80 بار دیکھا گیا 195 بار دیکھا گیا

کاش کسی کے دل میں ۔ ۔ ۔

چاہتا ہوں‌کہ اچھی بات کسی کوسکھا سکوں
کاش کسی کے دِل میں اُتر جائے میری بات

یہی مُلک پاکستان تھا
دُنیا بھی یہی تھی
لیکن ایک دور تھا جب ۔ ۔ ۔
ہم سب پاکستانی تھے
ہم سب بھائی بھائی تھے
ہم سب کو اِس مملکتِ خدا داد کی بہتری کی فِکر تھی
یعنی
ہم سب کو ہم سب کی کی فکر تھی

پھر رُت بدلی
ہم نے انگلِش مِیڈِیم سکولوں میں پڑھنا شروع کر دیا
ہم اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھنے لگے
ہم نے محنت کی جگہ حصولِ مایہ کو اپنا نصب العین بنایا
ہم پرانی خاندانی قدروں کی بجائے کوٹھی کار اور بدیشی (غیرمُلکی) لباس کو ترقی کا نشان سمجھنے لگے

نتیجہ
یہاں کلِک کر کے اُس دور کے سربراہِ حکومت اور آج کے سربراہِ حکومت میں فرق آپ خود تلاش کیجئے
کاش کسی کے دِل میں اُتر جائے میری بات

367 بار دیکھا گیا

کیا پردہ صرف مسلمان عورتیں کرتی ہیں ؟

Jew Women
متصل تصویر دیکھ کر اگر آپ سمجھیں کہ یہ مسلمان ہیں تو آپ غلطی پر ہیں

یہ حقیقت ہے کہ قرآن کے علاوہ اللہ کی اُتاری ہر کتاب توریت ہو یا انجیل یا زبور سب میں پردہ کا حُکم موجود تھا ۔ جس طرح آج مسلمانوں کی بڑی تعداد دنیا کی رنگینیوں میں ڈوب کر پردے کو تَج چکی ہے اسی طرح پہلے والے اہلِ کتاب نے بھی کیا

اُوپر والی تصویر میں 2 مرد اور 2 عورتیں اور نچلی تصویر میں 2 عورتیں یہودی ہیں ۔ یہ مسلمانوں کی طرح پردہ کے پابند ہیں اور مسلمانوں ہی کی طرح اپنی عورتوں کو درمیان میں بٹھایا ہے کہ کوئی غیر مرد قریب نہ آنے پائے ۔ یہ پردے کی پابند یہودی Jew women-2عورتیں ماضی سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ آجکل کے جدید زمانے کی عورتیں ہیں جو پردے پر فخر محسوس کرتی ہیں

بہت سے یہودی اپنے خاندان کی ہر عمر کی لڑکیوں کو اسی طرح مکمل پردہ کرانے لگے ہیں سوائے اس کے کہ چھوٹی بچیاں چہرہ نہیں ڈھانپتیں ۔ اسرائیل میں بھی ایسی پردے والی یہودی عورتیں کافی تعداد میں ہیں ۔ اِن یہودی عورتوں کا اعتقاد ہے کہ عورت کے جسم کو غیر مردوں کی نظروں سے بچانا ضروری ہے چنانچہ وہ اپنے پورے جسم کو اچھی طرح سے اس طرح ڈھانپتی ہیں کے جسم کے خد و خال بالکل ظاہر نہ ہونے پائیں

مندرجہ ذیل ربط کی دوسری سطر پر کلِک کر ایک وڈیو دیکھیئے جس میں دکھایا گیا ہے کہ پردہ کرنے والی یہودی عورتیں گلی بازار میں کس طرح جاتی ہیں ۔ عورت کے ساتھ 2 چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو ننگے سر نہیں ہیں ۔ یہودی مذہب کے مطابق اُنہیں ٹوپیاں پہنائی گئی ہیں
//www.dailymotion.com/embed/video/xzfb69
The new ultra-Orthodox Jewish woman by old-mcdonald

یہودی عورتوں کا یہ لباس جو مسلمانوں کے برقعہ اور نقاب کی مانند ہے فرُمّکا (frumka) کہلاتا ہے جو فرُمّ یعنی عابد (devotee) اور لفظ ” بُرقعہ“ سے بنا ہے ۔ ربی داؤد بنِظری (Rabbi David Benizri) کے مطابق یہ تحریک یہودیوں میں 6 یا 7 سال قبل 100 عورتوں نے شروع کی جو مقبول ہونا شروع ہوئی اور اب ایسی عورتوں کی تعداد 30000 سے بڑھ چکی ہے ۔ ربی داؤد بنِظری مزید کہتے ہیں کہ عورت کی حیاء کی بگڑتی صورتِ حال نے یہودی عورتوں کے ذہنوں میں بیداری اور اپنے جسم کی حفاظت کا جذبہ پیدا کیا

ایک 22 سالہ یہودی عورت ساری رَوتھبرگ (Saari Rothberg)۔ نے پردے کے فوائد بیان کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہمارے جسم ہمارے خاوندوں کی امانت ہیں انہیں غیر کیوں
دیکھیں
یہاں کلِک کر کے اس سلسلے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں

اب مسئلہ صرف یہ ہے مسلم خواتین اپنے دین کی پیروی کرتے ہوئے جسم کو اچھی طرح ڈھانپیں تو دنیا کے نام نہاد ترقی پسند اور آزادی کے علمبردار اُنہیں ” انتہاء پسند“ یا ”مجبور و مظلوم“ قرار دیتے ہیں اور اُنہیں اس پردے سے آزاد کرانے کیلئے آسمان سر پر اُٹھا لیا جاتا ہے لیکن جب یہودی عورتیں پردہ کریں تو اسے اُن کی خوبی اور اپنے مذہب سے لگاؤ قرار دیا جاتا ہے

یہی نہیں کچھ ممالک نے قانون بنا کر مُسلم عورتوں کیلئے پردہ کرنا ممنوع قراد دے دیا ہے اور یورپ کے باقی ممالک اور کئی امریکی ریاستوں میں پردہ میں مُسلم خاتون نظر آئے تو اُسے تنگ اور پریشان کیا جاتا ہے

یہی اصل چہرہ ہے انسانی حقوق کی علمبردار آزاد خیال دنیا کا

226 بار دیکھا گیا 184 بار دیکھا گیا

مٹیریل کہاں سے آتا ہے ؟

میں نے یکم مئی 1963ء کو پاکستان آرڈننس فیکٹریز میں ملازمت شروع کی ۔ پہلے 3 دن ساری فیکٹریوں کا تعارفی دورہ کرایا گیا ۔ پھر مطالعاتی اور تربیتی پروگرام کیلئے 6 ماہ مختلف ورکشاپس میں بھیجا گیا اور 2 ماہ کیلئے ڈیزائن اینڈ ڈرائینگ آفس میں ۔ جنوری 1964ء میں میرا سمال آرمز گروپ میں مستقل طور پر تقرر ہوا ۔ (یہ فیکٹری اللہ کے کرم سے 1967ء میں میرے ہاتھوں ویپنز فیکٹری میں تبدیل ہوئی)۔ اُن دنوں سمال آرمز گروپ کے سربراہ ایک ورکس منیجر اور میرے سمیت 2 اسسٹنٹ ورکس منیجر ۔ 8 فورمین اور باقی ماتحت عملہ تھا ۔ 4 بڑی اور ایک چھوٹی ورکشاپس تھیں ۔ ان میں سے ایک بڑی ورکشاپ خالی تھی یعنی وہاں کوئی مشین وغیرہ نہ تھی ۔ انفیلڈ رائفل نمبر 4 مارک 2 کی پروڈکشن بند ہو جانے کے بعد کوئی کام نہیں ہو رہا تھا سوائے چند فالتو پرزوں کی تیاری کے جو انفیلڈ رائفل کیلئے بنائے جا رہے تھے

رائفل جی تھری کی پلاننگ ہو چکی تھی ۔ ڈویلوپمنٹ شروع ہونے والی تھی ۔ ایک بڑی ورکشاپ میں درآمد شدہ پرزوں سے رائفل جی تھری کی اسمبلی ہونا تھی اور اسی ورکشاپ کے دوسرے حصہ میں جی تھری بیرل کی ڈویلوپمنٹ شروع کرنا تھی ۔ مجھے اس ورکشاب کا انچارج بنا دیا گیا ۔ میرے باس (ورکس منیجر) 6 ماہ پلاننگ کیلئے جرمنی گذار کے آئے تھے لیکن کام شروع ہونے سے معلوم ہوا کہ اسمبلی کیلئے چند فکسچر نہ آرڈر کئے گئے اور نہ پی او ایف میں بنوائے گئے تھے جو میرے گلے پڑ گئے اور مجھے ایسا کوئی مستری نہ دیا گیا جو نیک نیّتی سے کام کرے ۔ خیر ۔ مرتا کیا نہ کرتا ۔ بھُگتنا پڑا ۔ یہ تو دیگ میں سے نمونے کے چند چاول ہیں ۔ اب آتے ہیں اصل موضوع ” مٹیرئل“ کی طرف

درآمد شدہ پرزوں سے اسمبلی کر نا 6 ماہ کا منصوبہ تھا لیکن دو ماہ بعد بیرل اور دوسرے پرزوں کی ڈویلوپمنٹ شروع کرنا تھی تاکہ جب درآمد شدہ پُرزے ختم ہو جائیں تو اپنے تیار کردہ پرزے رائفل بنانے کیلئے موجود ہوں
ابھی ایک ماہ گذرا تھا کہ میں نے اپنے باس سے کہا ”رائفل میں براہِ راست استعمال ہونے والے سب مٹیرئل تو آرڈر کئے جا رہے ہیں ۔ جو مٹیرئل استعمال ہوتے ہیں اور رائفل کا حصہ نہیں بنتے اُن کا کیا بند و بست ہے ؟“
اُنہوں نے ایک فورمین کا نام لے کر اُسے پوچھنے کا کہا ۔ میں اُس فور مین کے پاس گیا اور پوچھا
اُس نے جواب دیا ”سٹور سے”۔
میں کہا ”یہ سٹور میں کہاں سے آتے ہیں ؟ ان کی پلاننگ کون کرتا ہے ؟ آرڈر کون اور کب کرتا ہے ؟“
بولے ”نیوٹن بُوتھ نے منگوائے تھے جب فیکٹری بنی تھی“۔

نیوٹن بُوتھ کے بعد غلام فاروق آئے اُن کے بعد جنرل حاجی افتخار اور اب جنرل اُمراؤ خان تھے ۔ اس دوران کسی کے ذہن میں یہ بات کیوں نہ آئی ؟ یہ ایک بڑا سوال تھا
پچھلے ماہ کے کچھ تجربوں کے بعد منیجر صاحب سے مزید بات بیکار تھی ۔ کچھ دن بعد جنرل منیجر دورے پر آئے ۔ مجھ سے پوچھا ” کوئی مُشکل ؟“ اُن سے بھی وہی سوال پوچھ لیا جو منیجر صاحب سے پوچھا تھا ۔ خاموشی سے چلے گئے ۔ مجھے ڈویلوپمنٹ کے کام کے ساتھ رائفل جی تھری کے معاملات کیلئے ٹیکنکل چیف کے سیکریٹری کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی ۔ ایک دن مجھے میٹنگ میں بُلایا گیا ۔ میٹنگ ختم ہونے پر سب افسران چلے گئے ۔ مجھ سے ٹیکنیکل چیف نے حال احوال پوچھا تو میں نے اپنی پریشانی بتائی ۔ وہ ہنس کر کہنے لگے ”تم مین سٹور کے سربراہ کو مل کر مٹیرئل کی سپلائی کا موجودہ طریقہ کار معلوم کرو پھر محکمہ پرچیز میں جا کے اُن کا طریقہ کار دیکھو ۔ اس کے بعد اس سب کا م کے طریقہ کار کے متعلق ایک منصوبہ بنا کر براہِ راست مجھے دو ۔ معلومات حاصل کرنے میں کوئی دقعت ہو تو میرے پی اے سے مدد لینا“۔ پھر پی اے کو بُلا کر کہہ دیا ”سٹور اور پرچیز کے سربراہان کو بتا دیں کہ اجمل بھوپال اُن کے پاس آئیں گے“۔

پہلے ہی میں گھنٹہ دو گھنٹے روزانہ فالتو بیٹھتا تھا ۔ ایک اور ذمہ داری میرے سر پر آ پڑی تھی لیکن میں خوش تھا کہ مسئلہ حل ہونے کی راہ نکل آئی ۔ میں نے صبح 7 بجے سے رات 8 بجے تک روزانہ کام کر کے ایک ماہ کے اندر ایک مسؤدہ تیار کیا جس میں میٹیرئل کی پلاننگ ۔ مجاز افسر سے منظوری ۔ ٹینڈرنگ ۔ انتخاب کئے گئے مٹیریل کی ڈیمانڈ اور اُس کی منظورٰی ۔ آرڈرنگ ۔ وصولی ۔ سٹورنگ ۔ اور متعلقہ ورکشاپ کو اجراء سمیت تمام عوامل شامل کئے ۔ یہ مسؤدہ میں نے اگلی میٹنگ کے بعد ٹیکنکل چیف کے حوالے کر دیا

شاید دو ہفتے بعد سٹورز کے سربراہ کا ٹیلیفون آیا ۔ اُنہوں نے میرا شکریہ ادا کیا کہ میں نے اُن کا کام کر دیا اور آئیندہ میرے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ میں حیران تھا کہ میں نے کیا کر دیا ۔ میں نے کہا ” آپ کی بڑی نوازش اور مہربانی ہے ورنہ میں نے تو اپنی طرف سے آپ کی کوئی خدمت نہیں کی“۔ کچھ دن بعد سٹورز کے ایک افسر میرے پاس آئے اور مجھے ایک لمبی چوڑی نوٹیفیکشن دکھائی ۔ میں نے دیکھا کہ یہ من و عن وہ مسؤدہ ہے جو میں نے ٹیکنیکل چیف کو دیا تھا جسے پی او ایف بورڈ کی منظوری کے بعد نفاذ کیلئے جاری کر دیا گیا تھا ۔ میں نے اپنے اللہ کا شکر ادا کیا کہ مجھ ناچیز کو ملازمت کی ابتداء ہی میں ایسی کامیابی عطا فرمائی تھی ۔ میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تو وہ افسر کچھ پریشان ہوئے لیکن جلد سنبھل کر بولے ”واقعی اللہ آپ کے ساتھ ہے ۔ اس کام کا پچھلے 10 سالوں میں تجربہ کار لوگوں کو یاد نہ آیا اور آپ نے ایک سال میں انجام دے دیا ۔ آپ نے بہت اچھا طریقہ کار وضع کیا ہے ۔ جب کسی وضاحت کی ضرورت ہوئی تو میری مدد کیجئے گا“

وقت گذرتا گیا ۔ مئی 1976ء میں مجھے لبیا بطور ایڈوائزر حکومتِ لبیا بھیج دیا گیا ۔ مارچ 1983ء میں واپس پی او ایف کی ملازمت بطور پرنسپل ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ شروع کی ۔ ستمبر 1985ء میں اُس وقت کے چیئرمین نے ناراض ہو کر وہاں سے ہٹا کر جنرل منیجر ری آرگنائزیشن لگا دیا جو ایم آئی ایس کا حصہ تھا مگر ناکارہ (کھُڈا لائین) اسامی سمجھی جاتی تھی ۔ جن صاحب سے میں نے ٹیک اَوور کیا وہ دن بھر بیٹھے اخبار اور کتابیں پڑھتے رہتے تھے ۔ میں نے کام کا پوچھا تو بولے ”کوئی کام نہیں ہے ۔ کرسی آرام کیلئے ہے ۔ موج میلہ کرو“۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالیٰ نے میری رہنمائی فرمائی اور میں نے اپنے لئے کام پیدا کر لیا ۔ تمام سنیئر اسامیوں کے فرائض اور ذمہ داریوں کے مسؤدے تیار کرتا اور پی او ایف بورڈ کی منظوری کے بعد نوٹیفیکشنز کرواتا رہا ۔ یہ کام وقت کو پانی کی طرح غٹ غٹ پیتا تھا ۔ 2 سال میں ختم ہوا

پھر میں نے تجویز دی کہ اِنوَینٹری کو کمپیوٹرائز کیا جائے ۔ یہ تجویز آگے چل پڑی لیکن مجھے شامل کئے بغیر ۔ پہلے چیئرمین چلے گئے ۔ جب معاملہ نئے آنے والے چیئرمین کے پاس پہنچا تو انہوں نے ممبر پی او ایف بورڈ فار انڈسٹریل اینڈ کمرشل ریلیشنز ۔ متعلقہ محکموں یعنی سٹورز اور پرچیز کے سربراہان جو جنرل منیجر ہوتے ہیں اور تمام فیکٹریوں کی سربراہان جو ایم ڈی ہوتے ہیں کی مشترکہ میٹنگ بُلائی (اُن دنوں میں کسی محکمہ کا سربراہ نہیں تھا) ۔ میں دفتر میں بیٹھا تھا کہ ٹیلیفون آیا ۔ میرے پی اے نے بتایا چیئرمین آفس سے ٹیلیفون ہے ۔ بات کی تو ٹیلیفون کرنے والے نے اپنا تعارف کرائے بغیر کہا ”بھوپال صاحب ۔ چیئرمین صاحب آپ کو یاد کر رہے ہیں“۔ میں جا کر حسبِ معمول سٹاف آفیسر ٹُو چیئرمین کے دفتر میں پہنچا تو وہ دفتر میں نہیں تھے ۔ میں چیئرمین کے پرائیویٹ سیکریٹری کے پاس گیا ۔ وہ بولا ”چیئرمین کانفرنس روم میں ہیں ۔ وہاں سے کسی نے ٹیلیفون کیا ہو گا“۔ میں کانفرنس روم میں داخل ہوا تو وہاں سب بڑے لوگ بیٹھے تھے ۔ میں نے سلام کیا تو چیئرمین صاحب نے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ جب میں بیٹھ گیا تو اُنہوں نے سٹورز کے جنرل منیجر کی طرف اشارہ کیا ۔ وہ بولے ”جناب ۔ یہ موجودہ طریقہ کار آج سے 23 سال قبل بھوپال صاحب نے ہی وضع کیا تھا جو کامیابی سے چل رہا ہے ۔ اسلئے اِنوؒنٹری منیجمنٹ کی کمپیوٹرائزیشن کیلئے ان سے بہتر کوئی اور نہیں ہو سکتا ۔ میری درخواست ہے کہ پروجیکٹ ان کے ذمہ کیا جائے“۔ سو فیصلہ ہو گیا اور میں قادرِ مطلق کی کرم فرمائی سے ناکارہ سے پھر کار آمد آدمی بن گیا ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالیٰ کا فضل شاملِ حال ہوا اور میرے ہاتھوں پاکستان کا سب سے بڑا اور پہلا کمپیوٹرائزڈ اِنوینٹری منیجمنٹ سسٹم بن کر انسٹال بھی ہوا ۔ اسی سلسلے میں پاکستان کے دفاعی اداروں کے کئی سینئر افسران میرے شاگرد بنے اور واپس جا کر اپنے اداروں میں اس سسٹم کو ڈویلوپ کروایا ۔ ایک بریگیڈیئر صاحب میرے پی او ایف چھوڑنے کے 10 سال بعد اتفاقیہ طور پر ایک دفتر میں ملے اور مجھے اُستاذ محترم کہہ کر مخاطب کیا حالانکہ وہ سروس میں مجھ سے کم از کم 5 سال سنیئر تھے

قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الۡمُلۡکِ تُؤۡتِی الۡمُلۡکَ مَنۡ تَشَآءُ وَ تَنۡزِعُ الۡمُلۡکَ مِمَّنۡ تَشَآءُ ۫ وَ تُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ ؕ بِیَدِکَ الۡخَیۡرُ ؕ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ۔

اور کہیئے کہ اے اللہ (اے) بادشاہی کے مالک تو جس کو چاہے بادشاہی بخش دے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور جس کو چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے (اور) بیشک تو ہرچیز پر قادر ہے ۔ (سورۃ 3 ۔ آل عمران ۔ آیۃ 26) ۔

234 بار دیکھا گیا

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ نصیب یا قسمت

نصیب یا قسمت ایسی چیز یا طاقت نہیں ہے کہ اس کے سہارے یا انتظار میں بیٹھے رہیں
قسمت کو کوسنے سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا
قسمت جو کچھ بھی ہے وہ انسان کے اختیار میں نہیں ہے

ہاں ایک ایسی چیز ہے جو ہر انسان کے اپنے اختیار میں ہے اور اس سے اپنی قسمت کو سنوارا جا سکتا ہے
وہ ہے خلوصِ نیت اور محنت سے کام کرنا
آج ہی سے لگن اور محنت سے کام شروع کیجئے

اِن شاء اللہ قسمت خود آ کر آپ کے قدم چُومے گی

یہاں کلک کر کے پڑھیئے ” How the nations end ? “

431 بار دیکھا گیا

اِنَّا لِلہِ و اِنَّا اِلَہِ راجِعُون

میں اپنے ماضی میں اپنی یادداشت کو چلاتا دُوربہت دُور چلا جاتا ہوں ۔ مجھے 1946ء تک کی بھی اہم باتیں یا واقعات یاد آ جاتے ہیں ۔ لیکن اِن میں وہ دن نظر نہیں آتا جب ہم دوست بنے تھے ۔ بس اتنا مجھے یاد ہے کہ ہم چھوٹے بچے تھے جب وہ اپنی والدہ (میری پھّوپھو) کی وفات کے بعد اپنی 2 بڑی بہنوں کے ساتھ ہمارے ہاں رہنے لگا تھا اور ہماری دوستی شروع ہو ئی تھی
وہ مجھ سے 10 ماہ بڑا تھا ۔ ہم اکٹھے کھیلتے اور ہنسا کرتے ۔ کبھی کبھی تو ہنستے ہنستے بُرا حال ہو جاتا تھا

ہماری دوستی اتنی گہری تھی کہ پچھلی 7 دہائیوں میں جہاں کہیں بھی رہے ہم ایک دوسرے سے رابطے میں رہے ۔ ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں ۔ زندگی کے نشیب و فراز اور نامساعد حالات ہماری دوستی کا کچھ نہ بگاڑ سکے ۔ ہمارا نہ کبھی جھگڑا ہوا نہ ہم کبھی آپس میں ناراض ہوئے

شادی کے بعد اُس نے کراچی میں کاروبار شروع کیا جو چل پڑا ۔ اُس کی 2 بیٹیاں تھیں جو جامعہ کراچی میں پڑھتی تھیں جب 1990ء کی دہائی میں ایم کیو ایم کے حق پرستوں نے کراچی کی زمین اُس کے خاندان کیلئے تنگ کر دی ۔ وہ جوان بیٹیوں کی عزت محفوظ کرنے کی خاطر بیوی 2 بیٹیوں اور 2 بیٹوں کو اپنی کار میں بٹھا کر چلاتا ہوا 3 دن میں لاہور پہنچا جہاں اُسے پھر الف بے سے آغاز کرنا پڑا ۔ میاں بیوی ہر قسم کا چھوٹا موٹا کام کرتے رہے ۔ بیٹیاں بیٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے رہے ۔ اُس دور میں بھی میں نے اُسے ہمیشہ مسکراتے دیکھا ۔ چار پانچ سال میں معاشی پہیئہ چل پڑا تو بچوں کی شادیاں کیں

وہ متعدد بار معاشی چیرہ دستیوں کا نشانہ بنا مگر نہائت بُرے وقت میں بھی اُس نے الحمدللہ ہی کہا ۔ زندگی میں 2 بار اُس نے مجھے صرف اتنا کہا ”میں نے ماموں جی (میرے والد) کا کہا نہ مان کر زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی تھی”۔
(اگست 1947ء سے کچھ دن قبل وہ تینوں بہن بھائی اپنی بھابھی کو ملنے سیالکوٹ گئے تھے ۔ اُن کے صرف ایک بھائی تھے جو سب بہن بھائیوں سے بڑے تھے ۔ 3 بڑی بہنیں تھیں جن کی شادیاں والدہ کی زندگی میں ہو گئی تھیں ۔ بھائی ہندوستان سے باہر کہیں کاروبار کرتے تھے ۔ اُن کے ہمارے ہاں سے جانے کے بعد ہمارے شہر سمیت ہندوستان میں قتل و غارت گری شروع ہو گئی اور وہ واپس ہمارے ہاں نہ آ سکے ۔ 1947ء کے آخر میں ہم ہجرت کر کے پاکستان پہنچے تو راولپنڈی میں رہائش اختیار کی ۔ کچھ سال والد صاحب روزگار کی تگ و دو میں رہے ۔ جب کاروبار چل پڑا تو والد صاحب نے سیالکوٹ جا کر اُس کی بڑی 2 بہنوں کی شادیاں کرائیں اور اُسے اپنے ساتھ راولپنڈی لے آئے تھے ۔ مگر اس کے دوستوں نے اُسے ٹکنے نہ دیا اور کچھ ماہ رہ کر وہ واپس چلا گیا تھا)

لگ بھگ 70 سالہ دوستی اُسے نہ روک سکی اور 5 اکتوبر بروز اتوار یعنی عید الاضحےٰ سے ایک دن قبل وہ اس دارِ فانی سے رُخصت ہو گیا
اِنَّا لِلہِ و اِنَّا اِلَہِ راجِعُون