑھی ہوئی دیکھ کر امام مسجد رُک گئے اور بولے اب کیا ہو گا ۔ گھر کیسے جائیں گے
وہ بولا ” مولوی صاحب ۔ آپ نے خود ہی تو مجھے طریقہ بتایا تھا ۔ اُس نے بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ پڑھا اور ندی میں کود گیا ۔ امام مسجد بھی مجبوراً بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ کہہ کر ندی میں کود گئے اور غوطے کھانے لگے ۔ مزدور نے امام مسجد کو غوطے کھاتے دیکھا تو اپنے کندھوں پر اُٹھا لیا اور ندی کے پار لے گیا ۔ کندھوں سے اُتار کر پوچھا ” مولوی صاحب کیا ہوا ؟“
امام مسجد جو شرمندہ تھے بولے ” بات یہ ہے کہ میرے پاس عِلم ہے ۔ میں معنی پر غور کرتا رہا ۔ تمہارے پاس عِلم نہیں مگر الله نے تُجھے یقین کی دولت سے مالا مال کیا ہے“۔

جب اللہ چاہے

یہ واقعہ ایک رسالے میں 2 دہائیاں قبل پڑھا تھا ۔ بطور سچا واقعہ لکھا تھا
رات کے ساڑھے 11 بجے تھے ۔ تیز طوفانی بارش تھی ایسے میں ایک شاہراہ کے کسی ویران حصّے میں ایک کار خراب ہوگئی ۔ اسے ایک ادھڑ عمر خاتون چلا رہی تھی جو اکیلی تھی ۔ وہ خاتون کار سے باہر نکل کر شاہراہ کے کنارے کھڑی ہوگئی تا کہ کسی گذرنے والی گاڑی سے مدد لے سکے ۔

اتفاق سے ایک البیلا جوان اپنی عمدہ نئی کار چلاتے جا رہا تھا کہ اس کی نظر اس بھیگی ہوئی خاتون پر پڑی ۔ نجانے وہ کیوں اپنی عادت کے خلاف رُک گیا اور تیز بارش اور گاڑی گندی ہونے کی پروا کئے بغیر باہر نکل کر خاتون کا بیگ اٹھایا اور خاتون کو اپنی کار میں بٹھا کر چل پڑا ۔ آبادی میں پہنچ کر اسے ٹیکسی پر بٹھا کر رخصت کیا ۔ خاتون بہت پریشان اور جلدی میں تھی ۔ اس جوان کا پتہ نوٹ کیا اور شکریہ کہہ کر رخصت ہوئی ۔

ہفتہ عشرہ بعد اس جوان کے گھر کی گھنٹی بجی ۔ باہر نکلا تو ایک کوریئر کا ٹرک کھڑا تھا اس میں سے ایک شخص نکلا اور کہا “جناب آپ کا ٹی وی “۔ جوان حیران ہو ہی رہا تھا کہ کوریئر والے نے اسے ایک خط دیا ۔ جلدی سے کھولا ۔ لکھا تھا ” میں آپ کی بہت مشکور ہوں ۔ آپ نے آدھی رات کے وقت شاہراہ پر میری مدد کی جس کے باعث میں اپنے قریب المرگ خاوند کے پاس اس کی زندگی میں پہنچ گئی اور اس کی آخری باتیں سن لیں ۔ میں آپ کی ہمیشہ مشکور رہوں گی ۔ اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے اور آپ دوسروں کی بے لوث خدمت کرتے رہیں ۔ آمین ۔ آپ کی ممنون ۔ بیگم ۔ ۔ ۔ “

ہم بھی ترقی یاقتہ ہو گئے

چھوڑ کر کتاب ہم نے Mobile Phone تھام لئے
گھٹتی رہی عمر ہماری اور ہم post کرتے رہے
بھیج کر ہم message خود کو دِیندار سمجھتے رہے
غافل رہے قرآن سے اور حدیث share کرتے رہے
آتی رہی پانچوں وقت مسجد سے اذان کی آواز
ہم Facebook پر شام و برما کے ظُلم share کرتے رہے

محبت کا صلہ

جب کسی سے آپ بے پناہ محبت کریں
ضروری نہیں کہ وہ آپ سے محبت کرنے لگے
محبت کے بدلے میں محبت کی امید نہ رکھیئے
اس کے دل میں محبت جاگنے کا انتظار کیجئے
اس کے دل میں نہ بھی جاگے تو کم از کم آپ کے دل میں تو پیدا ہوئی
اور یہی آپ کی محبت کا صلہ ہے

آج کا دن اہم کیوں ؟

آج 24 اکتوبر ہے ۔ يہ دن کيوں اہم ہے ؟ اس کا پس منظر اور پيش منظر ميں اِن شاء اللہ ايک ہفتہ تک بيان کروں گا آج کی تحرير صرف 24 اکتوبر کے حوالے سے

ٹھیک آج سے 64 سال قبل جموں کشمیر کے مسلمانوں نے اپنے وطن پر بھارت کے طاقت کے زور پر ناجائز قبضہ کے خلاف اعلانِ جہاد کیا جو کہ ایک لاکھ سے زائد جانوں کی قربانی دینے کے باوجود آج تک جاری ہے ۔ انشاء اللہ یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی

کہتے ہیں ہر دم یہ جموں کشمیر کے مسلماں
اے وطن تیری آزادی تک چین سے نہ بیٹھیں گے

اعلانِ جہاد ۔ بھارتی فوج اور برطانوی فضائیہ کے حملے

راشٹريہ سيوک سنگ ۔ ہندو مہاسبھا اور اکالی دَل نے ضلع جموں کے مضافات اور دو دوسرے ہندو اکثريتی اضلاع ميں مسلمانوں کا قتلِ عام اور اُن کی فصلوں اور گھروں کو جلانا تو پہلے ہی شروع کر رکھا تھا ۔ اکتوبر 1947ء کے شروع ہی ميں اُن کی طرف سے يہ اعلان بر سرِ عام کيا جانے لگا کہ “مُسلے [مسلمان] عيد پر جانوروں کی قربانی کرتے ہيں ۔ ہم اس عيد پر مُسلوں کی قربانی کريں گے”۔ چنانچہ جمعہ 24 اکتوبر 1947ء کو جس دن سعودی عرب میں حج ہو رہا تھا جموں کشمیر کے مسلمانوں نے اپنے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جہاد کا اعلان کر دیا اور مسلح تحریک آزادی شروع ہو گئی ۔ مجاہدین نے ایک ماہ میں مظفرآباد ۔ میرپور ۔ کوٹلی اور بھمبر آزاد کرا کے جموں میں کٹھوعہ اور کشمیر میں سرینگر اور پونچھ کی طرف پیشقدمی شروع کر دی ۔ یہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے چوتھی مگر پہلی مسلح تحریک تھی

ان آزادی کے متوالوں کا مقابلہ شروع میں تو مہاراجہ ہری سنگھ کی ڈوگرہ فوج سے تھا مگر اکتوبر کے آخر میں بھارتی فوج بھی ان کے مقابلے پر آ گئی اور ہندوستان کے برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے فضائی حملوں کے لئے برطانوی فضائیہ کو برما سے جموں کشمیر کے محاذ پر منتقل کروا دیا ۔ برطانوی فضائیہ کی پوری کوشش تھی کہ کشمير کو پاکستان سے ملانے والا کوہالہ پُل توڑ دیا جائے لیکن اللہ سُبْحَانہُ وَ تعالٰی کو یہ منظور نہ ہوا اور بمباری کے باوجود پُل محفوظ رہا

اس جنگ آزادی میں حصہ لینے والے کچھ مسلمان دوسری جنگ عظیم میں یا اس کے بعد برطانوی یا مہاراجہ کی فوج میں رہ چکے تھے اور جنگ کے فن سے واقف تھے ۔ باقی عام شہری تھے ۔ ان کے پاس زیادہ تر پہلی جنگ عظیم میں استعمال ہونے والی طرّے دار بندوقیں تھیں اور دوسری جنگ عظیم کے بچے ہوئے ہینڈ گرنیڈ تھے ۔ توپیں وغیرہ کچھ نہ تھا جبکہ مقابلہ میں بھارتی فوج ہر قسم کے اسلحہ سے لیس تھی اور برطانوی فضائیہ نے بھی اس کی بھرپور مدد کی

بے سروسامانی کی حالت میں صرف اللہ پر بھروسہ کر کے شہادت کی تمنا دل میں لئے آزادی کے متوالے آگے بڑھنے لگے ۔ وزیرستان کے قبائلیوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کی امداد کے لئے جہاد کا اعلان کر دیا اور ان کے لشکر جہاد میں حصہ لینے کے لئے جموں کشمیر کے آزاد کرائے گئے علاقہ ميں پہنچنا شروع ہوگئے ۔ چند پاکستانی فوجی بھی انفرادی طور پر جہاد میں شامل ہو گئے ۔ اللہ کی نُصرت شامل حال ہوئی اور ڈوگرہ اور بھارتی فوجیں پسپا ہوتی گئيں یہاں تک کہ مجاہدین پونچھ کے کافی علاقہ کو آزاد کرا کے پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف پیشقدمی کرتے ہوئے کٹھوعہ کے قریب پہنچ گئے

نغمہ ميرے وطن
پاکستان ريڈيو سے روزانہ سُنايا جانے والا نغمہ جو پچھلے 10 سال سے نہيں سُنايا جا رہا ۔ سُنئے پہلی اور اصل حالت ميں [The original version]جموں کشمير کے مناظر کے ساتھ

کرِيو مَنز جِرگاز جائے چمنو
ستم شعار سے تجھ کو چھڑائیں گے اک دن
میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن